286

'مصنوعی گردوں' کی تیاری میں اہم پیشرفت

گردوں کے امراض کے دوران ڈائیلاسز کرانا مریض کے لیے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے تاہم لگتا ہے کہ مستقبل میں اس سے نجات مل جائے گی۔

سائنسدان 'مصنوعی گردے' کی آزمائش کرنے والے ہیں جو کہ گردوں کے سنگین امراض کے شکار افراد کے لیے زندگی بچانے والا آپشن ثابت ہوگا۔

اس ڈیوائس کی آزمائش رواں سال کے آخر میں کسی وقت کی جائے گی اور کامیابی کی صورت میں یہ آئندہ چند برسوں کے دوران دستیاب ہوگی، جس سے ایسے مریضوں کو بچانے میں مدد ملے گی جنھیں ڈائیلاسز یا ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہوگی۔

گردے جسم کے اندر خون کے اندر موجود زہریلے مواد کے اخراج، سیال کے صحت مند توازن اور ہارمونز بنا کر بلڈ پریشر کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

گردے اپنے افعال سرانجام نہ دے سکیں تو پھیپھڑوں میں خون اور پانی میں زہریلا مواد جمع ہونے لگتا ہے جس کا نتجہ جان لیوا نکلتا ہے، ابھی اس کا موثر علاج ٹرانسپلانٹ سمجھا جاتا ہے، مگر مریضوں کے مقابلے میں ڈونرز کی تعداد کم ہوتی ہے۔

اس سے ہٹ کر ڈائیلاسز ہی واحد آپشن ہے جو کہ کافی تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔

اب کیلیفورنیا یونیورسٹی کے محققین نے ایسی ڈیوائس تیار کی ہے جو گردوں کے امراض کے شکار افراد کو گردے کام نہ کرنے پر سامنے آنے والے مسائل سے بچانے میں مدد دے گی۔

اس ڈیوائس کی تیاری پر گزشتہ 20 برسوں سے کام جاری تھا۔

یہ ڈیوائس خون میں مواد کو فلٹر کرنے کے ساتھ انہیں مثانے کے ذریعے خارج کرنے میں مدد دے گی۔

اس کو ایسے میٹریل سے تیار کیا گیا جو جسم کے اندر خراب نہیں ہوتا جبکہ اسے ٹیوب کے ذریعے رگوں اور مثانے سے منسلک کیا جائے گا۔

محققین کو امید ہے کہ اس کی آزمائش آئندہ چند ماہ کے دوران انسانوں پر کی جائے گی، اب تک جانوروں میں اس کی کامیاب آزمائش ہوچکی ہے۔

محققین کے مطابق اگر یہ انسانوں کے لیے موثر ثابت ہوئی تو اسے جسم میں گردوں کے ٹرانسپلانٹ کی طرح ہی نصب کی جائے گا۔