242

تصور حق!

اِسلامی سال 1440ہجری کا آغاز ہو چکا ہے۔ حرمت والے چار مہینوں (محرم‘ رجب‘ ذوالقعدہ اُور ذی الحجہ) میں شامل محرم الحرام‘ کے پہلے دن کی ’سرخی‘ اُفق عالم پر نمودار ہو چکی ہے‘ جو ’وقت کا جاری سفر‘ ہے اور تاوقت نامعلوم جاری رہے گا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِس دنیا سے پردہ کرنے کے بعد نواسۂ رسول حضرت اِمام حسین رضی اللہ عنہ کو حتمی اور آخری اقدام کے طور پر اپنا‘ اپنے اہل و عیال اور رفقاء کا خون عطیہ کرنا پڑا۔ سن اکسٹھ ہجری‘ کربلا (عراق) کی زمین میں جذب ہونے والا پاکیزہ لہو شفق پر سرخی بن کر چھا گیا اور جس کی معطر مہک دو عالم میں پھیل گئی۔ صدیاں بیت گئیں اور حضرت اِمام حسینؓ کی قربانیوں کو خراج تحسین و عقیدت کا سلسلہ بدستور جاری ہے‘ ہر مکتب فکر و مسلک اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے اہل فہم ’کربلا سے وابستہ‘ نظر آتے ہیں۔ کربلا کی فکر نے ’اِسلام کے پیغام‘ کو دنیا میں پھیلانے اور پیروکاروں کو ایک نئے موضوع سے روشناس کرایا‘ جس میں ’حق کے لئے مزاحمت‘ کا سبق ملتا ہے۔ ’’ہر ایک ذہن میں کچھ نہ کچھ تصور حق ۔۔۔ ہم اُس تصورِ حق کو حسینؓ کہتے ہیں۔

‘‘ اِنسان کا تعلق چاہے کسی بھی مسلک اور فرقے سے ہو یا وہ کوئی بھی دینی اور دنیاوی امور سے متعلق کوئی بھی نقطۂ نظر رکھتا ہو‘ کربلا وہ واحد نقطۂ اشتراک ہے جہاں تمام مسلمان صدیوں سے متفق ہیں‘ حضرت اِمام حسینؓ کی یاد جس انداز سے منائی جائے لیکن اِس سے تعلق اور روحانی وابستگی سے کسی کی دل آزاری نہیں ہونی چاہئے۔سب مانتے ہیں کہ ’’کربلا‘‘ میں ’’حریت‘ صبر و اِستقامت اور انقلاب‘‘ چھپا ہے۔ کربلا حق و باطل کے مابین دائمی جنگ کا استعارہ‘ دین و عقیدے کی راہ میں فداکاری اور جانبازی کے مرکز جیسی بنیادی حیثیت رکھتی ہے‘جس طرح کہ حضرت امام عالی مقامؓ نے اپنے مختصر مگر باایمان و شجاع انصار و اصحاب اور پر شکوہ عظمت کے ساتھ بے شمار اور سنگدلوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کربلا کو عشق و حماسہ وحریت کے دائمی میدان میں تبدیل کردیا۔ دنیا کے حریت پسند انسان بھی غاصبوں اور اہل ستم کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے اپنی تعداد اور ظاہری طاقت اور وسائل کو بنیاد نہیں بناتے نیز جہاد و استقامت کے وقت دشمن کی تعداد اور طاقت کو بھی خاطر میں لائے بغیر شوق و جذبۂ جہاد میں محو ہوکر لڑتے ہیں لیکن جھکتے نہیں۔ کربلا کا پیغام واضح ہے لیکن (افسوس) اُس پر عمل نہیں ہورہا اور یہی سبب ہے کہ ہر سال محرم الحرام کا چاند نظر آتے ہی امن و امان کی قیام کی کوششیں تیز کر دی جاتی ہیں۔ خطرات نمودار ہو جاتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے کو سلامتی کی دعائیں دے کر نئے سال اور کربلا کا استقبال کرتے ہیں۔ عجب ہے کہ حرمت والے چار مہینوں میں شامل محرم الحرام کی حرمت کو خطرات لاحق ہیں! اِس صورتحال میں ہم کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں کہ کربلا کو سمجھ لیا گیا ہے؟ حضرت اِمام حسینؓ اُن کے رفقاء کی قربانیوں اور کربلا میں قیام کا مقصد ہمارے پیش نظر ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ ’’آل بیت سے مؤدت‘‘ اور ’’کربلا کا حق (کماحقہ) ہم سے اِدا نہیں ہوسکا۔‘‘ ہمارے طرز زندگی‘ فکر و نظر‘ علم و ہنر اور عمل میں ’کربلا‘ کو خاطرخواہ اہمیت اور جگہ نہیں مل سکی مگر گنجائش موجود ہے!

ہمارے پاس اشعار اور تقاریر کی صورت واقعات کی منظرکشی پر مبنی دفتروں کے دفتر بھرے پڑے ہیں لیکن کربلا کے بارے میں اب تک ہوئی مختصر ترین تحقیق اور صرف ادبی کاوشیں ہی کافی نہیں بلکہ ضرورت اِس امر کی بھی ہے کہ دنیا کو ’کربلا‘ سے روشناس کرایا جائے‘ ’کربلا کے مقصد اور حضرت اِمام حسینؓ کے قیام و قربانی کا بیان ہونا چاہئے۔ ’کربلا‘ صرف مظلومیت نہیں بلکہ مسلمانوں کیلئے مایۂ سربلندی اور حق و باطل کے درمیان معیار و میزان کا نصاب ہے جس کے پیغام (نکات) سے غفلت کو اتفاقی کہہ کر نظرانداز نہیں جاسکتا ہے۔ یہ واقعہ کائنات کے اُن سربستہ رازوں سے بھرا ہوا ہے جودنیا کی سب سے نایاب‘ مشہور اور عظیم تحریروں کے لئے سبب تخلیق بن سکتا ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ صرف ایک نہیں بلکہ ہر ابن علیؓ کا موازنہ دنیا کے کسی بھی ممتاز کردار اور نمایاں شخصیت سے ممکن نہیں! وہ تمام فضائل و کمالات جو دنیا کی تمام نامور شخصیات میں پائے جاتے ہیں اُن کا مجموعہ ’’سید الشہداءؓ‘‘ کی تنہا ذات کے بحر بے کراں میں موجود اور بہ درجۂ کمال موجود نظر آتا ہے‘ یہ سوال ہمیشہ ذہن کو تکلیف دیتا ہے کہ ’کربلا‘ بارے کوئی ایسی علمی ادبی تخلیق کیوں منظر عام پر نہیں آئی جس میں ماضی حال و مستقبل میں کربلا کی اہمیت و کردار جیسی عظمت و چاشنی پر مبنی جزئیات و تجزئیات بھی موجود ہوں؟ کیا وہ وقت نہیں آگیا کہ ہم واقعۂ کربلا کے بارے میں کسی بڑے ادبی کارنامے کی کمی بلکہ فقدان سے متعلق کسی راۂ قول و عمل (حل) کے بارے میں فکر کریں؟ ’’کر دیا ثابت یہ تو نے اے دلاور آدمی: زندگی کیا موت سے لیتا ہے ٹکر آدمی: کاٹ سکتا ہے رگِ گردن سے خنجر آدمی: لشکروں کو روند سکتے ہیں 72آدمی۔ (شاعر جوش ملیح آبادی)۔‘‘