260

فاٹا انضمام

کس قدر افسوس کامقام ہے کہ پہلی بارجب ملک کی تمام اہم اوربڑی سیاسی جماعتیں اور حکومتی وعسکری حلقے ایک معاملہ پر متفق ہوگئے تھے تو محض دو جماعتوں کی غیر ضروری مخالفت کی وجہ سے وسیع تر قومی اتفاق رائے کو پس پشت ڈالتے ہوئے فاٹا انضمام کو مزید ایک سال کے لئے ٹال دیاگیااور تب سے اب تک وفاقی حکومت اپنی دو اتحادی جماعتوں کی خوشنودی کی خاطروسیع تر قومی اتفاق رائے کو نظرانداز کرتی چلی آرہی ہے اور اب کہا جارہاہے کہ فاٹا کاانضمام اگلے سال تیس مئی تک ہوجائے گا اس سلسلہ میں وزیر اعلیٰ پرویزخٹک کاکہناہے کہ نیشنل سکیورٹی کونسل اجلاس میں قبائلی علاقہ جات میں اصلاحات کا بھرپور طریقے سے جائزہ لیاگیا اور یہ فیصلہ ہواہے کہ اس سال اکتوبر میں فاٹا میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیاجائیگا جبکہ آئندہ سال 2019ء میں مارچ‘اپریل میں قبائلی علاقہ جات میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا انعقاد ہوگا جبکہ 2018ء تک فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کردیاجائے گا ان کے بقول اجلاس میں فیصلہ کیاگیاہے کہ اس سلسلے میں آئین میں جتنی بھی ترامیم کی ضرورت ہے وہ موجودہ دور ہی میں پارلیمنٹ کرے گی تاکہ بلاکسی تعطل فاٹا کے انضمام کے حوالے سے کام شروع کردیاجائے بعدازاں وزیر اعظم کی صدارت میں دواہم اجلاس ہوئے جس میں فاٹااصلاحات عملدرآمد کمیٹی کے علاوہ قومی اسمبلی کی تمام پارلیمانی جماعتوں کے قائد ین نے بھی شرکت کی ان اجلاسوں میں وزیر اعظم اپنے ہی اتحادیوں کو قائل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

جس پر اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کے دوران ہی وزیر اعظم سے کہہ دیاکہ جب حکومت اپنے اتحادیوں کو ہی رضامندنہیں کرسکتی تو پھراپوزیشن جماعتوں کو مشاورت کے لئے کیوں بلایاجاتاہے حیر ت تو اس امرپرہے کہ محمودخان اچکزئی جیسی غیرمتعلقہ شخصیت بھی فاٹا کاماما چاچابننے کی کوشش کررہی ہے غیر متعلقہ اس لئے کہاہے کہ ان کی جماعت فاٹامیں نہ ہونے کے برابرہے گذشتہ عام انتخابات میں ان کی جماعت نے فاٹا سے محض ایک امیدوارکھڑاکیاتھا جس نے 282ووٹ لئے تھے اس کے باوجودمحمودخان اچکزئی مصر ہیں کہ فاٹاکے حوالہ سے انکی رائے کو اہمیت دی جائے افسوس اس امرپرہے کہ کسی بھی سیاسی رہنما نے ان کو یہ حقیقت دکھانے کی کوشش ہی نہیں کی لاکھوں ووٹروں میں سے جس جماعت کو محض 282ووٹروں کی حمایت حاصل ہو اس کی رائے کو اکثریتی رائے پر فوقیت دینا انتہائی افسوسناک ہے یہ بھی دلچسپ امر ہے کہ وفاق میں ن لیگ کی حکومت ہے جو فاٹاانضمام کی حامی ہے وفاق میں اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں پی پی پی اور پی ٹی آئی ہیں و ہ بھی انضمام چاہتی ہیں جس صوبہ میں انضمام ہوناہے وہاں کی حکومت اس کے لئے پوری طرح تیار ہے مرکزمیں صوبہ کی دو بڑی قوم پرست جماعتیں اے این پی اور کیو ڈبلیو پی بھی یہی چاہتی ہیں جماعت اسلامی جیسی مذہبی جماعت بھی ان کی ہم خیال ہے سندھ کی بڑی جماعت ایم کیو ایم اوربلوچستان کی بڑی جماعت نیشنل پارٹی بھی انضما م کیلئے لڑ رہی ہیں۔

اورسب سے بڑھ کر آج اسٹیبلشمنٹ بھی سیاسی قیادت کے ساتھ ایک ہی صف میں نظر آتی ہے پھر محض چندروزہ اقتدار کی خاطر وفاقی حکومت خودکو اس کریڈٹ سے آخر کیوں محروم رکھنے پرتلی ہوئی ہے مسلم لیگ کیوںیہ بھول جاتی ہے کہ اگر انضمام اس کے دور میں ہوتاہے تو فاٹا میں اسی کوفائد ہ ملے گا وہ فاٹا کی سب سے بڑی جماعت بھی بن کرسامنے آسکتی ہے ویسے بھی ان دنوں نشستوں کے اعتبار سے فاٹاکی بڑی جماعت ن لیگ ہی ہے جبکہ ووٹوں کے اعتبار سے یہ اعزاز پی ٹی آئی کوحاصل ہے اوردونوں ہی انضمام کی حامی ہیں پھر سوال یہ پیداہوتاہے کہ آخر کون سے ایسے طاقتور عناصر ہیں جو آج وسیع تر قومی اتفاق رائے کو سبوتاژ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اگر جے یو آئی کی بات کی جائے تو اب تو وہ بھی کہنے لگی ہے کہ وہ انضمام کی نہیں طریقہ کار کی مخالف ہے اس کامطالبہ ریفرنڈم کرانے کاہے مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ تو آئین میں اس حوالہ سے ریفرنڈم کی گنجائش موجودہے نہ ہی حکومتی اصلاحاتی کمیٹیوں نے اس کی رائے دی ہے جس کے بعد اب حکومت کے سامنے یہی راستہ رہ گیاہے کہ وہ صدارتی فرمان کے ذریعے فاٹاکو فی الفورخیبر پختونخوا میں ضم کرادے اور ا س کے لئے اب حکومت کے پاس وقت بہت کم رہ گیاہے اگر حکومت ایسا کرتی ہے تو تمام سیاسی جماعتیں اس کی پشت پر کھڑ ی ہونگی بصورت دیگر فاٹاکے باشندے مسلم لیگ ن کوکبھی معاف نہیں کریں گے فیصلہ اب مسلم لیگ ن کی قیادت کے ہاتھ میں ہے ۔