مفادات کی جنگ

 قومی وسائل اور اِختیارات کا غلط اِستعمال کرنے اور مالی بدعنوانیوں کے الزامات بے بنیاد نہیں لیکن جب اِن جرائم کا حسب قانون جائزہ لیا جاتا ہے تو بدعنوانیاں ثابت کرنے کےلئے ناکافی ثبوتوں کا فائدہ ملزمان کو ملتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے کئی رہنماو¿ں کے خلاف قومی احتساب بیورو نے مقدمات قائم کئے جن کی بدعنوانیوں کے برسرزمین ثبوت اور اُن کی مالی حیثیت میں تبدیلیاں بظاہر موجود ہیں لیکن اُنہیں عدالتوں میں ثابت کرنے کے لئے دستاویزی ثبوت موجود نہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایک کے بعد ایک ملزم کو ضمانت پر رہائی مل رہی ہے‘ جس کے بعد تاثر دیا جاتا ہے کہ نیب قوانین کے تحت بنائے جانے والے مقدمات سیاسی نوعیت کے تھے حالانکہ عدالتی فیصلے میں صرف اِس نکتے کی بنیاد پر ضمانت دی جاتی ہے کہ جب تک جرم ثابت نہیں ہو جاتا اُس وقت تک ملزم کو زیرحراست نہ رکھا جائے۔ عدالت نے کسی مقدمے کو خارج نہیں کیا بلکہ مقدمات چلتے رہیں گے۔سپریم کورٹ کے جسٹس مقبول باقر اور جسٹس مظہر عالم پر مشتمل بنچ نے رواں ہفتے نواز لیگی رہنماو¿ں خواجہ سعدرفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی نیب کیس میں ضمانت کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا‘ جس میں نیب کی غیرجانبداری پر سوال اُٹھایا گیا اور نیب طرز احتساب کو متنازعہ و یکطرفہ قرار دیا گیا۔ نیب کا قانون تحریک انصاف کی تخلیق نہیں اور نہ ہی نیب کے زیرغور تحقیقات و مقدمات کا آغاز تحریک انصاف کے دور حکومت میں ہوا ہے۔ یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ نیب کے ادارے کے سبھی اہلکاروں کی تعیناتیاں مسلم لیگ نواز یا پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں کی گئی ہیں اور دونوں جماعتوں نے اپنے منظورنظر افراد کو چن چن کر تعینات کیا۔ بنیادی طور پر قانون جنرل پرویز مشرف کے دور میں احتساب ایکٹ مجریہ 1997ءکو ختم کرکے بنایا گیا تھا جو پہلے دن سے ہی متنازعہ ہے لیکن ماضی کی دونوں حکمراں جماعتیں جن کی آج احتساب قانون کی وجہ سے چیخیں نکل رہی ہیں نے اپنے اپنے دور میں اِس کی اصلاح نہیں کی اور اِس قانون کو سیاسی انجینئرنگ کے لئے استعمال کیا جاتا رہا۔

فاضل عدالت نے قرار دیا کہ نیب سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے‘ سیاسی جماعتوں کو توڑنے‘ مخالفین کا بازو مروڑنے اور انہیں سبق سکھانے کے لئے استعمال ہوا ہے تو عدالت کا اشارہ صرف تحریک انصاف کی طرف نہیں بلکہ اُنگلیاں نوازلیگ اور پیپلزپارٹی کے دور حکومت کی جانب بھی اُٹھی ہیں۔کون نہیں چاہتا کہ پاکستان میں آئین و قانون کی حکمرانی‘ اِنصاف کی عملداری اور شرف اِنسانیت کی تقدیس و پاسداری ہو؟ عدالت ِعظمیٰ کا فیصلہ بلاشبہ مثالی قرار پائے گا جس کے ذریعے نیب اور اس کے ماتحت اِحتساب کے عمل کے بارے میں حکومتی اور حزب اختلاف کے حلقوں‘ وکلا برادری‘ مختلف سیاسی و سماجی حلقوں کے تحفظات کے اظہار اور اعتراضات کا حوالہ دیا گیا ہے اور نیب کے معاملات میں اصلاح احوال کا راستہ دکھایا گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ کی جانب سے نیب مقدمات‘ تفتیش اور کاروائی کے طریقہ¿ کار کے حوالے سے ماضی میں بھی اِسی قسم کے ریمارکس سامنے آتے رہے ہیں۔ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کی گرفتاری‘ انہیں ہتھکڑیاں لگانے اور مختلف ہتھکنڈوں سے ہراساں کرنے کا اپنے ازخود اختیارات کے تحت نوٹس لیا تھا اور اُن کی فوری ضمانت پر رہائی کے احکام صادر کرتے ہوئے نیب کے بارے میں کم و بیش ویسے ہی سوالات اٹھائے گئے جیسے اب خواجہ برادران کے کیس میں عدالت عظمیٰ کی جانب سے اٹھائے گئے ہیں۔

 پھر جب نیب نے سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال کیس میں وزیراعظم عمران خان کو نوٹس جاری کیا گیا تو وفاقی وزیر فواد چودھری نے نیب کے اختیارات کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ نیب کے معاملہ میں متعلقہ قانون میں ترمیم کے لئے سرکاری اور حزب اختلاف کے حلقوں میں اتفاق رائے بھی قائم ہوا جس کے تحت نیب قانون کی بعض شقوں میں ترمیم کرکے نیب کے اختیارات کم کئے گئے۔ اس کے باوجود ٹرائل سے پہلے گرفتاری اور نیب کے تفتیشی طریقہ¿ کار پر حکومت‘ حزب اختلاف اور قانونی ماہرین کے حلقوں کے تحفظات برقرار ہیں۔ عدالت چاہتی ہے کہ نیب کے قانون پر قانون ساز ایوانوں کے اندر سیرحاصل بحث کی جائے اور اس قانون میں جن جن نقائص کی نشاندہی ماضی و حال میں عدالت عظمیٰ کی جانب سے نشاندہی کی گئی ہے اُس میں مناسب ردوبدل کیا جائے یا احتساب کا ایک بالکل نیا قانون وضع کر لیا جائے جس کے ذریعے بے لاگ‘ بلاامتیاز اور شفاف احتساب کا عمل یقینی بنایا جاسکے۔ سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ احتساب کا ایسا قانون ہو‘ جس میں اُن کے سوا ہر کسی کا احتساب اور یہی وہ نکتہ جس پر بہت کم بات کی جاتی ہے کہ ضرورت قانون میں اصلاح کی نہیں بلکہ قانون سازوں کے طرز فکروعمل کی اصلاح ہے جو نہ تو اپنے اختیارات میں کمی چاہتے ہیں اور نہ قومی اداروں کو اِس قدر توانا اور مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں کہ قوانین کا اُن پر اطلاق ہونے لگے۔