451

سیاسی منظرنامہ اور بجٹ

وطن عزیز کے سیاسی منظرنامے میں آئے روز تبدیلیاں نظر آتی ہیں‘ جنوبی پنجاب سے ن لیگ کے 8ارکان قومی وصوبائی اسمبلی نے پارٹی چھوڑ دی‘ اسمبلیوں کی رکنیت سے بھی مستعفی ہونیوالے ان ارکان نے سابق نگران وزیراعظم بلخ شیر مزاری اور خسرو بختیار کی قیادت میں جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر کام کرنے کا اعلان کیا ہے‘ جنوبی پنجاب صوبہ محاذنے اگلے دنوں میں ن لیگ کے مزید اراکین اسمبلی کے استعفوں اور اس محاذ میں شامل ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے‘۔

خسرو بختیار کا کہنا ہے کہ ملک میں نئے ڈویژن اور اضلاع بن سکتے ہیں تو نئے صوبے کیوں نہیں بنائے جاسکتے‘ اس اچانک کے بریک تھرو پر تبصرہ کرتے ہوئے اطلاعات ونشریات کی وزیر مملکت مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کو عادی لوٹوں کی ضرورت نہیں جو الیکشن میں اپنی بولیاں لگوانے کی کوشش کررہے ہیں‘ دوسری جانب نگران وزیراعظم کے حوالے سے مشاورت شروع ہے اور میڈیا رپورٹس میں کئی ناموں کے بعد اب سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کانام سامنے آیا ہے‘ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کاکہنا ہے کہ ان کی جماعت نے ابھی کوئی نام نہیں دیا‘ رپورٹس کے مطابق اپوزیشن کی نگران وزیراعظم کے حوالے سے آج شاہد خاقان عباسی سے ملاقات ہوگی‘ ۔

اس سارے منظرنامے میں حکومت اپنی مدت اقتدار کا آخری بجٹ پیش کرنے جارہی ہے‘ میزانیہ کسی بھی ریاست میں کاروبار حکومت چلانے میں بنیادی حیثیت رکھتاہے‘ ملک کی اقتصادی صورتحال اور عوام کو درپیش مشکلات میں بجٹ نہ صرف اکانومی کے حوالے سے درست سمت کا تعین کرسکتا ہے بلکہ عوام کی ریلیف بھی ممکن بنائی جاسکتی ہے‘ بجٹ ہی میں صوبوں اور مرکز کے درمیان معاملات سنوارے جاسکتے ہیں‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق ترقیاتی بجٹ میں 201ارب روپے کی کٹوتی کی جارہی ہے‘ ٹیکس ایمنسٹی سکیم بجٹ سے پہلے آچکی جسے ایوان بالا میں اپوزیشن نے مسترد بھی کردیا ‘ میزانیے کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ حکومت اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی بجٹ کے حوالے سے باہمی مشاورت کے ذریعے اکانومی کے استحکام اور شہریوں کی ریلیف یقینی بنائیں۔

پیشگی انتظامات سے گریز؟

پشاور اور صوبے کے دوسرے حصوں میں گزشتہ روز کی بارشوں میں ایک بارپھر پیشگی انتظامات سے گریز کی روش سامنے آئی ہے‘ متعلقہ اداروں کی جانب سے موسم کی صورتحال کے تناظر میں جاری الرٹس پر آبی گزرگاہیں کلیئر کی گئیں نہ ہی پلاسٹک شاپنگ بیگز اور کچرے سے بلاک سیوریج لائنوں کو صاف کیاگیا‘ تعمیراتی ملبے سے متعلق قواعد پر عمل درآمد یقینی بنایاگیا نہ ہی سڑکوں پرپانی آنے پر ٹریفک کے حوالے سے کوئی منظم پلان تشکیل دیاگیا‘ اس بات پر بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی کہ صوبائی دارالحکومت کی سب سے بڑی علاج گاہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی جانب آنیوالے راستے کھلے رہیں تاکہ کسی بھی ایمرجنسی میں ہسپتال آسانی سے پہنچا جاسکے‘ ہمارے ہاں بجلی کی ترسیل کانظام آندھی کا ایک جھونکا اور معمولی بارش کا سامنا نہیں کرسکتا‘ جس کی بہتری کیلئے ایک کریش پروگرام کی ضرورت ہے‘ بار بار کے واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ سوئی گیس کا عملہ شہر کی سڑکوں پر کسی قسم کی تعمیراتی سرگرمیوں میں پائپ لائنوں کی سیفٹی یقینی بنانے کیلئے تعینات رہے تاکہ بار بار گیس لائنیں توڑپھوڑ سے بچ سکیں۔