طیب اردوان کی فتح کے عوامل

ترکیہ میں افراط زر اسی فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ لوگ مہنگائی اور غربت سے بد حال ہیں۔ تین ماہ پہلے آنے والے زلزلے میں پچاس ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔صدر اردوان کے مخالفین کہہ رہے ہیں کہ اس زلزلے میں زیادہ تر نقصان حکومت کی نا اہلی اور غفلت کی وجہ سے ہوا۔ ترکیہ کے اپنے اور یورپی ممالک کے سرویز کے مطابق چھ جماعتی حکومت مخالف اتحاد کی فتح کے آثار روز روشن کی طرح عیاں تھے۔ ان حقائق کے باوجود رجب طیب اردوان 14 مئی کے الیکشن میں 49.5 فیصد ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے ہیں۔ اس انتخابی معرکے کا آخری فیصلہ 28مئی کو دوسرے مرحلے کی ووٹنگ میں ہوگا۔ اس روز صدر اردوان کی کامیابی کے امکانات اس لیے واضح ہیں کہ ترکیہ کی تیسری بڑی سیاسی جماعت‘ جس نے پانچ فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں‘ کے حامی نظریاتی طور پرحکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے زیادہ قریب ہیں۔حزب مخالف نے قلیچ دار اوغلو کی قیادت میں 44.9 فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں۔ اس الیکشن کے نتیجے میں اردوا ن کی جماعت نے پارلیمنٹ کی428 میں سے 262 جبکہ اپوزیشن نے 166 نشستیں حاصل کی ہیں۔صدر اردوان کی جماعت پارلیمان میں ایک واضح برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے مگر وہ خود پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ لینے میں ناکام رہے ہیں۔ اسی لیے ترکیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ رن آف الیکشن ہو رہے ہیں۔ مغربی میڈیا کے مطابق صدر اردوان نے حکومتی وسائل کا بھرپور استعمال کر کے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔ترکیہ کی دگر گوں معاشی حالت کو نظر انداز کرتے ہوئے طیب اردوان نے گذشتہ ڈیڑھ برس میں تین مرتبہ یومیہ اجرت میں اضافہ کیا۔ ریاستی میڈیا تسلسل سے صدراور انکے وزرا کی تشہیر کرتا ہے مگر حزب مخالف کو یہ مواقع میسر نہیں ہیں۔ترکیہ کے عوام کے سیاسی شعور کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس الیکشن میں 89فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے۔ ان میں خواتین کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ ترکیہ میں لوگوں کی اکثریت مذہبی رحجان رکھتی ہے جبکہ ریاست ہمیشہ سے سیکولر نظریات کی حامی رہی ہے۔ طیب اردوان کی خواتین میں مقبولیت کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ انہوں نے کئی برس پہلے قانون سازی کر کے سرکاری ملازمتیں کرنے والی خواتین کو حجاب کے استعمال کی اجازت دے دی تھی۔ خواتین نے مختلف سرویز میں ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ قلیچ دار اوغلو کا سیاسی اتحاد کیونکہ سیکولر نظریات کا حامل ہے اس لیے وہ بر سر اقتدار آ کر حجاب پہننے پر پابندی لگا سکتا ہے۔ اپوزیشن نے ان خدشات کو حکومتی جماعت کی طرف سے مذہبی کارڈ استعمال کرنے کی کوشش قرار دیاہے۔طیب اردوان 2003 میں پہلی مرتبہ ترکیہ کے سب سے بڑے شہر استنبول کے مئیر منتخب ہوے تھے۔ اسکے بعد سے آج تک وہ اپنے ملک کی سیاست پر چھائے ہوئے ہیں۔ آجکل کی ابتر معاشی صورتحال کے باوجود عوام نے ان پر اس لیے اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ انکے بیس سالہ دور اقتدار میں ترکیہ نے تیزی سے ترقی کے مراحل طے کیے ہیں۔ اسکے علاوہ طیب اردوان کو ملک کے اندر اور باہر ایک منجھا ہوا قوم پرست رہنما مانا جاتا ہے۔ داخلی محاذ پر گذشتہ چند برسوں میں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر خارجی معاملات میں انہوں نے جس تدبر اور فہم و فراست کا مظاہرہ کیا ہے اسکی توقع ترکیہ کے کسی دوسرے سیاستدان سے نہیں کی جا سکتی۔ مشرق اور مغرب کے سنگم پر واقع ساڑھے آٹھ کروڑ آبادی کے ملک کو انہوں نے کبھی بھی مغرب کا باجگزار نہیں بننے دیا۔ طیب اردوان نے روس کے یوکرین پر حملے کی مذمت کی اور یوکرین کو امداد بھی دی مگر انہوں نے روس پر اقتصادی پابندیوں کی مخالفت بھی کی۔امریکہ کے دباؤ کے باوجود صدر اردوان نے روس سے تجارت میں اضافہ کیا اور صدر پیوٹن سے دوستانہ تعلقات برقرار رکھے۔اسی وجہ سے مغربی ممالک کے لیڈر یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ نیٹو اتحاد میں شامل یہ مسلمان ملک مغرب کا دوست ہے یا دشمن۔ ترکیہ میں اگر قیادت تبدیل ہو جاتی ہے تو اسکے عالمی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے اسکے یورپ‘ ایشیا‘ افریقہ اور مڈل ایسٹ کے ممالک سے گہرے معاشی اور سفارتی تعلقات ہیں۔ قلیچ دار اوغلو نے کہا ہے کہ وہ مغرب کیساتھ تعلقات کو بہتر بنائیں گے اور خارجہ پالیسی کو طیب اردوان کے ذاتی اثرات سے آزاد کرائیں گے۔ انکے انتخابی اتحاد نے کیونکہ لگ بھگ45 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ترکیہ میں مغربی ممالک کی حمایت کرنے والاایک مضبوط طبقہ موجود ہے جو اپنے معاشی مسائل کو مغرب موافق پالیسیوں کی مدد سے حل کرنا چاہتا ہے۔اس اعتبار سے ترکیہ ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اس نے مشرق اور مغرب میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا۔ ترکیہ ہمیشہ سے اسی مخمصے میں مبتلا رہا ہے۔ طیب اردوان نے اسے ایک واضح سمت میں لیجانے کی کوشش کی‘ جس کی وجہ سے وہ بیس برس تک اپنے ملک پر کامیابی سے حکومت کرتے رہے۔