79

ہیجان خیز سیاست

وطن عزیز کے علاوہ کیا دنیا میںکوئی ایسا ملک ہے جہاں تیس برسوں سے مسلسل ہیجان خیز سیاست ہو رہی ہو اگرایسا کوئی ملک ہوتا تو عالمی میڈیا میں اسکا ذکر کہیں نہ کہیں ضرور ہوتااس ضمن میں افغانستان‘ عراق اور شام کے نام لئے جا سکتے ہیں مگر یہ تینوں ملک حالت جنگ میں ہیں اور امریکہ ان میں براہ راست مقامی طاقتوں سے الجھا ہوا ہے اپنے ملک کے بارے میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بارہ برس تک یہ جنگ دہشت گردی میں ملوث ہونیکی وجہ سے عدم استحکام کا شکار رہا یہ توجیہہ اسلئے درست نہیں کہ انیس سو نوے کی دہائی میں اٹھاون ٹو بی کے ذریعے چار مرتبہ منتخب عوامی حکومتوں کو برخواست کر کے لوگوں کو سیاسی دھڑوں میں تقسیم کیا گیا اسکے نتیجے میں مبارزت اور محاذ آرائی کے جس ماحول نے جنم لیا اسکے اثرات آج تک باقی ہیں رہی سہی کسر جنرل مشرف نے جنگ کارگل برپا کر کے پوری کردی اس مہم جوئی کے بعد بھارت نے پاکستان کے ایک دہشت گرد ریاست ہونیکا مقدمہ مغربی ممالک کے سامنے پیش کیا اسے توقعات سے زیادہ کامیابی حاصل ہوئی وہ دن اور آج کا دن یہ داغ ایک بھاری جانی اور مالی قیمت ادا کرنیکے باوجود ہمارے دامن پر لگا ہوا ہے جنرل مشرف کے آٹھ سالہ ہیجان خیز دور کی اصل وجہ جنگ دہشت گردی نہ تھی بلکہ انکا لہراتا ہوا مکہ تھا جسکا استعمال انہوں نے دل کھول کر کیا کبھی نئی دہلی جا کر بھارتی اخبار نویسوں کو جنگ و امن کے فلسفوں پر بھاشن دئے تو کبھی ایک ٹیلیفون کال کے جواب میں پورا ملک اسوقت کے امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کی جھولی میں ڈال دیا انکی اس سخاوت اور دریا دلی کے سائے آج بھی ہمارے سروں پر منڈلا رہے ہیں۔

جنرل صاحب اکثر ٹیلیویژن سکرین پرمحفل جما کر دو تین درجن ایگزیکٹو آرڈر نافذ کرکے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا کرتے تھے کوئی باز پرس کرنیوالا تو تھا نہیں بڑھتے بڑھتے انکا ہاتھ چیف جسٹس افتخار چوہدری کے گریبان تک جا پہنچا اسکے بعد کالے کوٹوں کی تحریک برپا ہوئی جج اور جرنیل کا یہ تکرارو تصادم ہیجان خیز ہونے سے زیادہ ولولہ انگیز تھا جنرل صاحب کی رخصتی کے بعد زرداری صاحب کے جوں توں کر کے گزرنے والے پانچ سال میمو گیٹ کے اس سکینڈل کی نظر ہوئے جسمیں ہم نے ایک سابق وزیر اعظم انکے بھائی اور دو حاضر سروس جرنیلوں کو عدالت عظمیٰ میں صدر مملکت کے خلاف گواہیاں دیتے ہوے دیکھا اس اعصاب شکن دور کے بعد نواز شریف کے تیسرے دور حکمرانی نے تو سقوط ڈھاکہ اورذولفقار علی بھٹوکے عدالتی قتل کی ہیجان خیزی کو بھی پس پشت ڈال دیا خان صاحب نے اگست 2015 میں شاہراہ دستور کے سامنے کنٹینر پر کھڑے ہو کر ایسی دبنگ انٹری ڈالی کہ لوگوں کے اوسان ابھی تک بحال نہیں ہوئے اس دوران دو برس تک نحیف و نزار ریاست پاکستان کے دشت و دمن میں پاناما پاناما ہوتا رہا آس پاس کے ممالک مشرق سے نکلتے ہوئے سورج کی سنہری کرنوں کی روشنی میں ایک جہان تازہ کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے اور ہمارے درجن بھر نامی گرامی کالم نگاروں نے دو سالوں میں ایک وزیر اعظم کے خلاف دو دو سو کالم لکھ کر وہ داد شجاعت وصول کی جسکی گونج ابھی تک فضاﺅں میں باقی ہے۔

