241

توجہ طلب امور

وطن عزیز کے سیاسی منظرنامے میں سینٹ کا الیکشن اور بعدازاں ایوان بالا کے چیئرمین کا انتخاب اہم مراحل تھے جو طے ہونے کے بعد بھی بیانات کی تلخی کا حصہ ہیں‘ اب اگلا اہم مرحلہ نگران وزیراعظم اور صوبوں میں وزرائے اعلیٰ کا انتخاب ہے جس کیلئے رابطوں‘ بیانات اور مشوروں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ‘ لاہور میں نوازشریف‘ شہباز شریف اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت لیگی قیادت کی ایک طویل بیٹھک میں اس حوالے سے بات چیت ہوئی ہے‘ نوازشریف کا کہنا ہے کہ چور دروازے سے اقتدار میں آنیوالوں کے تمام حربے اور سازشیں ناکام بنادی جائیں گی‘ عمران خان کہتے ہیں کہ زرداری پیسہ چلاکر پنجاب حکومت نہیں ہتھیا سکتے‘ زرداری کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا‘سراج الحق ڈالروں کی منڈی لگانے والے سیاستدانوں کو بندوق والوں سے بڑا دہشت گرد قرار دیتے ہیں‘ جمہوری اداروں کا انتخاب ہو یا سیاست میں گرماگرمی‘ یہ سب اپنی جگہ تاہم مرکز اور صوبوں میں حکومتوں کی مدت انتخاب مکمل ہونے جارہی ہے‘ ضرورت چند دیگر اہم امور پر بھی توجہ مرکوز کرنے کی ہے‘۔

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار ہسپتالوں کے فضلے سے متعلق کیس کی سماعت میں پنجاب حکومت کی کارکردگی کو بدترین قرار دیتے ہیں‘ عدالتی کمیشن کا کہنا ہے کہ کئی ہسپتالوں میں مکمل ڈاکٹر ہی نہیں‘ ہاسپٹل ویسٹ کی جگہ لکڑی کی راکھ بتائی گئی جو ہسپتال کا فضلہ نہیں تھی‘ پنجاب ہو یا کوئی دوسرا صوبہ‘ عام شہری خدمات نہ ملنے اور بنیادی مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات کی راہ تک رہا ہے‘ حکومت مرکز میں ہویاکسی بھی صوبے میں ‘وقت کا تقاضا ہے کہ حکومتیں اگلے انتخابات سے قبل اپنی مدت اقتدار میں اٹھائے جانیوالے اقدامات اور اعلانات پر عملدرآمد یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کریں‘دیکھا جائے کہ جن شعبوں میں اصلاحات پر اربوں روپے خرچ ہوئے ہیں وہاں عوام کو کیا ریلیف مل رہی ہے‘ اس وقت غریب اور متوسط شہری کی کمر مہنگائی نے توڑ رکھی ہے‘ اس شہری کو میونسپل سروسز میسر نہیں‘خدمات کے اداروں کی کارکردگی ہر جگہ سوالیہ نشان بن چکی ہے‘ بچوں کی تعلیم اور بیماری کی صورت میں علاج دشوار ہوچکا ہے‘ بیروزگاری کے ہاتھوں کئی گھرانے مشکلات کا سامنا کررہے ہیں‘ ملاوٹ کا دائرہ ادویات تک پہنچ چکا ہے‘ پینے کا صاف پانی مسئلے کی صورت اختیار کرچکا ہے‘ وقت آگیا ہے کہ حکومتیں کریش پروگرامز کے تحت بنیادی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کریں۔

الرٹ پر الرٹ ہونا ضروری ہے

موسم کی بدلتی صورتحال پر الرٹ جاری کیاجاچکا ہے‘ ملک کے دوسرے حصوں کی طرح خیبرپختونخوا اور اس کے دارالحکومت پشاور میں آندھی طوفان اور بارشوں کے نتیجے میں پیدا مشکلات پر ہر بارش کے بعد نشاندہی کیساتھ یہ امید وابستہ کی جاتی ہے کہ اگلی مرتبہ بارش یاطوفان پر اصلاح احوال نظر آئے گی تاہم ہر مرتبہ مایوسی ہی دیکھنے کو ملتی ہے‘ موسم کی تبدیلی کا تقاضا بجلی کی ترسیل بحال رکھنے اور کسی بھی تکنیکی خرابی پر فوری مرمت کیلئے اقدامات کا ہے‘ سیوریج لائنوں کو کلیئر رکھنے‘ آبی گزرگاہوں سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے فوری قدم اٹھانا بھی ضروری ہے ضرورت تعمیراتی ملبے کے حوالے سے قاعدے قانون پر بھی سختی سے عمل درآمد کی ہے جبکہ بلڈنگ کوڈ کے تحت عمارات کے تحفظ کیلئے حکمت عملی کی بھی ہے‘ اگر یہ سب نہیں ہوتا تو محض الرٹس کا جاری ہونا قطعاً سود مند ثابت نہیں ہوسکتا۔