184

خبردار، ہوشیار

فاٹا انضمام کی خوشیوں کی گونج ابھی باقی تھی کہ پہلے شمالی اورپھرجنوبی وزیرستان سے تشویشنا ک خبریں سامنے آنے لگیں شمالی وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ میں تیزی آئی ہے تو وانا میں گزشتہ دنوں جو ناخوشگوارواقعہ رونماہوا اس نے سنجیدہ فکر حلقوں کی تشویش میں اضافہ کردیاہے پی ٹی ایم کے دعوے کے مطابق ان کے حامیوں پر مقامی طالبان نے حملہ کرکے ان کے دو کارکن مارڈالے ہیں جبکہ دوسری طرف یہ اطلاعات ہیں کہ پی ٹی ایم کی طرف سے ریاست اور فوج کے خلاف نازیبا نعرہ بازی سے مقامی آبادی کاانکے ساتھ ٹکراؤ ہوا وانا سے جو اطلاعات آرہی ہیں وہ مخصوص چھلنیوں میں گزر کر آرہی ہیں اسی لیے صورت حال واضح نہیں ہورہی بہتر تویہ ہوتاکہ انضمام کے بعدا ب یہ علاقے کھو ل دیئے جاتے او رمیڈیاجاکرخود حالات کاجائزہ لیتا جس طرف سے جھوٹ بولا جاتاوہ فوری طور پر پکڑ میں آجاتا میڈیا کے نہ جانے سے سوشل میڈیا میں ایک طوفان بپا کردیاگیا ایسا تاثر دیاگیاکہ جیسے وانا میں دشمن فوج گھس آ ئی ہو اور اب وہ دیگر علاقوں کی طر ف پیشقدمی کررہی ہو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے لیے را ہیں کھول کرہی بے لگا سوشل میڈیا کو قابو کیاجاسکتاہے کس قدر افسوس کامقام ہے کہ تنازعہ کسی اور کے ساتھ تھا مگرالزام ریاستی اداروں پر عائد کردیا گیا پھر ہمارے اچکزئی صاحب کی طرف سے جو ویڈیو پیغام جاری ہوا اس میں بھی بہت کچھ پوشیدہ ہے یہ وہی صاحب ہیں جو فاٹامیں کل 282ووٹوں کے مالک ہیں اورجنہوں نے آخر ی لمحات تک فاٹاکے انضمام کوروکنے کی کوشش کی اب جبکہ انضمام ہوچکاہے تو ان سے ہضم نہیں ہورہا اس لیے جلتی پرتیل ڈالنے میں مصروف ہیں انہی کالموں میں عرض کیاگیاتھاکہ پی ٹی ایم کے اکثر مطالبات بے ضرر اور جائز ہیں خود عسکری قیاد ت ان مطالبات کو پور ا کرنے کا عندیہ بارباردیتی رہی ہے جو خوش آئند امر ہے۔

اسی لیے پی ٹی ایم کے ساتھ مذاکرات کے لیے جرگہ تشکیل دیا گیا جس میں سرکار ی نہیں بلکہ عوامی اور قبائلی رہنما شامل ہیں اس جرگے نے پی ٹی ایم کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور کیے مگرافسو س کہ پی ٹی ایم نے خود مذاکرا ت کرنے کے بجائے ایسے لوگوں پر مشتمل 31رکنی جرگہ نامزدکیا جن میں سے اکثرسیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں اوریہی سیاسی خانہ بدوش کسی صورت پی ٹی ایم اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی کامیابی نہیں چاہتے اسی لیے کہاجانے لگاہے کہ پی ٹی ایم کامقصد مذاکرات نہیں بلکہ وقت ضائع کرناہے تاکہ فاٹاانضمام سے پیدا ہونے والے خوشگوار ماحول کو متاثر کیا جاسکے جب تحریک غیر سیاسی تھی اور اس کو غیر سیاسی رکھنے کااعلان کیا گیاتھا تو پھر مذاکرات کے لیے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤ ں کو کیوں آگے کیا جا رہا ہے پی ٹی ایم کاجرگہ منظور پشتین ،علی وزیر اورمحسن داوڑ پر بھی تومشتمل ہوسکتاتھا اور اگرایساکیاجاتاتو زیادہ بہتر ہوتا پی ٹی ایم خود کو فوجی کاروائیو ں کاردعمل قراردے رہی ہے تو سوال یہ پیداہوتاہے کہ جن سیاسی جماعتوں نے ان کاروائیوں کی حمایت کی ان کے رہنماؤں پر مشتمل جرگہ کاجواز کیاہے کیایہ قول وفعل کاواضح تضاد نہیں پی ٹی ایم میں کوئی اورنہیں ہمارے ہی بھائی شامل ہیں جو ناراض ہیں غصہ میں ہیں۔

مایوس ہیں ان کو منانا ہے مروانانہیں ،ان کو گلے لگاناہے ان کے گلے کاٹنے نہیں ان کوقریب لاناہے ان دشمن کی گود میں پھینکنانہیں اس لیے گولی کی زبان بندی ضروری ہے وانا واقعہ کی غیرجانبدارانہ تحقیقا ت کے ساتھ ساتھ سابقہ فاٹا کو اب بتدریج اوپن کرنا بھی ضروری ہے تاکہ مقامی باشندوں اور باقی صوبہ کے درمیان باہی ربط وضبط بڑھے اسی سے انکی تنہائی ختم ہوگی اوراسی سے سرحد پار بیٹھی ملک دشمن طاقتوں کی سازشوں سے بچاجاسکے گا افغانستان اور وہاں موجود غیر ملکیوں ایجنسیوں سے سرحد پر لگائی جانے والی باڑ کسی صورت ہضم نہیں ہورہی اسی لیے تو پہلے فاٹاانضمام کی راہ روکنے کی کوشش کی گئی اوراب جبکہ انضمام کے فیصلے کے بعد یہ علاقے صوبائی حکومت کے اختیار میں آنے والے ہیں تو بڑے ہی طریقے سے تمام قبائلی اضلاع میں حالات خراب کیے جارہے ہیں تاکہ انضمام کا عمل متاثر ہو اور قبائلی علاقہ جات ماضی کی طر ح وارزون بنے رہیں مگر اب ایسا نہیں ہوگا پی ٹی ایم کاکندھا استعمال کرنے والے سیاسی خانہ بدوشوں کو چہرہ رفتہ رفتہ سامنے آرہاہے جس کے بعدخودپی ٹی ایم کی قیادت کو سوچنا چاہئے کہ یہ لوگ ان کو کہاں لے جانے کی کوشش کررہے ہیں ۔