195

ذکرایک رشتے کا

پاکستان میں ماؤں کا دن ہر سال مئی کے مہینے کی دوسری اتوار کو منایا جاتا ہے۔دنیا کے دیگر ممالک یہ دن مختلف دیگر ایام میں مناتے ہیں‘اس دن کے منانے کاآغاز 1908میں ہوا اور اس کا مقصد ماں کے رشتے سے جڑے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہے۔’ماں‘یہ ہستی زندگی کی آخری سانس تک ان گنت پریشانیوں‘تکالیف‘ آزمائشوں‘ اور اذیتوں کا مقابلہ کس قدر ہمت و حوصلے کیساتھ کرتی ہے‘ پہلے بچے کو اپنے وجود میں رکھنا اور پھر اسے جنم دینااذیتوں کا پہلا دور ۔ بچے کے دنیا میں آنے کے بعداسکے ہوش سنبھالنے تک آزمائشوں کا ایک اورسلسلہ‘ہر گھڑی لخت جگر کا دھیان ‘اسے نامناسب حالات کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کی فکر‘موسم کی سختیوں سے بچائے رکھنے پر توجہ اور اگر ماں غربت کی ماری ہو تومصائب دو چند ‘ پھر بچے کی تعلیم کے آغاز سے تکمیل تعلیم تک فکر و پریشانی کا ایک اور طویل عرصہ‘ اس کے بعد اگر اولاد اپنے پیروں پر کھڑی ہوکر کہیں ماں کا حقیقی سہارا بن جائے تو قدرے راحت و آرام کا احساس اور اگر ایسا نہ ہو( جو عموماً نہیں ہوتا) تو پھرمرتے دم تک حسرت و یاس کے دائرے۔

’ ماں‘سب سے خالص رشتہ‘ سب سے سچا دوست‘جب کوئی مصیبت اچانک گھیر لے‘جب خوشحالی بدحالی میں بدل جائے‘جب راحت میں ساتھ رہنے والے دکھوں میں تنہا چھوڑ جائیں‘جب آسائشیں روٹھ جائیں‘ جب زندگی سفر کرتے کرتے چھاؤں سے کڑی دھوپ میںآجائے‘ جب تمام رشتے تمام ناطے منہ موڑ لیں تو یہی سب سے خالص رشتہ‘ یہی سب سے سچا دوست آس پاس بکھرے اندھیروں میں روشنی کی کرن بن کر جگمگاتا ہے ۔’ماں‘افسردگی میں حو صلہ مایوسی میں امیداور کمزوری میں توانائی۔ ’ماں‘ایک بے مثل جذبہ ‘ایک بے نظیر احساس‘ایک ناقابل بیان تعلق‘ سر کا سایہ بنے تو آسمان کی وسعتیں مات کھا جائیں‘پیار بن کے برسے تو ابر رحمت کو حیرت میں ڈال دے اورآغوش بنے تو اس کے مقابلے میں زمین کا طول و عرض کم پڑ جائے ۔’ماں‘ واحد ہستی جواپنی ذات سے پہلے کسی اور یعنی اپنی’ اولاد‘ کے بارے میں سوچتی ہے۔’ماں ‘وہ ایندھن جو انسان کو نا قا بل یقین کام کرگزرنے کی تو انائی بخشتا ہے ’ماں ‘نیند کے بوجھ اورسرد مو سم کی شدت سے بے نیاز‘ رات کے پچھلے پہرگیلے ہو جانے والے نومو لود کوخوشی خوشی اپنی خشک جگہ دے کر اس کی گیلی اور ٹھنڈی جگہ لے لینے والی ’ماں‘اولاد کی گھر واپسی کے انتظار میں بھوکی پیاسی رات رات بھر جاگنے والی ‘بچے کی تکلیف میں اس سے زیادہ بے کل اور اس کی خو شی و اطمینان کیلئے اپنا راحت و آرام تیاگ دینے والی‘ایک ماں سے کسی نے پو چھا ’آپکے قدموں تلے جنت ہے جو آپکی عظمت کی علامت ہے‘اگر آپ کو کہا جائے کہ اس کے بدلے کچھ مانگو تو آپ کیا ما نگو گی‘ماں نے جواب دیا ’ میں اپنے بچوں کا نصیب اپنے ہاتھ سے لکھنے کا حق مانگوں گی کہ انکی خوشی کے آگے میرے لئے ہر جنت چھوٹی ہے‘ ایک پل جس کے نیچے پانی زور و شور سے بہہ رہا تھا عبور کرتے ہو ئے ماں نے بیٹے سے کہا’میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لو‘بیٹے نے جواب دیا ’نہیں ماں آپ میرا ہاتھ پکڑ لیں‘ماں نے پو چھا ’دونوں میں کیا فرق ہے؟

‘بیٹا بولا’اگر میں نے آپ کا ہاتھ پکڑا تو شاید مشکل وقت میں چھوڑ دوں لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا تو کسی بھی حالت میں نہیں چھوڑیں گی ‘ایک انگریزی کہاوت ہے کہ دنیا میں آنے سے تھوڑی دیر پہلے ایک بچے نے اپنے رب سے پوچھا’میں اس چھوٹے سے نا تواں وجود کیساتھ بے یارو مدد گار دنیا میں کیسے رہ پاؤں گا؟ ‘ جواب ملا’تیرا فرشتہ تیرا منتظر ہے جو ہر طرح سے تیری دیکھ بھال کریگا ‘بچے نے سوال کیا’میں دنیاوالوں کو اپنی بات کیسے سمجھا سکوں گا اور وہ سب کچھ کیسے سمجھ پاؤں گا جو لوگ مجھ سے کہیں گے؟ ‘ جواب آیا’تیرا فرشتہ انتہائی نرمی‘شفقت اور محبت کیساتھ تجھے بولنا اور سمجھنا سکھائے گا‘بچے کا استفسارتھا ’اے رب جب میں تجھ سے بات کرنا چاہوں گا تو کیسے کروں گا؟‘جواب تھا’تیرا فرشتہ تجھے دونوں ہاتھ ملا کے دعا کرنا سکھلا دے گا ‘سوال ’میرا محا فظ کون ہو گا؟ ‘ جواب’تیراا فرشتہ تیری حفاظت کرے گا چاہے اسے اپنی جان پر کھیل کر ہی یہ کام کر نا پڑے‘سوال’ اے رب تجھے نہ دیکھ کر میں ہر وقت اداس رہوں گا‘اسکا کیا ہو گا؟ ‘ جواب’تیرا فرشتہ تیرے ساتھ میری باتیں کرے گا اور بتائے گا کہ تجھے میری طرف کیسے لوٹنا ہے ‘بچے نے جنت سے نکلتے نکلتے جلدی میں پو چھا ’ میرے فرشتے کا نام کیا ہے ‘ جواب تھا ’ ماں ‘’ماں ‘کہ جس کے بارے میں جتنا لکھو کم لگے‘ جتنا بیان کروتشنگی باقی رہے شایدکوئی زبان‘کوئی بیان اور الفاظ کی کوئی بھی ترتیب اس ایک ’رشتے‘ کی تشریح توصیف و تو قیرکو اپنے اندر سمیٹنے سے قاصر ہے ۔