164

قرض واپسی کی مہلت میں توسیع لینے کافیصلہ

کراچی۔حکومت ملکی وغیرملکی مالیاتی اداروں کو قرضوں کی واپسی کی مہلت میں توسیع کی درخواست کرے گی تاکہ قرضوں کی اقساط اور اس پر سود کی ادائیگی کے بوجھ کو موخر کرکے ملک کی تعمیر وترقی کیلئے وسائل کی دستیابی کو یقینی بنایا جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے ادوار میں بھی قرضوں کی واپسی کی مہلت میں توسیع کروائی جاچکی ہے۔ اس آپشن پرعملدرآمد کی صورت میں قرض کی ادائیگی کا بوجھ آئندہ دس سال میں اقتدار میں آنے والی حکومتوں پر منتقل ہوجائے گا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت پاکستان میں دستیاب رقم اور قرضوں کی مینجمنٹ کی ایک نئی وسط مدتی پالیسی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 پاکستان نے لیٹرآف انٹینٹ میں آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وزارت خزانہ میں ٹریژری آفس قائم کیا جائے گا۔ قرضوں کی واپسی کی تاریخوں کا خیال رکھنا، دستیاب وسائل کو بہتر استعمال میں لانا، قرض کے انتظام کیلئے ڈیٹ مینجمنٹ آفس کے ساتھ بہترین اشتراک عمل پیدا کرنا اور قرض کی ادائیگی کیلئے توسیع شدہ ڈیڈلائنز میں فنڈز کا بندوبست کرکے قرضوں کی ادائیگی کا انتظام کرنا اس ٹریژری آفس کی ذمہ داری ہوگی۔

اس پالیسی کے تحت ملکی وغیرملکی اداروں سے قرضے لینے اور واپس لینے کے تمام تر اختیارات وزارت خزانہ کے سپرد کیے جائیں گے۔ نئی حکمت عملی کے تحت قرضوں کی تفصیلات کو ازسرنو مرتب کرکے ادائیگیوں کا نیا شیڈول طے کیا جائیگا اور قرضوں کی اقساط و سود کی ادائیگی کیلئے بجٹ میں رقوم مختص کی جائیں گی۔