400

جمہوری عمل کے اگلے مرحلے

وطن عزیز کے سیاسی منظر نامے میں ایوان بالا کا انتخاب مکمل ہونے کیساتھ گرما گرمی بڑھ گئی ہے‘ چیئرمین سینٹ کے عہدے کیلئے جوڑ توڑ شروع ہے جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ روز فیصلہ کن جنگ کا عندیہ دیا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق ایوان بالا میں ن لیگ اور اسکے اتحادیوں کی تعداد48 جبکہ پیپلز پارٹی اور اسکے حامیوں کی 40 نشستیں ہیں‘ پیپلز پارٹی آزاد سینیٹرز کی حمایت کا دعویٰ بھی کر رہی ہے پی پی کا وفد مزید ارکان سے رابطوں کیلئے بلوچستان پہنچ گیا ہے‘بلاول بھٹو زرداری کا کہناہے کہ چیئرمین سینٹ ہمارا ہی ہوگا‘(ن) لیگ اپنالاکر بتائے‘ سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ ملک میں70 سالہ بیماری کے خاتمے کا وقت آگیا ہے اور یہ کہ آئندہ حکومت بھی مسلم لیگ(ن) ہی بنائیگی‘ چیئرمین سینٹ کے انتخاب کا مرحلہ اہم اور کٹھن ہے جبکہ ایوان بالا کی خالی نشستوں پر الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ اور چمک کا چرچا ابھی جاری ہے‘تادم تحریر سیاسی رابطوں کے نتیجے میں چیئرمین سینٹ کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں آیا‘ اس ساری صورتحال میں قابل اطمینان بات یہ ہے کہ ایوان بالا کے الیکشن سے متعلق غیر یقینی کی صورتحال کا خاتمہ ہوچکا ہے اس سے قبل خدشات ظاہر کئے جا رہے تھے کہ ملکی صورتحال میں رونما ہونیوالی اہم تبدیلیوں کے تناظر میں اسمبلیاں تحلیل ہونے پر یہ الیکشن بروقت ہو ہی نہیں پائے گا۔

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کا انتخاب مکمل ہونے کیساتھ اگلے مرحلے میں نگران سیٹ اپ اور انتخابی مہم آرہی ہے اس دوران سیاسی اتحاد بھی ہوسکتے ہیں اور بعض اتحادی ایک دوسرے سے راہیں جدا بھی کرسکتے ہیں‘ جمہوری نظام میں سیاسی سرگرمیاں اور رابطوں کیساتھ ایک دوسرے پر تنقید روٹین کا حصہ ہے تاہم اس سب کو ایک حد میں رکھنا لازمی ہے‘ اسوقت وطن عزیز کا عام شہری جو سب سے زیادہ اہم ہے سیاسی قیادت سے اپنے مسائل کے حل کا طالب ہے‘ ملک کو درپیش مسائل فوری متفقہ اور اہم فیصلوں کے متقاضی ہیں‘ سیاسی قیادت کو یہ بات مدنظر رکھنا ہوگی کہ انتخابی مہم میں ایک بار پھر عوام کے پاس جانا ہے‘بیروزگاری‘ مہنگائی‘ بنیادی سہولیات کا فقدان اور بڑھتی آبادی کی ضروریات کیلئے قطعاً ناکافی انفراسٹرکچر اور سروسز کے نہ ملنے کا گلہ عام ہے‘ اسلئے حکومت کو عوامی نمائندوں کی مشاورت سے ٹھوس اقدامات اٹھانا ہونگے‘ اس کیساتھ اپنے اعلانات اور اقدامات پر عملدرآمد بھی یقینی بنانا ہوگا۔

بے گھر شہری؟

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بے گھر افراد کی تعداد ایک کروڑ ہے جبکہ اس میں7 لاکھ افراد سالانہ کے حساب سے اضافہ بھی ہورہا ہے‘ اپنے شہریوں کو رہائش کی سہولت فراہم کرنا کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے‘ بدقسمتی سے پاکستان میں یہ شعبہ حکومتوں کی مناسب توجہ نہ حاصل کرپایا‘1970 ء کی دہائی میں سیٹلائیٹ ٹاؤنز کے بعد کوئی بہت بڑے اور ثمر آور منصوبے سامنے نہ آئے‘ دوسری جانب رئیل اسٹیٹ میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری حکومتی سرپرستی پوری طرح حاصل نہ کرپائی اور نجی سرمایہ کار رہائشی بستیاں بنانے پر خدمات کے حصول میں پریشانیوں کا سامنا کرتے رہے جبکہ پراپرٹی کی قیمتیں بھی آزادانہ طورپر بڑھتی ہی چلی گئیں اور اپنا گھر عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا گیا ضرورت ہر صوبے بلکہ ڈسٹرکٹ کی سطح پر فوری بڑے رہائشی منصوبے شروع کرنے کیساتھ اچھی شہرت کے حامل رئیل اسٹیٹ کے نجی اداروں کی حوصلہ افزائی کرنے کی بھی ہے۔