133

پاک چین تعاون‘ ترقیاتی منصوبے

چین نے پاکستان کی معیشت کے استحکام کیلئے اقدامات کی حمایت کا اعلان کیا ہے‘ دفاعی تعاون بڑھانے کے عندیے کیساتھ باہمی تجارت کے حجم میں اضافے اور پاکستان کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی جارہی ہے‘ پاکستان کے دورے پر آنیوالے چین کے وزیر خارجہ نے عالمی ایشوز پر پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کا عزم دہراتے ہوئے دہشت گردی کیخلاف پاکستان کی قربانیوں کو بھی سراہا ہے‘ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی افغانستان میں امن کے قیام کیلئے چین کا ساتھ دینے کا عزم دہراتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیگا‘ ایک ایسے وقت میں جب وطن عزیز کی معیشت کو سنگین چیلنج درپیش ہیں‘چین کی جانب سے اقتصادی شعبے میں تعاون کا عندیہ قابل اطمینان ہی ہے‘ تعاون چین سے ملے یا کسی اور ملک سے‘ اس کو ثمر آور بنانے کیلئے ہوم ورک کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے‘ جس کا ہمارے ہاں فقدان ہی رہا ہے‘ ہمارے اپنے سرمایہ کار دوسرے ملکوں میں انویسٹمنٹ کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ سرمایہ کاری کیلئے ماحول سازگار بنانے پر توجہ ہی مرکوز نہیں کی جاتی‘انویسٹمنٹ کے نام پر بینکوں کے قرضے ہڑپ کر جانے کا سلسلہ ایک کے بعددوسری آنیوالی حکومتوں میں چلتا ہی رہا ہے‘۔

حکومت کی اپنی ترقیاتی حکمت عملی تکنیکی مہارت سے عاری اور ضرورت کا ادراک کئے بغیر ترتیب پاتی رہی‘ خبر رساں ایجنسی کے مطابق حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص رقم سے 250ارب روپے کی کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے‘ اس سے ترقیاتی پروگرام کا حجم کم ہوکر 775ارب روپے رہ جائیگا‘نئے ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت اور اہمیت سے انکار ممکن نہیں تاہم ہمارے ہاں نئے منصوبے شروع کرنے کیساتھ پہلے سے مکمل پراجیکٹس کی دیکھ بھال کی روایت ہی نہیں رہی‘ ہم نئے ہسپتال بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں لیکن اربوں روپے کے خرچ سے مکمل ہونیوالی عمارتوں میں سروسز کا معیار چیک نہیں کرتے‘ یہی حال دوسرے سیکٹرز میں بھی ہے‘ ابھی نئے ڈیم بنانے کی بات ہورہی ہے جبکہ پہلے سے موجود آبی ذخائر چیک کرنے اور ان کی حالت میں بہتری پر دھیان نہیں دیاجاتا‘حکومت اگر ترقیاتی پروگرام میں کمی کرتی بھی ہے تو اسکے بدلے پہلے سے موجود پراجیکٹس کی دیکھ بھال پر توجہ زیادہ کردینی چاہئے جبکہ آئندہ کسی بھی منصوبے کی منظوری سے پہلے اس کی ضرورت اور اہمیت کا حقائق کی روشنی میں اندازہ یقینی بنانا چاہئے۔

پینے کا صاف پانی؟

وطن عزیز میں پینے کا صاف پانی ایک بڑے مسئلے کی صورت اختیار کرچکا ہے صوبائی دارالحکومت میں بوسیدہ اور زنگ آلود پائپوں کی تبدیلی سے متعلق باتیں عرصے سے سنی جارہی ہیں جبکہ سیوریج لائنوں سے گزرنے والے پائپ بیماریاں پھیلانے کا ذریعہ بن رہے ہیں‘ اس ساری صورتحال میں لوگ مہنگے داموں منرل واٹر خریدنے پر بھی مجبور ہیں‘ پشاور کی انتظامیہ اور حکومت کے کوالٹی کنٹرول کے ذمہ دار ادارے شہریوں کو بوتل بند پانی کے معیار سے متعلق پوری آگاہی نہیں دے رہے‘ کیا ہی بہتر ہو کہ معیار چیک کرنے کے بعد ایک فہرست جاری کردی جائے کہ جس میں معیاری برانڈز کے نام ہوں‘ ساتھ ہی شہر میں فراہم ہونیوالے ٹیوب ویلوں کے پانی سے متعلق بھی آگاہ کردیاجائے تاکہ جس ایریا میں پانی صاف نہ ہو وہاں کے لوگ الرٹ رہیں اور متبادل انتظام بھی کریں۔