149

نیر نگی سیاست

2008ء سے لے کر 2013ء تک پورے پانچ برس پی پی پی کی حکومت نے قوم کو وعدہِ فردا پر ٹرخایا کہ بس کوئی دن جاتا ہے کہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوا چاہتا ہے اس ضمن میں ایک بار نہیں کئی بار ڈیڈ لائنز بھی دی گئیں متعلقہ وزیر صاحب کو میڈیا نے راجہ رینٹل کے خطاب سے بھی نوازا۔ کم و بیش انہی حربوں کو بروئے کار لاکر (ن) لیگ کی حکومت نے بھی پورے پانچ برس تک یعنی 2013ء سے لے کر 2018ء تک قوم کو ماموں بنایا دس سال بیت گئے ہیں حکمرانوں کے لارے لپوں پر لوڈشیڈنگ نے نہ ختم ہونا تھا اور نہ وہ اب تک ہوسکی ہے قوم اتنی بھی بے وقوف نہیں ہے کہ وہ گزشتہ حکومت کے بعض اہلکاروں کی ان باتوں میں آجائے کہ لوڈشیڈنگ کی ذمہ دار نگران حکومت ہے۔ لگتا یوں ہے کہ 2018ء کے الیکشن کے نتیجے میں اس ملک میں جو حکومت معرض وجود میں آئے گی لوڈشیڈنگ کا قضیہ اب اسے ورثے میں منتقل ہوگا لہٰذا قوم خاطر جمع رکھے ابھی اسے نہ جانے یہ مصیبت کتنے مزید عرصے جھیلنی پڑے ابھی کچھ عرصے تک ہر سیاسی پارٹی کے اندر موجود وہ افراد آسمان سر پر اٹھا رکھیں گے کہ جن کو پارٹی قیادت نے الیکشن میں کسی بھی اسمبلی کا ٹکٹ نہیں دیا ان میں بعض تو خفا ہوکر گھر بیٹھ جائیں گے اور کئی پارٹی کو چھوڑ کر کسی دوسری سیاسی پارٹیوں کا رخ کریں گے کہ جہاں ان کو دال گلتی نظر آئے گی بعض سیاسی پارٹیوں نے اسمبلیوں کے الیکشن کے لئے ٹکٹ تقسیم کرتے وقت اپنے پرانے ساتھیوں کو نظرانداز کرکے نئے فصلی بٹیروں کو ٹکٹ دئیے ہیں جس سے پرانے ورکروں کی خواہ مخواہ دل آزاری ہونی تھی افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے سیاسی پارٹیاں تو بنا ڈالیں پر ان کو چلانے کے لئے پارٹیوں کے اندر صحیح‘ سیاسی کلچر کو فروغ نہیں دیا۔

صحیح معنوں میں جمہوری ممالک میں سیاسی پارٹیوں کے اندر جو مختلف مناصب ہوتے ہیں ضروری نہیں کہ ان پر فائز افراد کو الیکشن میں پارٹی کے ٹکٹوں سے بھی نوازا جائے کسی بھی سیاسی پارٹی کے اندر جو سمجھ بوجھ اور سیاسی شعور رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں وہ سیاسی پارٹی کے اندر مناصب پر تعینات کردئیے جاتے ہیں اگر ان کی حکومت بن بھی جائے تو ان کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ حکومت سے باہر بیٹھ کر اپنی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزراء اور وزارتوں کی کارکردگی پر گہری نظر رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ پارٹی کے منشور سے انحراف نہ کریں چونکہ اس قسم کے سیاسی کلچر کو کسی بھی سیاسی پارٹی نے فروغ نہیں دیا آج ہر پارٹی میں کسی نہ کسی عہدے پر فائز فرد یہ توقع رکھتا ہے کہ اسے تو خواہ مخواہ بہرصورت الیکشن لڑنے کے لئے پارٹی کی قیادت ٹکٹ دے اور جب اسے کسی وجہ سے ٹکٹ نہیں ملتا تو وہ پھر اپنا منہ بسور لیتا ہے اصولی طور پر تو یہ ہونا چاہئے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی کا قائد یا پارٹی کے اندر اہم مناصب پر تعینات سیاسی شخصیات کو اسمبلیوں کا الیکشن لڑنا ہی نہیں چاہئے وہ اپنی اپنی پارٹیوں کے اندر متحرک قسم کے جواں سال ورکرز جو تعلیم یافتہ بھی ہوں اور اچھی شہرت شہرت کے مالک بھی ان کو الیکشن لڑوائیں اور پھر باہر بیٹھ کر ان کی مناسب رہنمائی کریں۔