192

نا انصافی قرض ہے

مطالبہ ہے کہ پاکستان میں انصاف عملاً اور تیزرفتاری سے ہوتا نظر آنا چاہئے۔ گیارہ اپریل کے روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کوئٹہ کے دورے پر رہے جہاں انہوں نے انصاف کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ ’عدلیہ ایک ایسا ادارہ ہے جو معاشرے میں عدل و انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے اور منصف کا کردار تو بس یہ ہے کہ قانون کے تحت فیصلے کرے‘چیف جسٹس نے ایک مشکل بھی حل کر دی ہے کہ منصف ہونا ہی کافی نہیں ہوتا لیکن منصف کی قانونی تربیت بھی ہونی چاہئے کیونکہ جب تک ایسا نہیں ہوگا‘ اسوقت تک انصاف کی فراہمی میں تاخیر ہوتی رہے گی‘ وہ کہہ رہے تھے اور پاکستان سن رہا تھا کہ سول جج‘ جوڈیشل مجسٹریٹ اور جج کے فرائض میں کوئی تفریق نہیں‘ عدلیہ ریاستی ادارہ ہے جس کے بغیر ریاست کا تصور ممکن نہیں‘ عدالتوں کو قانون کے مطابق انصاف فراہم کرنا ہے اور اگر عدل نہیں ہوگا تو لوگ بد زن ہوتے چلے جائیں گے!‘ چیف جسٹس نے جس حقیقت کا اعتراف کیا اسکی کارکردگی کا انحصار کسی ایک ادارے پر نہیں بلکہ زیرسماعت مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کی ذمہ داری ایک سے زیادہ اداروں پر ہے لیکن اِس میں سائل کا کیا قصور ہے کہ جسے تیس تیس سال عدالتی فیصلے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ چیف جسٹس کے بقول ’’اگرچہ وسائل کم ہیں لیکن ناانصافی قرض ہے‘ جس کا خمیازہ آئندہ نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔‘ جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ ناانصافی کے قرض کی قیمت صرف آنیوالی نسلوں کو ہی بلکہ موجودہ نسلوں کو بھی چکانا پڑ رہی ہے۔ چیف جسٹس کا اعتراف حقیقت ثابت کرتا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ہمارے عدالتی نظام میں سنگین خامیاں ہیں اور وہ نتائج دینے میں ناکام رہا ہے‘پہلے لوگ مدد کیلئے پولیس کے پاس جانے سے ہچکچاتے تھے‘ ۔

اب وہ انصاف کیلئے عدلیہ کے پاس جانے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس میں برسوں لگیں گے یہاں تک کہ ایک عام سے مقدمے کا فیصلہ ہونے میں دسیوں برس لگ سکتے ہیں‘ عدالت سے مختلف مقدمات کے فیصلے کیلئے مدت محدود ہونے سے متعلق قانون خواہ کچھ بھی کہے لیکن عملی طور پر ہتک عزت کا سادہ سا مقدمہ کئی برس لے لیتا ہے جبکہ بمشکل ہی کسی کو سزا ہوتی ہے‘ یہاں تک کہ سرکاری محکمے بھی شکایت کرتے ہیں کہ عدالت کے مقدمات اور حکم امتناع کی وجہ سے ان کی کارکردگی میں بھی رکاوٹیں حائل رہتی ہیں‘ یہ صورتحال کسی بھی صورت خوش آئند نہیں اور سنجیدہ توجہ چاہتی ہے۔پاکستان کے عدالتی حالات کی طرح ملک کی آئینی تاریخ سے بھی نئی نسل کو آگاہ کرنا ضروری ہے دستور ساز اسمبلی نے دس اپریل 1973ء کو متفقہ آئین کی منظوری دی تھی جسے دو روز بعد صدر کے دستخطوں کی منظور ی کے بعد چودہ اگست 1973ء کو نافذ کیا گیا‘سابق سینٹ چیئرمین رضا ربانی نے گزشتہ سال دس اور بارہ اپریل کو یوم دستور کے طور پر منانے کا آغاز کیا تھا‘ جسکا مقصد آئین کے بانیوں اور گمنام ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنا ہے لیکن ہم سے بہت کم لوگ اس دن کی اہمیت سے آگاہ تھے‘ آئین کے نفاذ کیساتھ ہی چودہ اگست 1947ء کو ملنے والی آزادی کے مقاصد کی تکمیل کی راہ ہموار ہوگئی‘ آئین کو بالادستی حاصل ہے‘۔

ادارے آئین کے تحت کام کرنے کے پابند ہیں‘ آئین ہر شہری کو اس کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے آزادی کے بعد چھبیس سال تک وطن عزیز سرزمین بے آئین رہی۔ بے آئینی نے لاقانونیت کی فضا قائم کر دی تھی‘ شہریوں کے حقوق کی اس طرح پامالی ہو رہی تھی کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہم آزاد نہیں ہوئے بلکہ انگریز کے غلام ہیں بدقسمتی سے حکمران طبقہ بار بار آئین کو پامال کرتا رہا‘ بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت اور اظہار رائے کی آئین میں دی گئی آزادی کو کبھی مارشل لاء کے نام پر اور کبھی ایمرجنسی لگا کر سلب کیا جاتا رہا۔ ایک عرصہ تک عوام کی منتخب حکومتوں کو آئینی میعاد ہی پوری نہ کرنے دی گئی‘ بسا اوقات بعض اداروں کی طرف سے بھی آئین کے تقدس کا لحاظ نہ رکھا گیا‘ جسکی وجہ سے ملک کی ترقی وخوشحالی کا سفر متاثر ہوتا رہا‘ افسوس یہ ہے کہ جمہوریت آئین اور عوام کی بالادستی کے دعوے کرنیوالے بھی حقیقی جمہوری مزاج کا مظاہرہ نہ کر سکے‘آئین اور پارلیمنٹ کے ہوتے ہوئے اختلافات کو سڑکوں پر یا طاقت کے بل پرطے کرنے کی کوششوں کے مظاہر اکثر دیکھنے میں آ رہے ہیں‘ ہمیں آزادی‘ آئین اُور جمہوریت کی قدر کرنی چاہئے۔ دنیا میں کوئی ایسا ترقی یافتہ ملک نہیں جس نے ان ساری نعمتوں یا کسی ایک کو نظر انداز کرکے ترقی ہو۔