256

اے مرے شہر پشاور تری یاد آئی بہت

امریکی ریاست کولوراڈو کا دل ڈینور ایک طرح دار شہر ہے جسے کئی حوالوں سے خوبصورت اور پر سکون گردانا جاتا ہے۔کہتے ہیں اگر سچ مچ کا شفاف نیلا آسمان دیکھنا ہو تووہ یہاں ملے گا سطح سمندر سے ٹھیک سترہ سو ساٹھ گز یعنی 5280 فٹ بلند ہونے کی وجہ سے امریکی ڈینور کو ’’ دی مائیل ہائی سٹی ‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔موسم کے لحاظ سے اس شہر اور علاقہ کو بے اعتبار کہا جاتا ہے یوں تو گرمیا ں اور سردیاں اپنے وقت پر آتی ہیں لیکن کب موسم گرما طویل ہو جائے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ سردی کے آغاز سے پہلے برف باری ہو جاتی ہے اور پھر موسم گرم ہو جاتا ہے‘ زیادہ تر تو خوشگوار ہی رہتا ہے مگر سردی جب بپھر جاتی ہے تو درجہ حرارت انجماد کے پاتال کی خبر لاتا ہے ان دنوں منفی بیس کو بھی پھر غنیمت سمجھا جاتا ہے‘ برف باری کی وجہ سے جھیل ڈلن سے ذرا آگے سرما کے کھیل خوب کھیلے جاتے ہیں اور اس میں سکیز سر فہرست ہے۔ کبھی کبھی جب کسی کے پروگرام میں تبدیلی آتی ہے تو یہی روزمرہ استعمال ہو تا ہے کہ اسی میں خیر ہو گی‘مجھے سات جنوری کو ڈینور آنا تھااور اچانک مجھے تیس دسمبر کو آنا پڑ گیا میں تو پہنچ گیا مگر بعد میں نیو یارک میں موسم نے وہ خبر لی کہ بس چپ ہی بھلی۔ نئے سال کو تو منفی بارہ میں خوش آمدید کہا گیا مگر اسی شب کے آخری حصے میں درجہ حرارت اور بھی کم ہو تا گیا جس سے نیویارک کے باسیوں کو بہت کڑے لمحوں سے گزرنا پڑا مجھے محبی تاج اکبر کے ایک ساتھی آصف نے بتایا کہ نئے سال کے ہنگاموں سے واپس گھر آنیوالی ایک خاتون کوشش کے باوجود اپنے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھولنے میں ناکام رہی اور اپنے ہی گھر کی دہلیز پر گر گئی جہاں صبح تک پڑی رہی اور وہ ٹھنڈ کے ہاتھوں جانبر نہ ہو سکی۔

نئے سال کے آغاز پر ہی برف باری نے شہر کو آن لیا اور پھر شہریوں کو بتایا گیا کہ تین دسمبر سے سردی کی نئی لہر شدید ہو گی جس میں سنو سٹورم اور ونڈ سٹورم کی وجہ سے مزید اضافہ ہو گا اسلئے شہری گھروں سے نہ نکلیں اور اپنے ضرورت کی اشیا پہلے سے خرید کر رکھ لیں اور پھر اس برفانی اور طوفانی موسم کی وجہ سے نیو یارک سے جانے اور آنیوالی سینکڑوں پروازیں روک دی گئیں‘میں سوچنے لگا کہ اگر میرے پروگرام میں یہ اچانک تبدیلی نہ ہوتی تو یقیناً میں اب نہ صرف اس شدید موسم سے دو چار ہو تا بلکہ پرواز بھی میسر نہیں آتی۔ مزے کی بات یہ بھی ہو ئی کہ جب نیویارک میں موسم سفاک ہو گیاتھا تو ڈینور کا موسم خاصا معتدل رہا۔ سورج دن کے وقت پوری آب و تاب سے چمکتا رہا‘ ٹی وی پر موسم کی صورتحال سے آگاہی ہوتی رہی اسلئے میرا خیال تھا کہ میں بھی کوشش کرونگا کہ کم کم ہی گھر سے نکلوں۔ مگر دوسرے ہی دن افراز نے بتایا کہ وہ ایک جنازے پر جا رہا ہے‘ تو میں بھی ساتھ چلوں‘سو گھر سے نکلنا پڑا‘یہاں گھر‘گاڑی‘دفتر‘شاپنگ مال سٹور اور مساجد سب گرم ہو تی ہیں تاہم پارکنگ سے ان جگہوں تک جانے کے دوران ہی سردی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اکثر پارکنگ لاٹس میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے گاڑی دور پارک کرنا پڑتی ہے۔ اس لئے موسم سے دو دو ہاتھ کرنا پڑتا ہے‘ مجھے اور ابتسام کو مسجد کے قریب اتار کر افراز گاڑی آگے لے گیا مگر مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ تیز دھوپ نے سردی کا احساس ہی ختم کر دیا۔ یہیں افراز کے بہت سے دوستوں اور جاننے والوں سے ملاقات ہوئی‘ ۔

