232

توجہ مطلب

ملک میں ایک طرف دوروئی کا حصول کبھی مشکل تو دوسری طرف دعوتوں کے نام پر منعقدہ پرتعیش محفلوں میں انواع و اقسام کے کھانوں کی بڑی مقدار کا ضیاع۔ایک طرف چھوٹی سی خوشی کی راہ تکتے تکتے آنکھوں کا پتھرا جانا تو دوسری طرف چھوٹی سی خوشی منانے کیلئے تجوریوں کے منہ کھول دیئے جانا‘کوئی توہربیماری کے علاج یا صرف میڈیکل چیک اپ کی غرض سے ہی فٹا فٹ امریکہ اور یورپ کا چکر لگا آتا ہے تو کسی کو مرض سے لڑنے کی غرض سے درکارامداد کیلئے اپنی داستان غم ٹیلی ویژن پروگرامز میں قوم کے سامنے رکھنی پڑتی ہے۔ ذرا سی بارش یا ہلکی سی آندھی کے نتیجے میں ڈھے جانے والے ایک کمرے کے گارے مٹی سے بنے مکان عالی شان بنگلوں کی پختگی کو حسرت و یاس سے تکتے ہیں‘ غربت و افلاس کی تاریکیوں میں سانس لیتی زندگیوں کوامارت کی چکا چوند سے چند کرنوں کے حصول کیلئے بھی کتنی ہی حقارت آمیز منزلوں سے گزرنا پڑتا ہے ‘21 ویں صدی میں بھی خستہ حال کپڑوں میں ٹاٹوں اور ننگے فرش پر بیٹھ کر کھلے آسمان تلے ر ٹے رٹائے اسباق کی گردان کرنے والے بچوں کی حالت زار معیاری نجی سکولوں کے اعلیٰ تعلیمی ماحول سے نظریں ملانے کی جرات نہیں کر سکتی ‘کہیں بوٹ پالش کر کے ٗ کہیں موٹر مکینکوں کی ماریں اور جھڑکیاں کھا کھا کر ٗ کہیں ہوٹلوں کے گاہکوں کے آگے چائے کی پیالیاں اور سالن کی پلیٹیں رکھ رکھ کر اور کہیں ہاتھ پھیلا پھیلا کر بچپن سے جوانی کی جانب محو سفر نفوس ‘ صاف ستھرے جدید تراش خراش کے کپڑوں میں ملبوس جدید گاڑیوں میں سوار ہم عمروں کو دیکھ کر احساسات کی کیسی کیسی طغیانیوں کا سامنا کرتے ہوں گے ؟

کیایہ سب کچھ غربت کی لکیر کے آس پاس زندگی گزارنے والوں کے احساسات و جذبات پر کاری ضربیں نہیں لگاتا ؟یقیناًلگاتا ہے ۔یہ کاری ضریں کہیں تو ہم وطنوں کو مایوسیوں کی ان اتاہ گہرائیوں میں لے جاتی ہیں جہاں انہیں اپنا وجود ایک بے معنی و بے کار سی شے لگنے لگتا ہے اورنتیجتاً وہ زندگی پر موت کو ترجیح دے ڈالتے ہیں جبکہ کہیں یہ کچوکے باغیانہ رویوں کو پروان چڑھانے کی ایک وجہ بنتے ہیں،وہ رویے جن سے استفادہ کرتے ہوئے ملک و قوم کے دشمنوں کواذہان و قلوب میں نفرتوں‘ کدورتوں کے بیج بونے اور بدلے کی آگ بھڑکانے کا موقع میسر آتا ہے‘یہی نفرتیں‘ کدورتیں اور بدلے کی آگ نہ صرف مایوسی اور منفی رویوں کو جنم دینے کاباعث بنتی ہے بلکہ بسا اوقات یہ عوامل بتدریج شدت پسندی ٗدہشت گردی اور دیگر مجرمانہ سرگرمیاں اختیار کرنے کی راہ بھی دکھاتے ہیں‘ طبقاتی تفریق کے درمیان پسنے والے متوسط طبقے کا حال اپنی جگہ اور طبقاتی تفریق میں اعتدال قائم کرنے کیلئے ریاست کی ذمہ داریاں بھی اپنی جگہ ‘سوال یہ ہے کہ دولت اور سرمائے کا ارتکاز زندگی کا واحد مقصد بنا لینے والوں کو اپنے سرمائے کی ایک حد مقرر کر کے باقی سرمائے کی ان سطحوں تک منتقلی سے جہاں زندگی سسک سسک اور تڑپ تڑپ کر موت کی جانب قدم بڑھا رہی ہے کس نے روکا ہے ؟یہ اختیار یہ حکم یہ اجازت انھیں کس نے دی ہے کہ وہ اپنی امارت کو بڑھاوا دینے کے لئے جائز ناجائز صحیح و غلط ہر طریقہ ‘ہر راستہ اختیار کریں ۔

ور اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے تمام مذہبی اخلاقی معاشرتی اور قانونی حدود عبور کرنے سے دریغ نہ کریں اور پھر بات صرف دولت جمع کرنے اور اسکے استعمال تک محدود نہیں ‘امارت کے بے ڈھنگے مظاہروں کو کیاکہا جائے ؟ کوئی بھی ایسا طرز عمل جس میں دولت کی بے جا نمائش اور پیسے کے ضیاع کی بنیاد پر خود کو دوسروں سے ممتاز اور برتر ظاہر کرنامقصود ہو معاشرتی زندگی میں بگاڑ کا باعث بنتا ہے ۔جائز نا جائز طریقے سے مال و دولت سمیٹنے اوراسے اس اندازسے جو عوام الناس کیلئے تکلیف کا باعث ہو‘ لٹانے والے ہر پاکستانی کو یہ ضرورسوچنا چاہئے کہ کہیں اس کا طرز عمل شدت پسندی ‘دہشت گردی اور جرائم میں اضافے کی وجہ تو نہیں بن رہا؟اسے خود سے یہ سوال بھی کرتے رہنا چاہئے کہ کسی شدت پسند ٗ کسی دہشت گرد ٗ کسی اغواء کار ٗ کسی ڈاکو ٗ کسی چور یا کسی کرائے کے قاتل کو اس کے موجودہ حال تک پہنچانے میں کہیں اسکا بھی کردار تو کارفرما نہیں ؟تقسیم یقیناًپروردگار کی ہے لیکن پروردگار کی یہ تقسیم ان آزمائشوں میں سے ایک ہے جن کا سامناکر نے اور سرخرو ہونے کی سعی کا حکم بھی باری تعالیٰ ہی نے دیا ہے۔