79

سیلز ٹیکس سے متعلق افواہیں پھیلائی جارہی ہیں، چیئرمین ایف بی آر

اسلام آباد۔ چیئرمین ایف بی آرشبرزیدی نے کہا ہے کہ آٹے اورمیدے پر کسی قسم کاٹیکس نہیں ہے،سیلز ٹیکس سے متعلق بھی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں، ایسافیصلہ نہیں چاہتے کہ معیشت یاصنعت کونقصان پہنچے،سی این آئی سی کی ضرورت سیلزٹیکس کیلئے ہے، آٹا، روٹی کی قیمت بڑھانا، ایسی کوئی چیزنہیں ہے، سی این آئی سی سے متعلق ابہام اور پروپیگنڈاکیاگیا،تمام فیصلوں کے اطلاق کیلئے تیار ہیں، مشاورت سے عملدرآمد ہوگا، ہماراکسی سطح پرکسی سے کوئی ڈیڈلاک نہیں۔چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میدے، سوجی اور آٹے پر کوئی سیلز ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے جبکہ سیلز ٹیکس سے متعلق افواہیں پھیلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ کی شرط پر لوگوں میں ابہام پھیلائے جا رہے ہیں۔

 زیرو ریٹنگ اور شناختی کارڈ پر مذاکرات ہوئے ہیں اور زیرو ریٹنگ کا معاملا10سال بعد واپس آ رہا ہے، شبر زیدی کا کہنا تھا کہ ایپٹیکا کے لوگوں کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے اور ملک میں ٹیکسٹائل کی صنعت ترقی کی راہ پر چل پڑا ہے جبکہ تاجروں کی جانب سے شناختی کارڈ کا مسئلہ ختم ہو چکا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت کا کسی کے ساتھ کبھی ڈیڈ لاک نہیں ہے، چھوٹے کاشتکاروں کے لئے فیکس ٹیکس لانے کو تیار تھے لیکن 10/10 کے سونار اور10/10 کے لوہار کے ٹیکس ایک تو نہیں ہو سکتے اس پر انہیں کہا ہے کہ خود سے اس پر اپنی رائے دیں، تاجروں کو کہا ہے کہ وہی بتا دیں کہ چھوٹا دکاندار کون ہے۔ شبر زیدی نے کہا کہ ہم ایسا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں جس سے صنعت کو نقصان نہ ہو۔لاکھوں موبائل باہر سے لائے گئے ہیں بغیر ٹیکس ادا کئے گئے جبکہ موبائل ڈیلرز کہہ رہے ہیں کہ20 ہزار کے موبائل میں 4 سوٹیکس لے لیں۔

 انہوں نے کہا کہ سوجی، میدہ، دال اور کھانے کی کسی آئٹم پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا ہے اور وزیر اعظم سے بھی بات ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ اس پر ابہام ہے، سیلز ٹیکس کی وسعت کی طرف جارہا ہے۔ پاکستان کے تمام چیمبر سے ملاقاتیں اور باتیں ہوئی ہے،تاجر اگر اپنے دوسرے مسائل شناختی کارڈ کی آڑ میں منوانا چاہتی ہے وہ ہم نہیں کر سکتے انہوں نے کہا کہ آٹے کے معاملے میں چند ایک آدمی نے غلط آرٹیکل رکھا جس سے مسائل پیدا ہوا ہے۔

سیلز ٹیکس قانون میں شناختی کارڈ کی شرط آئی انکم ٹیکس قانون میں نہیں جبکہ ملک میں 40ہزار افراد سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈہیں جن میں سے19ہزار افراد ٹیکس دیتے ہیں ایف بی آر میں اصلاحات کا مقصد ٹیکس نیٹ کو بڑھانا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ذخیرہ اندوز افراد افواہیں پھیلا کر فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں۔ اسلام آباد کے مقامی انتظامیہ کو کہہ دیا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کریں۔گاڑیوں میں ٹیکس لگانا ایف بی آر کے دائرہ کار میں نہیں ہے یہ کسٹم والوں کا اختیار ہے اور ہم نے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا ہے۔