230

اپوزیشن اتحاد کے صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے

اسلام آباد: اپوزیشن اتحاد کے صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے۔

صدر مملکت ممنون حسین کی جانب سے مقرر کردہ پریزائیڈنگ آفیسر سردار یعقوب ناصر کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس جاری ہے جس کے دوران خفیہ رائے شماری کے ذریعے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخابی عمل ہوا۔

تمام اراکین نے خفیہ رائے شماری کے ذریعے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لئے نامزد امیدواروں کو ووٹ دیا اور ووٹنگ تقریباً پونے 6 بجے مکمل ہوئی۔

سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی، صادق سنجرانی، کرشنا کوہلی اور رحمان ملک ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے۔ اسکرین گریب جیونیوز

پریزائیڈننگ آفیسر سرداریعقوب ناصر نے اپنا آخری ووٹ کاسٹ کیا۔

اس سے قبل خفیہ ووٹنگ شروع ہوئی تو سینیٹر حافظ عبدالکریم نے پہلا ووٹ کاسٹ کیا جب کہ ووٹنگ کے  دوران جب سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی اپنا ووٹ کاسٹ کرنے آئے تو ارکان نے ڈیسک بجاکر ان کا استقبال کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

اسی طرح جب راجا ظفر الحق ووٹ کاسٹ کرنے آئے تو (ن) لیگی اور اس کے اتحادی جماعتوں کے اراکین نے ان کا بھی ڈیسک بجاکر استقبال کیا۔

حکمراں اتحاد کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے لئے راجا ظفرالحق اور ڈپٹی چیئرمین کے لئے عثمان کاکڑ مدمقابل ہیں جب کہ اپوزیشن اتحاد کے امیدوار صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ اور سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کے لئے انتخابی دوڑ کا حصہ ہیں۔

اپوزیشن اتحاد کے صادق سنجرانی کو تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان اور بلوچستان کے آزاد سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے۔

جب کہ مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کے نامزد امیدوار راجا ظفرالحق کو نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، مسلم لیگ فنکشنل، جماعت اسلامی اور فاٹا سے 2 آزاد ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن اتحاد میں شامل ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین کے لئے نامزد سلیم مانڈوی والا کو ووٹ نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

نومنتخب سینیٹر اسحاق ڈار آج کی ایوان کی کارروائی کا حصہ نہیں اس لیے 103 سینیٹرز پر مشتمل ایوان میں 52 ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار چیئرمین سینیٹ بن جائے گا۔