199

توانائی بحران‘معیشت‘ٹرانزٹ ٹریڈ

قومی سلامتی کمیٹی نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے آئندہ ماہ کے متوقع اجلاس کے لئے وطن عزیز کی حکمت عملی طے کی ہے اجلاس نے اس ضمن میں پاکستان کے اقدامات پیش کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے دریں اثناء وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ملک میں توانائی بحران کے خاتمے کا اعلان کیاہے ان کا کہنا ہے کہ بحران پر قابوپالیا گیاہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ 2025ء میں توانائی کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوگا وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انرجی سیکٹر کے منصوبوں کا کریڈٹ نوازشریف کو جاتا ہے وزیراعظم خود اعتراف بھی کررہے ہیں کہ بجلی اور گیس چوری ہورہی ہے وہ یہ انکشاف بھی کررہے ہیں کہ انہوں نے صوبوں کو بجلی اور گیس اپنے ذمہ لینے کے پیشکش بھی کی ہے منتخب وفاقی حکومت اپنی مدت انتخاب مکمل کررہی ہے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو آج شام الوداعی گارڈ آف آنر پیش کیاجارہا ہے اور آج ہی رات پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے اس مقصد کے لئے اوگرا کی سمری میں پٹرول 7روپے 46پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کا کہا جارہا ہے سینٹ کی خصوصی کمیٹی کو بتایا جارہا ہے کہ گردشی قرضہ573ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے صرف پاکستان پوسٹ کا خسارہ10ارب روپے تک جا پہنچا ہے بیرونی قرضوں کا بڑھتا حجم اور تجارتی خسارہ اپنی جگہ ہے مہنگائی سے متعلق کتابوں میں دیئے گئے اعداد وشمار کچھ بھی ہوں برسرزمین حقائق ان کی سختی سے تردیدکرتے ہیں غریب اور متوسط طبقے کے لئے ضروریات زندگی کا حصول انتہائی دشوار ہوچکا ہے توانائی بحران اچانک ایک اعلان سے ختم ہونا ایک جانب بجلی کی بندش کے خلاف احتجاج اور مظاہرے بدستور جاری ہیں لوڈشیڈنگ کی وجہ بجلی چوری بتائی جاتی ہے جس کا اعتراف خود وزیراعظم کررہے ہیں۔

تاہم یہ نہیں بتایا جارہا کہ چوری پر قابو پانا کس کی ذمہ داری ہے کسی بھی ریاست میں حکومتوں کی تبدیلی اپنے اپنے قاعدے کے مطابق روٹین کا حصہ ہے اصل بات اداروں سے متعلق پالیسی کی ہے جس میں مثبت اقدامات کو جاری رکھنا اور ضروریات کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے والی پالیسیوں پر نظرثانی ضروری ہوتی ہے دیر آید درست آید کے مصداق حکومت نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے غلط استعمال پر قید وجرمانے کا قانون نافذ کردیا ہے تاہم اس کا ثمر آور ہونا عمل درآمد سے مشروط ہے ملک میں سمگلنگ پر پابندی عائد ہے اس کے لئے قانون اور ضابطہ سب موجود ہیں اس کے باوجود سمگل شدہ سامان سے دکانیں بھری پڑی ہیں حکومت مرکز میں ہو یا کسی بھی صوبے میں اس کے خاتمے پر یہ کہنا قطعاً درست روش نہیں کہ سابقہ دور میں سب غلط تھا اچھے اور مثبت اقدامات کیساتھ عوامی ریلیف کے منصوبے اس بات کے متقاضی ہوتے ہیں کہ انہیں نہ صرف جاری رکھا جائے بلکہ وقت کے ساتھ ان میں بہتری لائی جائے اصلاح احوال کی گنجائش سے انکار ممکن نہیں کسی بھی سیکٹر میں ہو ریفارمز کا عمل جاری وساری رہنا چاہیے ۔

قملکی انتظام وانصرام سنبھالنے والوں کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے سے پہلے حکمرانوں کے ایسے اقدامات اور اعلانات کو عملی صورت دینے پر توجہ مرکوز کریں کہ جو صرف فائلوں میں لگے نظر آتے ہیں اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ قاعدے قانون کی پابندی اور عوام کو خدمات کی فراہمی کے لئے وضع اقدامات پراگر صحیح سپرٹ کے ساتھ کام کیاجائے تو نتائج یقینی ہی ہوتے ہیں ہمارے ہاں ماضی میں بعض حکومتوں کے شروع کردہ اچھے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے سے گریز کیا گیا جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا ایسے پر اجیکٹس پر اگر بعد میں کام کر بھی لیا جائے تو ان پر لاگت کا تخمینہ بڑھ جاتا ہے جس کا بوجھ بھی قومی خزانے پر ہی مرتب ہوتا ہے ضرورت معیشت اور ترقی کے حوالے سے پورے منظرنامے کا جائزہ لیکر ٹھوس اورپائیدار حکمت عملی مرتب کرنے کی ہے۔