151

جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

محمود خان اچکزئی صاحب فرماتے ہیں کوئی پاکستانی آرٹیکل63,62 پر پورا نہیں اترتا اس بناسوچے سمجھے بیان سے کیا یہ اخذ کر لیا جائے کہ وہ اس مفروضے کی آڑ میں یہ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کا الیکشن لڑنے والے کو چھلنی سے نہیں چھاننا چاہئے ؟ اس چھلنی کو استعمال نہ کرنے کی وجہ سے ہی تو ہمارے ملک میں اب تک کوئی ایسی مقننہ وجود میں نہ آ سکی کہ جسے قوم مثالی قرار دے سکتی اور جس پر اسے فخر ہوتا پارلیمان ایک ایسا ریاستی ادارہ ہے کہ جس کے اراکین اگر فرشتے نہ ہوں توکم از کم فرشتہ صفت ضرور ہوں ان کی عمومی شہرت اچھی ہو وہ ٹیکس چور نہ ہوں انہوں نے بینکوں سے قرضے لیکر ان کو ہڑپ نہ کیا ہو وغیرہ ‘یہ بات تو بالکل لغو ہے کہ ہر نتھو خیرے کو کھلی چھٹی دے دی جائے کہ وہ الیکشن کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے اور ریٹرننگ افسروں کو آنکھیں بند کرکے انکے فارموں کے ان مندرجات کو من وعن قبول کر لینا چاہئے کہ جو انہوں نے لکھے ہوں وہ جانیں اور ان کے ووٹرز ‘انہی ووٹرز کے بارے میں ہی تو شاعر مشرق نے کیا خوب کہا ہے کہ
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
اور ایک دوسری جگہ علامہ اقبال کا یہ بھی فرمان ہے
گریز از طرز جمہوری غلام پختہ کارے شد
کہ از مغز دو صد خر فکر انسانی نہ می آید

آسان الفاظ میں فارسی کے ا س شعر کا مطلب یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ جو لو گ اکثریت میں کسی کے حق میں ووٹ ڈالیں وہ ذہنی طور پر بھی اعلیٰ وارفع مقام رکھتے ہوں کیا دوسو گدھے مل کر بھی انسانی فکر جیسی کوئی چیز پیدا کر سکتے ہیں؟ آج کل بعض سیاسی قوتیں یہ نعرہ بھی بڑے زور و شور سے لگا رہی ہیں کہ ووٹ کو عزت دو ‘ عوام نے توہمیشہ ووٹ کو عزت دی ہے لیکن جن لوگوں کو انہوں نے ووٹ دیا وہ ان کی توقعات پر پورا نہ اتر سکے عوام نے جن لوگوں کو ماضی میں اکثریتی ووٹ دیکر اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھایا انہوں نے طاقت کے نشے میں ووٹ کے تقدس کو پامال کیا اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ برسراقتدار لوگوں نے اقتدار کو اپنی ذاتی پراپرٹی بڑھانے کیلئے بے دریغ استعمال کیا اور ابن خلدون کے اس مقولے کو سچ ثابت کر دکھایا کہ حیف ہے ۔

اس قوم پر جس کے ارباب اقتدار کا تعلق تاجر برادری سے ہو کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ اس قسم کے ارباب اقتدار نے ہمیشہ اقتدارحاصل کرنے کیلئے اپنی دولت کو استعمال کیا اور پھر اقتدار میں آ کر اپنی دولت کو مزید بڑھایا یہی تو وہ لوگ ہیں کہ جو خود تو گوشت کھاتے ہیں اور غریبوں کا منہ بند کرنے کیلئے ان کے آگے ہڈیاں اور چھیچھڑے پھینک دیتے ہیں‘ کبھی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی شکل میں تو کبھی تعمیر پاکستان یا کسی اور نام کے نیچے‘ اگر ان حکمرانوں نے واقعی ووٹ کو عزت بخشی ہوتی تو عوام الناس کی زندگی میں آج بہتری آچکی ہوتی انہوں نے کبھی عوام کو اسلام کے نام پر تو کبھی سوشلزم کے نام پر لوٹا لوگوں کی یاداشت نہ جانے کیوں اتنی کمزور پڑ جاتی ہے کہ وہ ہر بار اپنی گردن ان کے خنجر کے نیچے رکھ دیتے ہیں اب کی دفعہ بھی اگر انہوں نے اپنے آپ کو ان کے ہاتھوں ایک مرتبہ پھر لٹانے کیلئے پیش کر دیا تو پھر ہم بخر قتیل شفائی کے اس شعر کے علاوہ اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ
قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
جوظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا