203

ماجرا کیا ہے؟

سال دوہزارنو میں گرین موومنٹ کے بعد دسمبر دوہزار سترہ کے آخری ہفتے سے مہنگائی و بیروزگاری کیخلاف جمہوری اسلامی ایران کے مختلف شہروں میں جاری احتجاج پر حکومت نے قابو پانے کا دعویٰ تو کیا ہے لیکن چنگاری ایک مرتبہ پھر راکھ میں دبا دی گئی ہے۔ ماضی کے سیاسی مظاہروں اور حالیہ احتجاجی تحریک کے مقاصد اور عوامل مختلف ہیں‘ جن سے کئی سوالات نے جنم لیا ہے اور پاکستان کے تناظر میں بھی ان مظاہروں کی اہمیت‘ خاص ترتیب اور سب سے بڑھ کر وقت کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایران میں اصلاح پسنداور قدامت پسند ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں ماضی کی امریکی حکومتیں ایران کے داخلی معاملات میں کھل کر مداخلت نہیں کرتی تھیں بلکہ ایران میں مغربی طرز کی جمہوریت نافذ کرنے کی کوششوں کی اخلاقی سفارتی اور مالی حمایت کرتے ہوئے بھی خود کو ایک خاص فاصلے پر رکھتی تھیں جیسا کہ گرین موومنٹ کے دوران صدر باراک اوباما اور امریکی انتظامیہ نے حالات کا خاموشی سے مشاہدہ کیا لیکن موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ نہ صرف مظاہرین کی کھلم کھلا حمایت کر رہی ہے بلکہ ان مظاہروں سے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنیکی کوشش بھی کرتی دکھائی دیتی ہے‘ امریکہ اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ایرانی عوام ملک میں بدعنوانی کیخلاف سراپا احتجاج ہیں‘ حالانکہ موجودہ صورتحال سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کسی بھی طرح درست نہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ ایران مظاہروں کے معاملے پر سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا جائے جبکہ امریکہ نے غیردانستہ طور پر ایران کے معاملات میں مداخلت کرکے قدامت پسندوں کی سیاست کو مضبوط کیا ہے یعنی ان احتجاجی مظاہروں سے امریکہ کے مقابلے ایرانی حکومت کو زیادہ فائدہ ہوا ہے اگر ایران میں ذرائع ابلاغ پاکستان کی طرح مادرپدر آزاد ہوتے اور وہاں پاکستان کی طرح این جی اوز کسی بھی ملک سے امداد لیکر فلاحی اور رفاحی منصوبوں کے نام پر پورے ملک میں پھیلی ہوتیں تو ماضی اور حال کے احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں موجودہ حکومت کب کی ختم ہو چکی ہوتی! ایران میں حالیہ مظاہروں کا سلسلہ قدامت پسندوں کے مرکز اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے آبائی شہرمشہد سے شروع ہوئے ‘ ۔

پہلے مظاہرے میں شرکاء کا احتجاج بیروزگاری‘ گرتے ہوئے معیارزندگی اور مہنگائی کے خلاف تھا لیکن یہ احتجاج پھیلتا ہوا جب دیگر شہروں تک پہنچا تو اس میں سیاسی بے چینی کا عنصر بھی شامل ہو گیا۔ یاد رہے کہ سال دوہزار نو کی گرین موومنٹ نامی احتجاجی تحریک مبینہ انتخابی بے قاعدگیوں اور انتخابی حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے لئے شروع کی گئی تھی‘ اس تحریک کو داخلی طور پر مضبوط سیاسی قیادت بھی میسر تھی کیونکہ دو صدارتی امیدوار حسین موسوی اورمہدی کروبی اسکی قیادت کر رہے تھے مگر ایران میں جاری حالیہ مظاہرے بظاہر تو وسیع پیمانے پر نظر آتے ہیں لیکن انکی رہنمائی سیاسی قیادت کے واضح طور پر نہ کرنے کی وجہ سے مقاصد تبدیل ہوتے دکھائی دیئے‘ جس سے حکومت کیلئے ان کی سرکوبی زیادہ آسان ہوگئی۔ قابل ذکر ہے کہ ایران کے وہ جلاوطن رہنما جنہوں نے گرین موومنٹ میں حصہ لیا تھا‘ حالیہ مظاہروں سے لاتعلقی کا اظہار کر چکے ہیں‘ چنانچہ ان حالات میں ایران کے قدامت اور اصلاح پسند دونوں ہی دھڑوں کو سمجھ نہیں آرہی کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے؟ کیونکہ دونوں دھڑے ایک دوسرے کو موردالزام ٹھہرا رہے ہیں! مشہد سے صدر روحانی کے مقابل صدارتی امیدوار علی رئیسی کے سُسر اور قدامت پسند رہنما آیت اللہ علم الہدیٰ کو قومی سلامتی کونسل میں طلب کرکے مشہد مظاہروں میں ملوث ہونے اور مقاصد کے بارے میں پوچھ گچھ کی اطلاعات ہیں لیکن آیت اللہ علم الہدیٰ ایسی کسی بھی طلبی کی تردید کرتے ہیں‘۔

ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری نے معاشی صورتحال پر عوام کو احتجاج پر اکسانے کا الزام قدامت پسندوں پر عائد کیا دوسری طرف صدر حسن روحانی کے حمایتی ان مظاہروں کی سازش کا الزام سابق صدر احمدی نژاد پر دھرتے ہیں‘ اگرچہ یہ مظاہرے ملک کے طول و عرض میں ہوئے‘یورپی میڈیا ان مظاہروں کو سخت اسلامی قوانین سے بیزاری کے طور پر دکھانے کی کوشش کررہا ہے‘ایران میں عوام کی بے چینی ‘ مہنگائی‘بیروزگاری اور گرتا ہوا معیارزندگی ایسی حقیقتیں ہیں جن سے انکار ممکن نہیں لیکن جس ملک پر عالمی اقتصادی پابندیاں عائد ہوں اور باوجود محدود مالی وسائل اور اقتصادی آزادی‘ جس ملک کی سیاسی و مذہبی قیادت امت مسلمہ کو یکجا کرنے کی کوششیں بھی کر رہی ہو وہاں اس قسم کے حالات پیدا ہونا فطری امر ہے‘۔ ایک نکتۂ نظر یہ بھی ہے کہ ایران پر عائد پابندیاں معاشی دشواریوں کا سبب ضرور ہیں لیکن اس کیساتھ ایرانی حکومت اور مقتدرہ کی پالیسیاں بھی بحران کی وجوہات ہیں‘ سچ تو یہ ہے کہ ایران میں اگر احتجاج نہ بھی ہوتا تو وہاں پائی جانے والی عمومی بے چینی بہرحال موجود رہتی جس کا محرک صرف اور صرف معاشی حالات ہیں‘ پاکستان کے فیصلہ سازوں کو سوچناچاہئے کہ امریکہ سے براہ راست تصادم کی صورت اگر عالمی اقتصادی پابندیاں عائد ہوتی ہیں تو اسکے معاشی اثرات کس قدر خطرناک اور قابل برداشت ہو سکتے ہیں!