207

الیکشن کی تیاریاں

لگتا ہے کہ اب انتخابات ہونے جا رہے ہیں‘ اسلئے کہ اب عمران خان کے علاوہ دوسری پارٹیاں بھی میدان میں نکل آئی ہیں‘ ابھی تک صرف ایک ہی آواز سنائی دے رہی تھی کہ فلاں غدار ہے ‘ فلاں نے ملکی دولت لوٹ لی ہے‘فلاں کے دبئی میں اتنے ٹاور ہیں اور اتنے بنگلے ہیں‘ فلاں نے پاکستان کی ساری دولت لوٹ کر انگلستان اور دبئی میں جاءئدادیں بنا لی ہیں وغیرہ ‘ابھی تک دوسری جانب سے کوئی جواب نہیںآ رہا تھا اب دوسری جانب سے بھی میدان سجنے لگے ہیں اور معلوم ہونے لگا ہے کہ جن کو دیانت داری کا سرٹیفیکیٹ ملا ہوا ہے ان میں بھی کافی سوراخ ہیں‘ تاہم جو زبان استعمال کی جا رہی ہے وہ سیاسی قطعاً نہیں کہی جا سکتی‘سیاست میں آج تک توہمیشہ ہی ایک دوسرے کا باہمی احترام کیا جاتا رہا ہے مگر اب جو زبان سیاست میں متعارف کی جا رہی ہے اس سے کم از کم ہمارے کان نا آشنا ہیں‘ہو سکتا ہے کہ نئی نسل اسے پسند کر رہی ہو مگر ہم نہیں سمجھتے کہ یہ سیاست کی زبان ہے یاہونی چاہئے‘سیاست میں ایک دوسرے کو ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور یہ سیاست میں ذوالفقار علی بھٹو لائے تھے‘ مگر یہ نام ذو معنی ضرور تھے مگر شرافت سے گرے ہوئے نہیں تھے‘ مثال کے طور پر وہ خان عبدالقیوم خان کو ڈبل بیرل خان کہتے تھے اس لئے کہ ان کے نام کے آگے پیچھے خان استعمال کیا جاتا تھا‘ اسی طرح دوسرے مخالفین کے نام بھی تھے مگر انہوں نے کبھی کسی کو غدار یا ایسا کوئی نام نہیں دیا تھا۔

مگر اب جو سیاست میں القابات آ رہے ہیں ان سے مجمع وقتی طور پر شاید محظوظ ہوتا ہو مگر یہ دائمی طور پر اپنی رسوائی کا سامان ہوتا ہے‘ انتخابات کا ایک فائدہ البتہ ہوتا ہے کہ سیاستدانوں کے چہرے عوام کے سامنے بے نقاب ہو جاتے ہیں‘ سیاست دان چونکہ ایک دوسرے سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے سارے اچھے برے پہلو جانتے ہیں اسلئے وہ انتخابی تقریروں میں ایک دوسرے کو عوام کے سامنے بے نقاب کر دیتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ دن کو جلسوں میں ایک دوسرے کو کاٹنے والے رات کو ایک ہی جگہ بیٹھے عوام کو بے وقوف بنانے پر ہنس رہے ہوتے ہیں‘لیکن پچھلے انتخابات سے ایک بات ظاہر ہوئی کہ لوگ بڑی تعداد میں لیڈروں کو سننے تو آتے ہیں جس وجہ سے لیڈروں کو اپنے متعلق غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ وہ بہت زیادہ مشہور ہیں مگر جب ووٹوں کا نتیجہ آتا ہے تو بات بالکل مختلف ہو جاتی ہے اور پھر نئے جھگڑے جنم لیتے ہیں جن کو عوام انجوائے کرتے ہیں‘بعض لیڈروں کو عوام کا یہ رویہ مستقل پاگل پن کی طرف لے جاتا ہے اور وہ خواب میں بھی اپنی ہار کوقبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے اب جو پانچ سال کے بعد انتخابات آ رہے ہیں تو عوام کو پتہ چل رہا ہے کہ پانچ سال ملک پر حکومت کرنیوالی پی پی پی کہ جس کو عوام کیلئے کام نہ کرنے کی وجہ سے عوام نے رد کر دیا تھا اسے بھی خیال آیا ہے کہ اسے عوام نے نہیں ہرایا بلکہ یہ کام الیکشن کمیشن کے آر اوز کا ہے۔

خد ا جانے یہ لیڈر عوام کو اتنا بے وقوف کیوں سمجھتے ہیں کہ جب ریزلٹ ہر سٹیشن سے آپ کو مل رہے ہیں اور وہ ریزلٹ اسی وقت ٹی وی سے نشر ہورہے ہیں اور ٹی وی پر نتائج مرتب کر کے غیر حتمی نتائج کا اعلان ہو رہا ہے اور حتمی نتائج بھی غیر حتمی نتائج سے مختلف نہیں ہیں تو آراوز کا نتائج تبدیل کرنیکا کیا سوال ہے‘مگر اپنے ووٹروں اور پارٹی کار کنوں کو مطمئن کرنے کیلئے یہ بہانے کیوں بنائے جاتے ہیں اور حد یہ ہے کہ پانچ سال بعد بھی کہا جا رہا ہے کہ ان کی ہار کا سبب ریٹرننگ آفیسرز ہیں کسی بھی سٹیشن سے سارے امیدواروں کے ایجنٹوں کو نتائج دے دیئے جاتے ہیں اور وہی نتائج ٹی وی چینلوں کے نمائندوں کو بھی دے دیئے جاتے ہیں جو اسی وقت ٹی وی چینلوں پر نشر بھی کر دیئے جاتے ہیں تو پھر عوام کو کیوں بے وقوف بنایا اور سمجھا جا رہا ہے‘ اگر ایک پارٹی نے کام نہیں کیا اور وہ پارٹی انتخابات میں شکست کھا جاتی ہے تو پھر یہ کس پر الزام دھرے گی ‘ جیسا کے پی میں ہوتا آرہا ہے کے پی کے عوام کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ جو پارٹی بھی اپنے وقت میں عوامی فلاح کے کام نہیں کرتی وہ اسے ریجیکٹ کر دیتے ہیں ۔ اب دیکھیں یہ اپنی روایت قائم رکھتے ہیں یا نہیں۔