104

معاشرہ‘ خوف اور کتاب

کھیل سے سماجی خدمات اور بعدازاں سیاست کی پگڈنڈیوں سے وادیوں کی سیاحت تک تحریک انصاف کے خالق عمران خان کی نجی و عملی زندگی ہمیشہ ہی سے شہ سرخیوں کی زینت رہی بالخصوص جب انہوں نے 6 جنوری 2015ء کے روز دوسری مرتبہ شریک حیات کیلئے حسن اتفاق سے ایک ایسی خاتون کا انتخاب کیا‘ جو پہلی بیوی کی طرح مغربی ذرائع ابلاغ کے لئے جانا پہچانا نام تھیں۔ محترمہ ریحام خان سے عمران خان کی دوسری شادی بھی پائیدار ثابت نہ ہوئی تو قصوروار کون تھا‘ جس کا تعین ہونا باقی ہے بہرحال شادی کے چند ہی ماہ بعد دونوں میں علیحدگی کی خبریں آنے لگیں‘ جن کا اختتام 30 اکتوبر 2015ء کے روز ہوئے طلاق کے باقاعدہ اعلان کیساتھ ہوا‘ اگرچہ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی نجی زندگی عوامی حلقوں میں زیربحث لائے یا اسے الگ رکھے لیکن یہ اصول کرکٹ کے آل راؤنڈر‘ عمران خان کو بہت دیر سے سمجھ آیا جسکی روشنی میں شاید انہوں نے رواں برس اپنی تیسری شادی کی تفصیلات تاحال صیغۂ راز میں رکھی ہوئی ہیں اور اس بارے میں زیادہ بات کرنا پسند نہیں کرتے‘بشریٰ بی بی پاک پتن کے معروف مانیکا خاندان سے تعلق رکھتی ہیں‘ عمران خان کی پہلی شادی 1995ء میں برطانوی خاتون جمائما گولڈسمتھ سے ہوئی‘ جو سال 2004ء میں یہ کہتے ہوئے طلاق پر اختتام پذیر ہوئی کہ جمائما پاکستانی معاشرے میں خود کوایڈجسٹ نہ کرسکیں یعنی قصور جمائما ہی کا تھا جن سے عمران خان کے دو صاحبزادے اکیس سالہ سلیمان خان اور انیس سالہ عیسیٰ خان ہیں اور یہ دونوں نوجوان برطانیہ میں اپنی والدہ کے پاس مقیم ہیں‘کسی سیاسی رہنما کی نجی زندگی کے بارے میں جاننے کیلئے نہ صرف اسکی تقلید کرنیوالے کارکن بیتاب رہتے ہیں بلکہ ذرائع ابلاغ کا مزاج یہ ہے کہ انہیں اور سیاسی مخالفین کو ایسی تفصیلات حاصل کرنا ہوتی ہیں‘ کہ جن کے بارے میں عوامی حلقوں میں دلچسپی پائی جائے۔

سیاست میں سب کچھ جائز سمجھنے والے اپنے مخالفین کو نیچا دکھانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور یہی وجہ ہے کہ جب سے عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے اپنی سوانح عمری شائع کرنے کا اعلان کیا ہے اور ابھی کتاب شائع بھی نہیں ہوئی لیکن اُس کا غیرمصدقہ مسودہ منظرعام پر آنے سے تحریک انصاف کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ عمران خان کی نجی زندگی کے واقعات کو اچھال کر نواز لیگی حلقے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ’دیکھو عمران خان پاکستان کی قیادت کرنے کے اہل نہیں‘لیکن کسی کتاب پر انتہائی شدید ردعمل کا مظاہرہ کرنے کی بجائے عمران خان اور پوری تحریک انصاف کو 1697ء میں برطانوی مصنف ولیم کونگریوکے تحریرکردہ دی مارننگ برائیڈ سے سبق سیکھنا چاہئے جس سے انہیں ریحام خان کوسمجھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’محبت سے نفرت میں بدلنے والے غصے کا کوئی مقابلہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی توہین کی شکار ہونے والی کسی عورت کے غیض و غضب کا مقابلہ ممکن ہے۔‘‘ذرائع ابلاغ ہوں یا سوشل میڈیا ریحام خان اور تحریک انصاف کے حامیوں کے درمیان تند و تیز اور تلخ جملوں کے تبادلوں پر مبنی بحث و مباحثے جاری ہیں‘ جن سے یہی عیاں ہو رہا ہے کہ تحریک انصاف کا سب سے بڑا خوف ریحام خان کی کتاب ہے‘ جو اگرعام انتخابات سے پہلے شائع ہو جاتی ہے تو یہ تحریک انصاف کے ووٹوں میں کمی کا سبب بنے گی حالانکہ یہ غلط تاثر ہے کیونکہ ایک تو پاکستانی قوم کتب بینی کا اس قدر ذوق نہیں رکھتی کہ وہ کسی کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لے اور پھر اسکے ہر ایک لفظ کو حافظے میں محفوظ کرتے ہوئے ووٹ دینے جیسا فیصلہ بھی اسی بنیاد پر کرے ممکن ہی نہیں‘ ۔

افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں خواتین کو اس محدود کردار سے متعلق بچپن ہی میں تربیت دی جاتی ہے اور ان کی شخصیت کو ایسے ڈھالا جاتا ہے کہ وہ مردوں کے مقابلے خود کو کمتر سمجھیں‘بھائیوں کو ہمیشہ بہنوں پر فوقیت دینا پڑھے لکھے اور ان پڑھ گھرانوں میں یکساں رائج استحصال ہے‘المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں شادیاں والدین کی پسند و انتخاب سے کی جاتی ہیں لیکن ریحام خان ایسی خاتون نہیں جو اِس حالات کے جبر پر صبر کر لیں بلکہ وہ ہرقسم کے صورتحال کا مقابلہ کرنے کی سکت اور ارادہ رکھتی ہیں اور اِس سے بڑھ کر یہ بات کہ وہ اپنی شخصیت‘ تشخص اور شناخت کا دفاع کرنے میں کسی سے خوفزدہ بھی نہیں‘پاکستان اور پاکستان کی سیاست و سماج میں دلچسپی رکھنے والوں کو ان کی کتاب کا انتظار ہے‘ جس سے سماج کی عمومی سوچ پر زیادہ فرق تو نہیں پڑے گا لیکن ریحام جھیل کنارے کھڑی ہیں اور ان کے ہاتھ میں پتھر دیکھا جا سکتا ہے جو ایک پرسکون جھیل میں وقتی ارتعاش پیدا کرسکتا ہے۔