 اس وزیر اعظم کے پابند سلاسل ہو جانے کے باوجود انتقام کی آگ سرد ہونیکا نام نہیں لے رہی یوں لگتا ہے کہ کاتبان تقدیر ملکی سلامتی سے زیادہ اقتدار کے متلاشی حریفوں کو خاک چٹانے میںدلچسپی رکھتے ہیںسرحد پار کے دشمنوں سے بات بنائی جا سکتی ہے اور ایسا کر کے دکھا بھی دیا گیا ہے بھارت اگرکرتار پور راہداری کے مذاکرات نئی دہلی میں نہیں کرنا چاہتا تو اسے واہگہ باڑدر پر تو آنے پر راضی کیا جا سکتا ہے نریندر مودی اگر اپنی حلف وفاداری کی تقریب میں ہمارے نئے وزیر اعظم کو مدعو نہیں کرتاتو نہ کرے اسکے ساتھ بشکیک میں مصافحے کا اعزازو افتخار تو حاصل کیا جا سکتا ہے۔القصہ مختصر خان صاحب کی وزارت عظمیٰ کا پہلا سال مکمل ہونے کے بعد اپنے پیچھے یہ سوال چھوڑ گیا ہے کہ گئے دنوں کے کنٹینر اور پاناما والے شب و روز زیادہ ہیجان خیز تھے یا بیتے ہوئے سال میں انتقام کے ا لاﺅ کی تپش زیادہ تیز تھی آج کل یا پرسوں کا اخبار اٹھا کر دیکھیں تو ایسی ہنگامہ خیزی نظر آتی ہے کہ سرخیاں تک نہیں پڑھی جا سکتیں تین عدد محترمائیں ایک نہ ختم ہونیوالے تکرار وتصادم میں الجھی ہوئی ہیں مریم صفدر صاحبہ نے ہفتے کے دن ماڈل ٹاﺅن میں پریس کانفرنس کر کے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے احساس گناہ کی جو ویڈیو دکھائی ہے کیا اسکا تصور بھارت ‘ بنگلہ دیش ‘ سری لنکا حتیٰ کہ افغانستان میں بھی کیا جا سکتا ہے سیاسی پیکارو فشار اپنی جگہ‘ ہو سکتا ہے کہ بنگلہ دیش میں سیاسی حریفوں کے ساتھ اس سے بھی بد تر سلوک کیا جا تا ہو مگر وہاں اس قسم کی ہیجان خیزی فلموں میں تو دکھائی جاسکتی ہے۔

 سیاست کے میدان میںبرپا نہیں کی جاسکتی اس فن میںجو ید طولیٰ ہم رکھتے ہیں اسکی نظیر پوری دنیا میں ڈھونڈنی مشکل ہے مریم صاحبہ سے پہلے اسی قسم کے آڈیو اور ویڈیو کلپس بے نظیر بھٹو تک بھی پہنچائے گئے تھے اس طرح کے حربے یا تو حریف کو شہ مات دے دیتے ہیں اور یا پھر بازی الٹ جاتی ہے اسے do or die والا لمحہ اسلئے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ڈرامہ سیریل اس ایپیسوڈ کے بعد بھی جاری رہیگی زیادہ سے زیادہ اسے اس سنسنی خیز قسط کا ایسااختتام کہا جا سکتا ہے کہ جہاں فریم فریز ہو گا اور تماشائی حیران و ششدر رہ جائیں گے کہ اب اسکے بعد کیا ہوگا مریم صفدر صاحبہ یا تو اب اپنی ضمانت ضبط کروا کر والد محترم کی طرح پا بند سلاسل ہو جائیں گی اور یا پھر میاں صاحب ایک بڑے ہجوم کی قیادت کرتے ہوے رائے ونڈ جا پہنچیں گے ان دونوں صورتوں کی قانونی نظیر کیونکہ ہماری عدالتی تاریخ میں پہلے سے موجود ہے اسلئے ان میں سے کسی کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا‘ ان میں سے ایک آصف علی زرداری بمقابلہ ریاست پاکستان ہے جسمیں عدالت عظمیٰ نے لکھا تھاکہ ” آڈیو ٹیپ اور اسکے ٹرانسکرپٹ سے رجوع کرنیکی اسلئے ضرورت نہیں کہ ایسے کئی شواہد ہمارے علم میں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ فیصلہ ناقص تھاہم قائل ہو چکے ہیں کہ ٹرائل فیئر نہ تھا اسلئے احتساب بنچ کی اپیل خارج کی جاتی ہے“ اب اسی طرح کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج ارشد ملک کی ویڈیو کے منظر عام پر آنیکے بعد میاں صاحب کے وکیل کی نئی اپیل کے حق میں بھی دے سکتے ہیں۔

ایک جریدے میں خاصی تفصیل کیساتھ ایسے دو مشہور مقدموں کا ذکر کیا گیا ہے جن میں ججوں کے دباﺅ کے اندر آنے کے بعدانکے معذرت خواہانہ بیانات کی آڈیو یا ویڈیو کے منظر عام پر آتے ہی تقدیریں بدل گئیں مجرم عن الخطا قرار دیئے گئے اور دباﺅ میں آنےوالے جج استعفیٰ دیکر گھر چلے گئے ان میں سے شرمناک ترین واقعہ جنرل مشرف کے دورمیں چیف جسٹس افتخار چوہدری اور آٹھ دیگر ججوں کی معزولی کا تھا اسمیں یہ راز اظہرمن الشمس ہو گیا تھا کہ ایک صدر مملکت جو آرمی چیف بھی تھا نے کس طرح اپنا اقتدار بچانے کیلئے تین ججوں اور انکے خاندان کی خواتین پر سکینڈل بنا کر انہیں بلیک میل کرنیکی کوشش کی تھی اس طرح کے سکینڈل اپنے پیچھے جو اہم سوالات چھوڑ جاتے ہیں وہ ایک نئے دن کی نئی ہیجان خیزی کی دھند میں گم ہو جاتے ہیں نظر یہی آ رہا ہے کہ ہر پرانے گناہ پر پردہ ڈالنے کیلئے ایک نئے گناہ کی ضرورت درپیش آ جاتی ہے یوں یہ ہیجان خیز سیریل چلتا رہتا ہے کسی سینما گھر میں گئے بغیر گھر میں بیٹھے بٹھائے ہمیں ہر روز مولا جٹ اور نوری نت کا کھڑاک دیکھنے کو مل جاتا ہے۔

 یہ الگ بات ہے کہ غربت محرومی اور مہنگائی کا شکنجہ ہماری گردن پر اب اتنا کس دیا گیا ہے کہ آنکھیں ابل آئی ہیں مگر ہمیں یہ سب قبول ہے کیونکہ ڈراما سیریل بڑی سنسنی خیز ہے عدالتوں اور جیلوں میں لوگوں کی پگڑیاں اچھل رہی ہیں دست بکف قیدی آتے جاتے نظر آ رہے ہیں رانا ثناءللہ سے پندرہ کلو ہیروئین کی برآمدگی کا مقدمہ عدالت تک نہیں پہنچتا کہ ارشد ملک کی ویڈیو ایسا ہیجان برپا کر دیتی ہے کہ رانا صاحب کی اہلیہ محترمہ کی جیل کے دروازے پر گریہ و زاری قصہ پارینہ بن جاتی ہے اسکے بعد جو کہانی‘ کردار اور مکالمے سنائی دیتے ہیں وہ ہالی ووڈ یا بالی ووڈ کی فلموں میں بھی سنائی نہیں دیتے میرے ذہن میں شاعر فطرت منیر نیازی کے درجن بھر حسب حال اشعار گونج رہے ہیں فی الحال اس ایک کو کافی سمجھیں....دبی ہوئی ہے زیر زمیںاک دہشت گنگ فضاﺅں کی.... بجلی سی کہیںلرز رہی ہے کسی چھپے تہہ خانے میں