95

’’ سرخ سلطنت‘ ایک ٹینک اور جل پریاں‘‘

ویت نام دریائے سرخ کی سرزمین تھی‘ یعنی سرخ سلطنت کا دریا بھی سرخ تھا‘ ہنوئی کے بہت ہی عالی شان ایئرپورٹ کے باہر سمیر کی سیاہ لینڈ کروزر کے اندر ہم دونوں کی آمد کے منتظر دو پیارے پیارے پانڈے لوٹ پوٹ ہورہے تھے‘ یاشار اور طلحہ اپنے دادا اور دادی کو دیکھ دیکھ کر لوٹ پوٹ ہورہے تھے اور جب ہم نے ایک مدت کے بعد اپنے پوتوں کو دیکھا تو ہم بھی مسرت سے مغلوب ہوکر دو بوڑھے پانڈے ہوگئے‘ ایک دادا پانڈا اور دوسری سفید بالوں والی دادی پانڈی‘ اباجی کہا کرتے تھے کہ مول سے بیاج زیادہ پیارا ہوتا ہے‘ تو سمیر مول تھا اور یہ دونوں بیاج تھے اس سے زیادہ پیارے تھے‘ میرا خیال تھا کہ ہنوئی برلن کی مانند ایک تباہ حال نیم کھنڈر شہر ہوگا کہ امریکیوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمن شہروں پر اتنی بمباری نہیں کی جتنی صرف تنہا ہنوئی پر کی‘ لیکن وہاں کوئی آثار نہ تھے کہ صرف چالیس برس پیشتر اس کے در و دیوار سے موت کا دھواں اٹھتا تھا‘ یہ ایک ہنستا بستا دل کش اور دوست شہر تھا‘ میرا یہ بھی خیال تھا کہ پورے شہر میں امریکی جنگ کی فاتحانہ یادگاریں ہر چوک میں ایستادہ ہوں گی‘ وہ بہت کم نہ ہونے کے برابر تھیں‘ البتہ ایک خوشنما جھیل کے کنارے ایک چھوٹی سی یادگار قائم تھی کہ اوباما کے خلاف امریکی صدارتی انتخاب لڑنے والے جان مکین جنہوں نے جنگ ویت نام میں پائلٹ کے طور پر حصہ لیا تھا ان کا بمبار طیارہ ویت نامیوں کی توپوں کی زد میں آکر اس جھیل میں کریش کر گیا تھا اور مکین صاحب ہاتھ کھڑے کرکے ویت نامیوں کے جنگی قیدی ہوگئے تھے‘۔

آپ جب ویت نامیوں سے پوچھتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ ہولناک جنگ کے دوران آپ کے سولہ لاکھ لوگ مارے گئے‘ پورا ملک تباہ ہوگیا اگرچہ آپ نے بھی چھیاسٹھ ہزار امریکی فوجیوں کو تابوتوں میں واپس بھیجا‘ نیپام اور ایجنٹ اورنج ایسے کیمیکل ہتھیاروں کے اثرات اب بھی چلے آتے ہیں‘ بہت سے بچے اپاہج پیدا ہورہے ہیں تو کیا آپ یہ سب کچھ بھول گئے‘ آج امریکہ اور ویت نام بہترین دوست ہیں‘ تجارتی ساتھی ہیں اور سب سے زیادہ ٹورسٹ امریکہ سے آتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ’’وہ جنگ ہمارے باپ دادا نے امریکہ سے لڑی اور جیت گئے‘ کیا ہم اب بھی اس دشمنی کو برقرار رکھیں‘ یہ بیوقوفی ہوگی‘ آج ہم نے اپنے ملک کو پھر سے عظیم بنانا ہے‘ ہم آج کی حقیقتوں کا سامنا کررہے ہیں اور امریکہ کھلے دل سے ہماری مدد کررہا ہے‘ معاشی طور پر مددگار ہے اس لئے کل کا دشمن آج کا بہترین دوست ہے اور انسانی تاریخ میں شاید ہی کوئی اتنا مختصر اور پسماندہ ملک ہو جس نے اپنے عہد کی دو سپر پاورز کو شکست دی ہو تو یہ لوگ سب کچھ بھول کر ماضی کے دشمنوں کے ساتھ حال کی حقیقتوں کا سامنا کررہے ہیں‘ جبکہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جتنی بھی ’’منی جنگیں‘‘ ہوئیں ان میں دونوں جانب سے کتنے لوگ مارے گئے ہوں گے‘ شاید پندرہ ہزار سے بھی کم تو ہم کیوں نہیں بھول سکتے‘ اس الجھن کو میری اہلیہ نے سلجھایا‘ میمونہ کہنے لگی ’’امریکی اور ویت نامی مختلف نسلوں اور اقدار کے لوگ تھے چنانچہ وہ سمجھوتا کرسکتے تھے جبکہ انڈیا اور پاکستان میں دونوں جانب نسل تو ایک ہی ہے‘ ‘ دو اصیل مرغ ہیں یہ آپس میں جھگڑتے دھول اڑاتے رہیں گے‘ ۔

ایسا نہیں ہے کہ ویت نامیوں نے مکمل طور پر امریکی جنگ کو فراموش کردیا ہے‘ انہوں نے اسے فراموش نہیں کیا محفوظ کرلیا ہے اور یہ جنگ نہ صرف ہوچی من سٹی بلکہ ہنوئی کے درجنوں جنگی عجائب گھروں میں محفوظ ہے‘ آرمی میوزیم‘ ہوچی من ٹریل میوزیم‘ بی 52 بمبار طیاروں کا میوزیم ہوچی من میوزیم‘ وغیرہ اور وہاں ہنوئی پر گرائے گئے امریکی طیاروں کے ملبے کے ڈھیر ہیں‘ امریکی ٹینکوں‘ ہتھیاروں اور توپوں کی نمائش ہے جو ان سے چھینے گئے‘ سب سے زیادہ متاثر کرنے والا آرمی میوزیم ہے جس میں اس جنگ کی تصویری کہانیاں ہیں‘ وہ مشہور تصویر آویزاں ہے جس میں ایک دراز قامت تنومند امریکی پائلٹ کو اپنی قید میں لاکر ایک چھوٹی سی ویت نامی گوریلا لڑکی بندوق تانے اسے آگے لگائے ہوئے ہے‘ یا پھر امریکی طیاروں کے ملبے کا ایک تخلیقی ڈھیر ہے جس میں ایک بمبار طیارے کی دم زمین میں اوندھی پڑی ہے اور وہاں ایک حیرت انگیز تصویر ہے‘ ایک نوجوان مینڈھیوں والی لڑکی کاندھے پر بندوق ڈالے ایک امریکی طیارے کے ملبے کو رسی سے باندھ کر اپنے گھر لے جارہی ہے کہ یہ اس کا مشغلہ تھا‘ آرمی میوزیم کی وسعت میں حیران گھومتے میں ایک خاموش کمرے میں داخل ہوا اور وہاں اور کچھ نہ تھا سٹیج پر ایک ٹینک نمائش پر تھا اور یقین کیجئے میں نے اس ٹینک کو دیکھا ہوا تھا‘ اخباروں میں ٹیلی ویژن پر اور خبروں میں‘ سائیگان شہر سے امریکی ہیلی کاپٹروں میں فرار ہورہے ہیں‘ ویت کانگ گوریلے شہر میں داخل ہوچکے ہیں‘ ایک بھاری ٹینک امریکہ کے کٹھ پتلی ویت نامی صدر کے محل کے آہنی دروازے توڑ کر اندر داخل ہورہا ہے اور یہ ویت نام جنگ کے اختتام کا آخری منظر تھا‘ میری آنکھوں کے سامنے وہی روسی ساخت کا ٹینک اپنی توپ کی نالی اٹھائے آرمی میوزیم کے ایک کمرے میں تن تنہا کھڑا تھا‘ جب ویت نام کے امریکی جنگ کے ہیروز کی فہرست مرتب کی گئی تو اس میں سب کے سب جری اور جان دینے والے لوگ تھے لیکن ان میں اس ٹینک کا نام بھی شامل تھا کہ یہ بھی ایک ہیرو تھا‘ میں اس ٹینک کو دیکھ کر قدرے جذباتی ہوگیا۔

اور اس کے سامنے کھڑے ہوکر زندگی میں پہلی بار نہایت فخر سے انگلیوں سے ’’وکٹری‘‘ کا وی بنا کر ایک تصویر اتروائی کہ ویت نام کی جنگ امریکہ کے خلاف ان سب محکوم اور پسماندہ اقوام کی جنگ بھی تھی جو امریکی قہر کی تاب نہ رکھتے تھے‘ ہم سب خاک نشین سرخرو ہوئے کہ صرف ویت نام نے نہیں بلکہ ہم سب نے تاج اچھال دئیے تھے‘ تخت گرا دئیے تھے اور راج کرے گی خلق خدا‘ سمیر نے اپنی رہائش کے لئے کوئی شاندار ولا منتخب نہ کیا بلکہ ہنوئی کے مشہور فائیو سٹار ہوٹل ڈائیوو کے ایک فلیٹ میں منتقل ہوگیا‘ تیرھویں منزل پر واقع اس فلیٹ کی بالکونی میں بیٹھ کر صبح کا پہلا سگریٹ پیتا اور عین سامنے لوٹے سٹور کی عمارت پر آویزاں ایک ویت نامی ماڈل کی تصویر دیکھتا رہتا کہ کبھی تو آنکھ ملائے گی‘ ایک روز میرے پوتے پانڈے مجھے مجبور کرکے ہوٹل کے سوئمنگ پول پر لے گئے‘ میں نے میامی میں خریدا ہوا اپناواہیات سرخ رنگ کا سوئمنگ کاسٹیوم زیب تن کیا بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ زیب توند کیا ‘ سوئمنگ پول کے کناروں پر پہنچے تو میرے پانڈے اس کے پانیوں میں کود گئے‘ میں بھی بمشکل پانیوں میں اترا‘ لیکن ایک عجب سانحہ ہوگیا‘ میں اترا تو پول میں تیرتی جتنی بھی جل پریاں تھیں وہ میری توندیلی ہیئت سے ہراساں ہوکر فرار ہوگئیں اور مجھے ان جل پریوں سے کچھ شکایت نہیں کہ بعد ازاں میں نے اپنے آپ کو سوئمنگ پول کے کناروں پر آویزاں ایک آئینہ میں دیکھا تو دیکھا نہ گیا‘ وہ زمانے ہوا ہوئے جب ہم آئینہ دیکھتے ہی رہتے تھے اور جل پریاں ہمیں دیکھتی رہتی تھیں۔
’’انشا جی اٹھو اب کوچ کرو۔۔۔
اس شہر میں دل کو لگانا کیا ۔۔۔
لیکن یہ شہر ہنوئی تھا‘ ہم نے اس کو دل سے لگا لیا۔