3902

سرکاری بھرتیاں

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے سرکاری بھرتیوں پر پابندی کا ازخود نوٹس لیا ہے‘ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ الیکشن سے پہلے سرکاری نوکریاں نہ دینا اچھی بات ہے مگر ایسی پابندی کی وضاحت ہونی چاہئے‘ وہ یہ استفسار بھی کرتے ہیں کہ کیا اسمبلیاں تحلیل ہونے سے قبل ایسا حکم دیاجاسکتا ہے اور کیا یہ فیصلہ حکومتی امور متاثر نہیں کریگا‘ الیکشن کمیشن کے اقدام ‘عدالت عظمیٰ کے نوٹس اور اس کیس سے متعلق عدالتی فیصلے سے پہلے کسی بھی بحث میں پڑے بغیر اس حقیقت سے انحراف ممکن نہیں کہ سرکاری ملازمتوں سے متعلق معاملات اصلاح احوال کے متقاضی ضرور ہیں‘ کسی بھی ریاست کی انتظامی مشینری کی فعالیت کا انحصار باصلاحیت افرادی قوت پر ہوتا ہے‘ اس مقصد کیلئے شفاف میرٹ پر بھرتیاں شرط اولین ہیں‘ اس کیساتھ اداروں کو سیاسی مداخلت اور پریشر سے آزاد رکھنا بھی ناگزیر ہوتاہے‘ ہمارے ہاں سیاسی مداخلت نے آج درجنوں قومی اداروں کو سفید ہاتھی بناکر رکھ دیا ہے‘ جن پر برائے فروخت کی تختیاں لگانی پڑرہی ہیں‘ ان اداروں کے خریدار صرف وہاں موجود افرادی قوت کی بڑی تعداد اور ان کو حاصل مراعات دیکھتے ہوئے انہیں خریدنے سے گریزاں رہتے ہیں۔

ہمارے ہاں مرکز اور صوبوں میں برسراقتدار حکومتیں وقتاً فوقتاً سرکاری ملازمتوں پر پابندیاں عائد کردیتی ہیں‘ ان پابندیوں کے نتیجے میں کئی اہل امیدوار متعلقہ آسامی کیلئے درکار عمر کی حد سے گزر جاتے ہیں‘ اس کیساتھ مختلف سرکاری اداروں میں کنٹریکٹ پر بھرتیاں کی جاتی ہیں‘ کنٹریکٹ کا خاتمہ ہونے پر بھی ملازمین کو عمر کی حد سے متعلق دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘ وطن عزیز میں تعلیم اور فنی تربیت کے اداروں کیساتھ پروفیشنل انسٹیٹیوٹس کے نصاب کو جدید دور کی ضرورتوں سے ہم آہنگ کرنے کیساتھ ضرورت سرکاری اداروں میں بھرتیوں سے متعلق قاعدے قانون پر نظرثانی کی ہے‘ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ کسی بھی محکمے میں کوئی آسامی خالی ہونے پر بھرتی کا عمل کم سے کم وقت میں مکمل ہو تاکہ اہل امیدوارکی عمر کی حد نہ گزرے اور دیگر سٹاف ممبرز کی پروموشن کا عمل متاثر نہ ہو‘ اگر ہم نے آج اپنے اداروں کو صحیح قابلیت کی حامل افرادی قوت نہ دی تو کل ثمر آور نتائج کا حصول ممکن نہ ہوگا۔

کریک ڈاؤن‘ مستقل سدباب؟

خیبرپختونخوا میں عطائیوں کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبے کو تین زونز میں تقسیم کردیاگیا ہے‘ آ پریشن میں متعدد کلینک سیل کردیئے گئے ہیں‘ انسانی صحت اور زندگی کیساتھ کھیلنا سراسر زیادتی اور ظلم ہے‘ اس ظلم کو روکنے کیلئے کلینک سربمہر کرنے کیساتھ اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ آئندہ کوئی ایسا کلینک کھلنے نہ پائے‘ اس کیساتھ اس کریک ڈاؤن کے دائرے کو جعلی اور دو نمبر ادویات کے خاتمے تک وسیع بھی کیاجائے‘ اس بات کو بھی یقینی بنایاجائے کہ ادویات اپنی تیاری سے لیکر ریٹیل مارکیٹ تک سٹوریج کیلئے دیئے گئے قاعدے کے اندر رکھی جائیں‘ فارمیسی میں درجہ حرارت پیمانے کے مطابق ہو‘ اس سب کیساتھ انتقال خون کے اداروں میں پورے عمل کی جانچ اور اس میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے قواعد پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا‘ انسانی صحت اور زندگی سے جڑے معاملات میں جس قدر احتیاط ہو اسے قابل اطمینان ہی قرار دیاجائے گا۔