معلوم ہوا کہ مرنے والا افراز کے فیملی فرینڈ علی کا سسر تھا اور علی پشاور کے معروف علاقہ جٹاں کے رہائشی اور جانے پہچانے میئرظہور احمد کا برخوردار ہے، اس کے بڑے بھائی سے بھی ملاقات ہوئی۔جب بھی آتا ہوں اس فیملی سے ملاقات ہوتی ہے مجھے یاد ہے کہ دو سال پہلے ان کے والد کی قبر پر فاتحہ دینے میں گیا تھا‘ وہیں ایک صاحب سے افراز نے ملایا اور میرے کان میں سرگوشی کی کہ گزشتہ ہفتے ان کی والدہ کا انتقال ہوا تھا‘میں نے اس سے گلے ملتے ہوئے والدہ کی تعزیت کی توجیسے اس کے آنسوؤں کے آگے بندھا بند ٹوٹ گیا اور اسکی سسکیوں کیساتھ ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے‘ پچاس کے پیٹے میں وہ صاحب اچھے خاصے تنو مند تھے‘ مگر والدہ کے ذکر پر وہ قطرہ قطرہ پگھلنے لگے ، میں نے بمشکل اس کو سنبھالا اور کہا کہ مائیں بھی کبھی مرتی ہیں‘ان کی برکتیں اور دعائیں ہمیشہ بچوں کے ساتھ ہو تی ہیں۔موقع مناسب نہ تھا ورنہ کئی ایک اشعار مجھے یاد آنے لگے تھا ‘بلکہ میرا بھی ایک شعر ایسا ہے جسے اکثر دوست عزیز میجر عامر دہراتے رہتے ہیں
میں اپنی ماں کی دعاؤں کو اوڑھے پھرتا ہوں
ہمیشہ سر پہ مرے اس کا ہاتھ ہوتا ہے

میں نے شعر تو نہ پڑھے البتہ واپسی پر افرازعلی سید سے پوچھا کہ یہ صاحب کون تھے۔کہنے لگے کہ ان کا نام رفیع ہے اور چند قبل ان کی والدہ کا انتقال ہوا ہے‘ان کے جنازے پر بھی انکی حالت دیکھنے لائق نہ تھی‘ انکو اپنی والدہ سے بہت محبت بلکہ عشق تھا، انہوں نے اپنی ماں کی بہت خدمت کی ہے‘ پھر ذرا رک کر افراز نے کہا’’پاپا بس آپ مختصراََ یہ سمجھ لیں کہ رفیع ڈینور کے استاد بشیر انکل( صوفی بشیر احمد) ہیں‘ میرا خیال ہے افراز نے سمندر کو واقعی کوزے میں بند کر دیا تھا‘یوں تو استادبشیر سے ایک زمانہ واقف ہے ‘کار ادب پشاور میں جتنا بھی فروغ پا رہا ہے اس میں ان کا حصہ نمایاں ہے‘وہ ڈاکٹر ظہور اعوان مرحوم اور پروفیسر حسام حر کے کالموں کا جیتا جاگتا کردار بھی ہے‘ لیکن اصل استاد بشیر وہ ہے جس نے اپنی والدہ کی محبت میںیہ سوچ کر شادی نہیں کی کہ کہیں ان کی بیگم ان کی والدہ کی شان میں گستاخی نہ کردیں‘ اس نے اپنی والدہ کی خدمت انکی رحلت پر منتج ہونیوالی طویل تر بیماری میں ایک بیٹے اور ایک مہربان نرس کی طرح کی اور اس خدمت میں کسی کو شریک نہیں ہونے دیا۔ مجھے یاد ہے کہ اس نے والدہ کے جنازے پر مجھے روتے ہوئے کہا تھا کہ آج رات میں اپنے کمرے میں اکیلا کیسا رہوں گا۔ مجھے تو بہت ڈر لگے گا۔

جب تک ان کی والدہ حیات تھیں وہ تقریبات میں کھانا نہیں کھاتے تھے پوچھو تو بتاتے کہ میری والدہ کا کھانا پرہیزی ہے جب وہ کچھ نہیں کھاسکتیں تو میرے حلق سے یہ مرغن کھانے کیسے نیچے اتریں گے۔ افراز رفیع کے بارے میں تفصیل بتا رہا تھا اور مجھے استاد بشیر یاد آتا رہا‘ایک ایک بات دونوں کی مشترک تھی‘ بیماری کے دنوں کی کہانی بھی ایک تھی‘ بلکہ رفیع ا پنی ساری انا‘ پندار اور خفگی کو بالائے طاق رکھ کراپنے کچھ روٹھے ہوئے دوستوں کے پاس بھی گیا اور انکی فیملی سے منتیں کر کے کہا کہ میری خاطر نہیں میری بیمار والدہ کی خاطر میرے گھر آ جاؤ‘ وہ آپ لوگوں کو یاد کرتی ہیں‘ مجھے بتایا گیا کہ اس پورے ہفتے کے دوران اس کی آنکھ خشک نہیں ہوئی بلکہ گھر میں تو اس کی چیخیں اور سسکیاں سینوں کو چیر کر رکھ دیتی ہیں‘اب اسکو یہ قلق ہے کہ کس قبرستان میں اس کی والدہ کی تدفین ہوئی ہے وہ سرد ہواؤں کا علاقہ ہے اب وہ اس کے جسد خاکی کو کہیں قریب لانے کی خواہش رکھتا ہے۔میرا خیال تھا کہ پشاور کا استاد بشیر اپنی مثال آپ ہے مگر اب ڈینور کے رفیع کی بھی وہی کہانی ہے۔ میں نے جب رفعت سے یہ بات کی تو اس نے تو مجھے چپ ہی کرا دیا۔کہنے لگی پشاورکے باسی تو ایسے ہی ہوتے ہیں ’’کیا مطلب ؟‘‘ میں نے پوچھا تو اس نے بتایا کہ رفیع بھی پشاور کا ہے اور میرے علاقے چوک ناصر خان (پھوڑ گراں) کا رہائشی ہے۔ واقعی پشاور محبت کرنے والوں کا شہر ہے۔ فراز نے محبتوں کے مارے شاعر جان کیٹس کی قبر پر کہا تھا نا۔
روم کا حسن بہت دامنِ دل کھینچتا ہے
اے مرے شہر پشاور تری یاد آئی بہت