160

مالی مشکلات: علاج غم

مشرف دور میں قرضے معاف کرانیوالوں کے معاملات ان دنوں سپریم کورٹ میں زیرسماعت آئے تو عدالت عظمیٰ کے حکم پر سٹیٹ بینک نے قرض معاف کرانیوالے چھ ہزار سے زائد افراد کے ناموں کی فہرست انکے حاصل شدہ اور معاف کرائے گئے قرضوں سمیت مرتب کرکے عدالت میں پیش کی‘اس فہرست میں کئی نامی گرامی ہستیوں کے نام بھی موجود تھے جبکہ نامور سیاستدانوں‘ بیوروکریٹس‘ تاجر اور صنعت کار قرض نادہندگان میں شامل ہیں‘ ان میں سے اکثر پلی بارگیننگ کے فارمولے پر عمل کرکے نیب کے شکنجے سے نکل آئے اور بینکوں سے کروڑوں روپے قرضے نکلوانے اور معاف کرانے کا سلسلہ مشرف کے دور میں بھی اور پھر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کے ادوار میں بھی برقرار رہا‘بدقسمتی سے انہی طبقات کی اکثریت عوام کی نمائندہ بن کر پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں براجمان ہوتی رہی ہے جہاں مفاداتی اکٹھ کی بنیاد پر اپنے حقوق و مفادات پر کسی قسم کی زد نہ پڑنے دینے کیلئے قوانین وضع کئے جاتے رہے اور مجبور و محکوم عوام کو ہمیشہ ٹھینگا دکھایا جاتا رہا‘ ان طبقات کی دھکا شاہی کا اندازہ اس سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ مشرف دور کی اسمبلی میں اسوقت کے وزیر خزانہ حفیظ اللہ شیخ نے اپنی بجٹ تقریر کے دوران اس امر کا اعتراف کیا تھا کہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں سمیت ان منتخب ایوانوں میں بیٹھے گیارہ سو منتخب ارکان میں سے ساڑھے آٹھ سو ارکان ٹیکسوں کی مد میں قومی خزانے میں ایک دھیلا بھی جمع نہیں کراتے اور باقی ماندہ ارکان کی اکثریت بھی ٹیکس ڈیفالٹر ہے جسکے باعث قومی آمدنی تنزلی کا شکار ہے اور حکومت کو خسارے کا بجٹ پیش کرنے کی مجبوری لاحق ہوجاتی ہے!

خوش آئند ہے کہ سپریم کورٹ نے 54ارب روپے قرض معاف کرانیوالی 222 کمپنیوں اور افراد سے ایک ہفتے کے اندر اندر تفصیلی جواب طلب کیا ہے‘چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے خصوصی بنچ نے یہ احکام گزشتہ روز قرضہ معافی سے متعلق اَزخود نوٹس کیس کی سماعت کے بعد صادر کئے‘ دوران سماعت فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر قوم کے پیسے واپس نہ کئے گئے تو معاملہ نیب کے حوالے کر دیں گے اور قرض نادہندگان کی جائیدادیں بھی ضبط کرلی جائیں گی‘فاضل چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ قوم کے 54ارب روپے ڈکارے گئے‘ قرض خوروں نے لینڈ کروزر اور پراڈو گاڑیاں رکھی ہوئی ہیں‘ انہیں بہرصورت پیسے واپس دینے ہونگے‘ فاضل عدالت نے باور کرایا کہ جو کمپنیاں عدالت میں پیش نہیں ہوتیں‘ انکے خلاف یک طرفہ کاروائی ہوگی اور جو کمپنیاں ختم ہوچکی ہیں‘ انکے مالکان سے وصولیاں کی جائیں گی‘المیہ نہیں توکیا ہے کہ قیام پاکستان کیساتھ ہی اس ارض وطن کو شیرمادر سمجھ کر چوسنے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا‘ سب سے پہلے جعلی کلیموں کے ذریعے اس ملک کی قیمتی اراضی اور عمارات الاٹ کرانے کے عمل میں لوٹ مچائی گئی اور پھر مفاد پرست طبقات نے جو پہلے بھارت میں انگریز اور ہندو کی چاکری کرکے اپنے لئے فائدے سمیٹتے رہے‘ پاکستان آنے کے بعد یہاں اسٹیبلشمنٹ کیساتھ گٹھ جوڑ کرلیا اور یہاں کسی مستحکم نظام کی بنیاد نہ رکھنے دی۔ قومی وسائل کی لوٹ مار کے علاوہ ٹیکس چوری اور واجب الادا ٹیکس ادا نہ کرنے کی سینہ زوری والا کلچر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے سیاسی و غیر سیاسی فیصلہ سازوں کی اکثریت مالی بددیانت میں ایک دوسرے سے سبقت لیجاتی نظر آتی ہے۔

ایک سے بڑھ کر ایک ٹیکس چور اور قومی وسائل لوٹنے والا رہنما بنا دکھائی دیتا ہے‘ حالیہ سماعت کی طرح ایسے ہی انکشافات اسوقت بھی ہوئے جب پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں سوئس بینکوں میں موجود پاکستانیوں کی رقوم کے حوالے سے ایک کیس زیرسماعت ہوا‘ جسکی تفصیلات آئیں تو پوری قوم ششدررہ گئی کہ نمائندگی کرنے والے پارلیمنٹیرینز اور دیگر مراعات یافتہ اشرافیہ طبقات بشمول بیوروکریٹس‘ بینکاروں اور صنعتکاروں کی چار سو ارب ڈالر سے زائد رقوم سوئس بینکوں میں رکھی ہوئی ہیں جو اگر ملک واپس لائی جائیں تو ہمیں بیرونی قرضوں سے نجات مل سکتی ہے تاہم یہ رقوم ملک واپس لانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا ایک وزیراعظم نے اپنے منصب کی قربانی دے دی مگر اسوقت کے
صدر مملکت کی سوئس بینکوں میں موجود رقم پاکستان منتقل کرنے کیلئے متعلقہ سوئس حکام کو مراسلہ بھجوانے کا روادار نہ ہوا اس کے بعد پانامہ لیکس بھی آئے‘ اب چیف جسٹس نے قرضے معاف کرانیوالوں کے معاملات کی جانچ پڑتال کا سلسلہ شروع کیا ہے تو پہلے نیب کے پلی بارگیننگ والے قانون پر نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ قرض معافی کلچر کو فروغ دینے والے عناصر کسی قانونی رعایت کا سہارا حاصل نہ کر سکیں۔