88

سیاسی مصلحتوں کی رکاوٹ

دھیرے دھیرے مرکزی اورصوبائی کابیناؤں میں اضافہ کیا جا رہاہے اور یہ روش اچھی نہیں‘ جتنی چادر دیکھو اتنے پاؤں پھیلاؤ ورنہ آپ میں اور آپ سے پہلے گزری ہوئی حکومتوں میں کیا فرق رہ جائے گا‘آپکے پیشرو اسی قسم کی عاقبت نااندیش پالیسیوں کی وجہ سے ہی توراندہ درگاہ ہوئے‘ شہباز شریف کو ٹھنڈ ا کرکے کھانا چاہئے ان کا یہ بیان کہ دھاندلی کمیشن بننے تک پارلیمانی کاروائی آگے نہیں بڑھے گی عجلت پسندی کے زمرے میں آتا ہے تین ماہ کا عرصہ ہنی مون کا زمانہ ہوتا ہے اس میں نئی حکومت کو اتنا الاؤنس ضرور دینا چاہئے کہ وہ اپنی صف بندی اطمینان کیساتھ کر لے امریکی وزارت خارجہ کے ایک اہم رکن اور چینی وزیر خارجہ کا اوپر نیچے اسلام آباد آنا اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان سٹرٹیجک لحاظ سے کتنی اہمیت کا حامل ہے بزرگ کہہ گئے ہیں کہ آزمائے ہوئے کو دوبارہ آزمانہ جہالت ہے نہ تیری دوستی اچھی ‘ نہ دشمنی اچھی‘ والی مثال امریکہ پر صادق آتی ہے اسے بگاڑنا بھی دانشمندی کا تقاضا نہ ہو گالیکن اس کیساتھ معاملات میں غیر معمولی اختیاط برتنا بھی ضروری ہو گی‘ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے ہمسایہ ممالک سے قریبی تعلقات استوار کریں اگر وزیراعظم خواہ مخواہ سعودی عرب کا سب سے پہلے دورہ کرناچاہتے ہیں تو پھر وہ اس دورے کے آگے پیچھے یا بیک وقت ایران کا دورہ بھی کریں تاکہ تہران کو یہ شبہ نہ ہو کہ پاکستان کی سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی سعودی عرب کی ڈگڈگی کے آگے ناچے گی‘ ویسے سعودی عرب کا عجلت میں دورہ کرنے کے بجائے اگر وزیراعظم چین اور روس ہو آئیں تو بہتر ہو گا کیونکہ عام تاثر یہ ہے کہ سعودی عرب کاشاہی خاندان اس خطے میں امریکہ کے گماشتے کا کردار ادا کرتاآیا ہے۔
صرف شاہ فیصل نے واشنگٹن کی ہر ہاں میں ہاں ملانے سے انکار کیا تھا امریکہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اگر کسی مسلمان ملک سے اپنا کوئی کام نکلوانا چاہے توکبھی کبھی وہ اس مقصدکے حصول کیلئے سعودی عرب کے بادشاہوں کو بھی استعمال کرتاہے‘ محرم الحرام شروع ہو چکا ہے امن عامہ کے محاذ پر نئی حکومت کو کوئی چانس نہیں لیناچاہئے اور ان دس دنوں بلکہ چہلم تک غیر معمولی قسم کے حفاظتی انتظامات کرنے چاہئیں‘ یہ ہماری بد قسمتی نہیں تو پھر کیا ہے کہ بعض لوگوں نے اس ملک میں فرقہ واریت کا زہر اس قدر پھیلا دیا ہے کہ اللہ کی پناہ ‘نئی حکومت کو بھاری آٹو میٹک اسلحے کی خرید و فروخت پربھی سخت پابندی لگانا ہو گی۔

اس قسم کا اسلحہ صرف افواج پاکستان ‘ پولیس اور پیراملٹری فورسز کے پاس ہونا چاہئے نہ کہ عام آدمی کے پاس اگر کوئی دشمن دار ہے تو اسے غیر ممنوعہ بور کے اسلحے کے آرمز لائسنس جاری کئے جا سکتے ہیں لیکن یہ کہاں کی دانشمندی ہے کہ ہر ہما شمانتھوخیرے کو آٹومیٹک ممنوعہ بورکے بھاری اسلحہ کے لائسنس یا پرمٹ جاری کئے جائیں‘ ایسا کر کے ہم خود اپنی پولیس اور پیرا ملٹری فورسزکو کمزور کر رہے ہیں کیونکہ یہی ممنوعہ بور کا اسلحہ اس ملک میں فساد پھیلانے والے اپنے مخالفین کے قتل عام کیلئے استعمال کرتے ہیں ماضی میں حکومتوں نے ممنوعہ بور کے اسلحے کو عام استعمال نہ کرنے کے لئے زبانی جمعَ خرچی تو بہت کی اور اس ضمن میں ایک آدھ نیم دلانہ مہم بھی چلائی لیکن آدھے راستے میں سیاسی مصلحتوں کے تحت اسے اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچایانئی حکومت سے عام آدمی کی یہ توقع بھی ہے کہ وہ اس معاملے کو بھی سنجیدہ لے گی اور اس کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے تو آخر پارلیمنٹ کس مرض کی دوا ہے ۔