319

موبائل فون: ٹیکس در ٹیکس

8 مئی2018ء: سپریم کورٹ نے وفاقی و صوبائی حکومتوں اورایف بی آر کو حکم دیاہے کہ وہ موبائل فون کارڈز پر وصول کئے جانیوالے 42 فیصد ٹیکسوں کی تفصیلات بارے جامع جواب جمع کروائیں‘عدالت نے اس ظالمانہ حقیقت کی جانب بھی اشارہ کیا کہ موبائل فون ری چارج پر 5.5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس 19 فیصد سیلز ٹیکس اور 10فیصد سروس چارجز منہا کئے جا رہے ہیں تو کیا یہ صارفین کا اِستحصال نہیں؟ عدالت نے یہاں تک کہہ دیا کہ موبائل فون ری چارج کے ذریعے ٹیکس وصولی کا طریقہ کار غیرقانونی ہے۔11 جون 2018ء: سپریم کورٹ لاہور رجسٹری‘ نے موبائل فون ری چارج پرایف بی آر اور موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے وصول کئے جانے والے ٹیکسوں کو معطل کرتے ہوئے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرنے کیلئے دو دن کی مہلت دے دی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ موبائل کارڈ پر اضافی ٹیکس کی وصولی پر لئے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کر رہا تھا۔ سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے ریمارکس دیئے گئے کہ سو روپے کا کارڈ لوڈ کرنے پر چونسٹھ روپے اڑتیس پیسے مختلف مدوں میں کٹوتی سراسر غیر قانونی ہے۔

عدالت عظمیٰ کے سامنے زیرغور معاملہ موبائل فون ری چارج پر عائد مختلف ٹیکسوں کی شرح کا ہے حالانکہ صرف موبائل ہی نہیں بلکہ بجلی و گیس اور دیگر خدمات پر بھی اسی قسم کے ٹیکس عائد ہیں لیکن موبائل صارفین سے وصولی کے ٹیکسوں کے علاوہ بھی کئی ایسے طریقے ہیں جنکے ذریعے کمپنیاں لوٹ کھسوٹ میں ملوث ہیں اور چیف جسٹس کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ معاملہ ٹیکس در ٹیکس ہی کا نہیں بلکہ موبائل فون کمپنیوں کے کاروباری طریقوں کا بھی ہے جس میں صارفین اور ملازمین کو بے خبر رکھتے ہوئے ان کا استحصال ہو رہا ہے جیسا کہ کنیکٹنگ چارجز۔ کالز‘ ایس ایم ایس اور ڈیٹا بنڈلز اور خصوصی آفرز‘ ان کے علاوہ نئے کنکشن کی قیمت‘ سم کے دوبارہ اجرا یا کوائف کی تبدیلی کی صورت بھی کم معلومات رکھنے والے صارفین کو لوٹا جا رہا ہے موبائل فون کا صارف اگر اپنے اکاؤنٹ کا بیلنس معلوم کرے تو اس پر بھی اس سے پیسے کاٹے جاتے ہیں لیکن اگر کوئی صارف اپنے خریدے ہوئے وائس منٹس‘ ایس ایم ایس اور ڈیٹا استعمال نہ کرے تو انہیں خود سے طے کردہ مدت کے بعد ختم کر دیا جاتاہے‘موبائل فون کریڈٹ لینے کی صورت میں سود کاٹنے جیسی روایت بھی عام ہے‘ عدالت عظمی کو اس بات کا بھی نوٹس لینا چاہئے کہ ایک ہی جیسی خدمات فراہم کرنیوالی کمپنیاں پری پیڈ اور پوسٹ پیڈ صارفین سے الگ الگ سلوک روا رکھے ہوئے ہیں‘ تو ایسا کیوں ہے؟ پانچ سے زیادہ موبائل کنکشن حاصل کرنے پر پابندی کیوں عائد ہے؟ کوئی صارف اپنے فون سے ایک گھنٹے میں دو سو سے زائد ایس ایم ایس کیوں نہیں کر سکتا جبکہ وہ ایس ایم ایس کی قیمت پہلے ہی ادا کر چکا ہوتا ہے؟ موبائل فون صارفین کا ریکارڈکیوں غیرمحفوظ ہے اور یہ اشتہاری کمپنیوں تک کیسے پہنچ جاتا ہے؟پاکستان میں غیرقانونی موبائل فون کنکشن ختم کرنے کیلئے حکومت کی جملہ کوششیں اسلئے ناکام ثابت ہوئیں۔

کیونکہ اس سلسلے میں موبائل فون کمپنیوں نے نہ تو خاطرخواہ تعاون کیا اور نہ ہی غیررجسٹرڈ شدہ فون کنکشنوں کو حسب اعلان بند کیا گیا‘نئی سم کی فروخت کو بائیو میٹرک تصدیق سے مشروط کر دیا گیا ہے کہ لیکن کروڑوں کی تعداد میں ایسے غیررجسٹرڈ کنکشن پورے نظام کو مذاق بنائے ہوئے ہیں اِس پوری صورتحال کا واحد حل یہی ہے کہ پری پیڈ فون کنکشن ختم کرکے موبائل صارفین کو پوسٹ پیڈ کنکشن فراہم کئے جائیں‘ہر فون کنکشن کا بل اس کے مقررہ پوسٹل ایڈریس پر ارسال ہو اور نئی سم کی جابجا سڑک کنارے راہ چلتے اور دکانوں پر کھلے عام فروخت کی بجائے صرف پوسٹل ایڈریس کے ذریعے فراہمی کی جائے ‘ موبائل فون کے ٹیکس ہی نہیں بلکہ اس پورے کاروبار سے جڑے کاروباری مفادات نہ صرف صارفین کے بلکہ قومی مفادات سے بھی متصادم ہیں اور اس سے جڑی جملہ بے قاعدگیوں کا خاتمہ کرنے کا یہی نادر موقع ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے درخواست ہے کہ وہ ازخود نوٹس کو صرف موبائل فون ری چارج پر عائد ٹیسکوں کی شرح تک محدود نہ رکھیں بلکہ اِس میں نئے کنکشن کے حصول‘ موبائل سم کے دوبارہ اِجرا‘ کریڈٹ معلومات اور کسی صارف کے اپنے بیلنس جاننے کی مقررہ قیمت کا بھی احاطہ کیا جائے‘ اگر چیف جسٹس کی توجہ موبائل فون ٹیکسوں کی جانب مبذول ہے تو اس میں بزنس کی آڑ میں اس لوٹ مار کو بھی شامل کیا جائے جس میں ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستانی افرادی اور قومی وسائل کا کھلے عام استحصال کر رہی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں!