157

ایک اور قرضہ

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو 10ارب ڈالر قرض دینے کا اعلان کردیا ہے‘ قرض کے حوالے سے مہیا تفصیلات کے مطابق 5سال کے دوران دیا جانیوالا یہ قرضہ کنٹری سٹریٹجک پارٹنرشپ کے تحت ہوگا‘ معلوم یہ بھی ہوا ہے کہ قرض کی اس رقم میں سے 2.1ارب ڈالر رواں سال کے دوران ہی ادا ہوں گے‘ بینک کی جانب سے جاری اعلامیہ سے متعلق میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ قرض کی رقم مختلف ترقیاتی منصوبوں کیلئے استعمال ہوگی‘ اس سے قبل آئی ایم ایف کی جانب سے 6ارب ڈالر کا قرضہ منظور ہوا اور اس میں سے ایک ارب ڈالر کی پہلی قسط موصول بھی ہوچکی ہے‘ وطن عزیز کی معیشت اس سے قبل کھربوں روپے کے قرضوں تلے دبی ہوئی ہے‘ حالیہ قرضوں کے جاری سلسلے نے اس کے والیوم میں مزید اضافہ کردیا ہے جبکہ رہی سہی کسر ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر نے پوری کردی‘ ملکی معیشت کو بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبائے جانے کا ذمہ دار کون ہے اور کس نے قومی دولت کیساتھ کیا کھلواڑ کیا ‘ اس بحث میں پڑے بغیر وقت آگیا ہے کہ قوم کو مزید مقروض ہونے سے بچانے کیلئے موثر حکمت عملی ترتیب دی جائے‘۔

 اب تک کے اقدامات میں ہر حکومت نے قرضوں سے چھٹکارے کیلئے اقدامات میںایک قرضے کی قسط ادا کرنے کیلئے دوسرا قرضہ لیا جبکہ قرض دینے والوں کی شرائط پوری کرتے ہوئے ملک کے عام شہری پر ٹیکسوں کا بوجھ ہی بڑھایا ہے‘ اس بوجھ تلے غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شہری اور خصوصاً تنخواہ دار گھرانے دب کر رہ گئے ہیں‘ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ عالمی اداروں کی ڈکٹیشن والے ‘بھاری یوٹیلٹی دینے والے اور بھاری ٹیکس ادا کرنے والے شہری بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہی ہیں‘ آبادی کے ایک بڑے حصے کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں‘ اس شہری کو بیماری کی صورت میںپبلک سیکٹر کے اندر اپنے ٹیکسوں سے چلنے والی علاج گاہوں میں خدمات نہ ملنے کا گلہ ہے‘ یہ شہری اپنا پیٹ کاٹ کر بچے کو تعلیم کیلئے نجی تعلیمی اداروں میں بھیجنے پر مجبور ہے‘ جہاں کی فیس اور دوسرے چارجز اس کی کمر توڑ دیتے ہیں‘مسئلے کے پائیدار حل کی تلاش میں ہمارے پالیسی سازوں کو اب تک کی فنانشل مینجمنٹ میں پائے جانیوالے سقم تلاش کرکے قرض در قرض کی پالیسی سے چھٹکارے کیساتھ قومی دولت کو عام شہری کے ریلیف کا ذریعہ بنانے کیلئے کام کرنا ہوگا۔

روٹی کا ویٹ اور ریٹ

پشاور کے نانبائیوں نے روٹی کی قیمت میں اضافے کا مطالبہ کرنے کیساتھ کل ہڑتال کا اعلان بھی کیا ہے‘ نانبائیوں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اب 10روپے میں روٹی فروخت نہیں ہوسکتی اور یہ کہ قیمت 12روپے کی جائے‘ سرکاری اعلان ہوا یا نہیں ہوا‘ اس سے ہٹ کر اس حقیقت سے انحراف ممکن نہیں کہ روٹی کا وزن پہلے ہی کافی جگہ کم ہوچکا ہے اور یہ سلسلہ عرصے سے جاری ہے‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ بجلی اورگیس کیساتھ آٹے کے نرخوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث نانبائیوں کے لئے نرخ بڑھانا ضروری ہو گئے ہیں‘ گرانی کے ہاتھوں پریشان شہریوں کو اس حوالے سے مزید مشکل سے بچانے کے لئے بہتر ہوگا کہ تندوروں کو بجلی اور گیس کے نرخوں میں رعایت دی جائے ‘اس کے بعد ریٹ اور ویٹ کا نئے سرے سے تعین ہو‘ تاہم انتظامیہ کی جانب سے نرخ مقرر ہونے پر انہیں عملدرآمد کا پابند بنانا بھی ضروری ہے۔