160

دودھ کے مجنوں

یہ جو عرف عام میں جاسوس یا مخبر کہلاتے ہیں یہ بڑی نا قابل اعتبار قسم کی مخلوق ہوتے ہیں ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ یہ لوگ بسا اوقات ڈبل ایجنٹ بھی بن جاتے ہیں ان کو ڈبل ایجنٹ بنانے والے نہ جانے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ جو شخص اپنے ملک کیلئے وفادار نہیں ہوتا کہ جس میں اس نے آنکھ کھولی ہوتی ہے اور جس کا اس نے نمک کھایا ہوتا ہے وہ بھلا ان کا وفادار کیسے بن سکتاہے‘ اس سے پہلے کہ ہم شکیل آفریدی کے بارے میں کچھ مزید لکھیں آئیے ان ڈبل ایجنٹوں کے بارے میں چند معلومات آپ تک پہنچادیں ہیرلڈ جیمس نکلسن نامی ایک امریکن ‘ امریکہ کی سی آئی اے میں 1980 میں شامل ہوا اس نے دنیا کے کئی ممالک میں سی آئی اے کیلئے خدمات سر انجام دیں جن میں سوویت یونین کی جاسوسی کرنا بھی شامل تھااسے روسیوں نے اپنے جام میں اتار لیا اور اس کو تین لاکھ امریکی ڈالر دے کر اس سے اہم فوجی نوعیت کے امریکہ کے راز حاصل کئے امریکہ نے اسکو دھر لیا اور اسے 1997 میں23 سال قید کی سزا سنا دی اس پر ڈبل کراسنگ کا جرم ثابت ہو گیا تھا اس طرح ایک اور امریکی سی آئی اے ایجنٹ رابرٹ فلپ کم و بیش اس قسم کی ڈبل کراسنگ میں پکڑاگیا ۔

اور اسے بھی امریکی عدالت نے 22 سال قید سنا دی رچڑڈ ملر اور ارلزپٹ امریکہ کی ایف بی آئی کے کارندے تھے ان کو بھی روسیوں نے بھاری رقم دے کر خرید لیا تھا انہیں بھی امریکہ کی سی آئی اے نے گرفتار کر لیا اور ان دونوں کو بھی لمبی قید کی سزائیں دی گئیں اور آج بھی قید ہیں‘ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جاسوسی کی تاریخ میں درجنوں کے قریب ایسی مثالیں موجود ہیں کہ کئی جاسوسوں نے جن کو بعض ممالک نے اپنے دشمن ملکوں کی جاسوسی کرنے کا ٹاسک حوالے کیا تھا وہ الٹا ان دشمن ممالک کے خفیہ اداروں پر بھاری رقوم کے عوض بک گئے اور انہوں نے اپنے ملکوں کے کئی اہم راز دشمن ممالک پر فاش کر دئیے امریکہ خود تو ان امریکیوں کو سخت سزائیں دیتا رہا ہے کہ جو اس کے دشمن کے خفیہ اداروں کیلئے کام کرتے پکڑے گئے لیکن حیرت ہے کہ وہ شکیل آفریدی کے بارے میں پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ پاکستا ن اسے امریکہ کے حوالے کر دے یہ اس کی پالیسی میں اگر کھلا تضاد نہیں تو پھر کیا ہے ؟ اس بات میں تو اب شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی کہ شکیل آفریدی سی آئی اے کا ایجنٹ ہے ۔

اس کا اعتراف دو امریکی اہم شخصیات نے کیا ہے یعنی سابق ڈائریکٹر سی آئی لیون پینٹا اور سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے‘ امریکہ تو یہاں تک تیار ہو گیا کہ اس نے پاکستان کو یہ پیشکش بھی کردی تھی کہ اگر شکیل آفریدی کو رہا کرکے امریکہ کے حوالے کر دیا جائے تو وہ اس کے بدلے میں امریکہ میں قید پاکستانی نژاد سائنس دان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کر سکتا ہے پھر اس نوع کی افواہیں بھی اس ملک میں گشت کرتی رہی ہیں کہ امریکہ بزور شمشیر کسی فضائی کاروائی کے ذریعہ جیل توڑ کر شکیل آفریدی کو پاکستان سے امریکہ بھگاناچاہتا ہے شکیل آفریدی کی رہائی پر اصرار کرنے والے امریکیوں کو ہمارا وزیراعظم یا وزیرخارجہ یا پھر پارلیمنٹ ببانگ دہل یہ کیوں نہیں کہتے کہ اگر کسی امریکی نے کسی غیر ملکی خفیہ ادارے کے لئے امریکہ کے اندر کوئی ایسا کام کیا ہوتا کہ جو اس کے مفادات کے خلاف ہوتا تو پھر امریکی کے خلاف کیا کاروائی کرتالیکن اس قسم کا سوال کرنے کیلئے اس ملک کو کسی امام خمینی‘ کسی فیڈل کاسٹرو‘ کسی ماوزئے تنگ یا کسی مہاتیر محمد جیسے لیڈر کی ضرورت ہے۔