مستقل عالمی خطرہ

 متوقع ردعمل ہے کہ چین ایران قربت امریکہ کو ایک آنکھ نہیں بھا رہی اور غیرمتوقع پہلا ردعمل یہ سامنے آیا ہے کہ امریکہ کے جنگی طیاروں نے ایران کے ایک مسافر بردار طیارے کا پیچھا کر کے اشارہ دیا ہے کہ وہ اُس کے شہری ہوا باز طیاروں کو نشانہ بنا سکتا ہے ‘ ایران کے خبررساں اداروں نے امریکی طیاروں کی تصاویر اور تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”تہران سے بیروت جانے والے ماہان ائر کے ایک طیارے کا شام کی حدود میں پیچھا کیا گیا“ جبکہ مشرق وسطیٰ میں قائم امریکہ فوجی سنٹرل کمانڈ کی جانب سے تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایف 15طیارے نے نامعلوم جہاز کی شناخت معلوم کرنے کے لئے قریب سے معائنہ کیا جو بین الاقوامی قواعد کے مطابق عمل ہے ‘ ایرانی مسافر جہاز کے پائلٹ نے حاضر دماغی سے کام لیتے اور جہاز کو ٹکر سے بچانے کے لئے اچانک جہاز کی اونچائی کم کی جس سے کئی مسافروں کو چوٹیں آئیں اور اگرچہ مذکورہ طیارہ مقررہ وقت پر بحفاظت بیروت پہنچ گیا تاہم مسافروں کے تاثرات اور اُن میں پایا جانے والا خوف و ہراس اِس بات کا عکاس تھا کہ امریکہ خوف و دہشت پھیلانے میں کامیاب ہو چکا ہے ‘ایران کی وزارت خارجہ نے گزشتہ شام رونما ہونے والے اِس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے خلاف قانونی‘ سفارتی اور سیاسی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

 ذہن نشین رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ’ماہان ائر‘ پر دہشت گرد قرار دیئے گئے ایرانی پاسداران انقلاب (فوجی تنظم) کے ساتھ مبینہ روابط کی وجہ سے پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ ماہان ائر پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ اُس نے ایران سے کورونا وبا ءمشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔تاریخ عالم میں ایسی طاقتور اقوام سے منسوب واقعات محفوظ ہیں جن میں جب کسی ملک پر حملہ کرنے اور اُس کے وسائل کی لوٹ مار کرنے کا فیصلہ ہوتا تو اُس کے کردہ ناکردہ جرائم کی تفصیلات جمع کرنا شروع کر دی جاتیں اور اُن میں بارشیں‘ سیلاب‘ آندھیوں اور وباو¿ں کو بھی شمار کیا جاتا تھا کہ فلاں ملک سے آنے والی اِن آفات کی وجہ سے ہمارا نقصان ہوا ہے۔ امریکہ کے پاس دیگر الزامات کو ثابت کرنے کے لئے دستاویزی ثبوت نہیں تھے تو اُس نے ایران پر ’کورونا وباء‘ مشرق وسطیٰ میں پھیلانے جیسا الزام عائد کر دیا ۔ قابل ذکر ہے کہ ایران میں 2 لاکھ 84 ہزار سے زائد مصدقہ کورونا متاثرین ہیں جبکہ وہاں کورونا کے سبب 15 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ ایران میں کورونا وبا ءکی سنگین صورتحال کا اندازہ پاکستان سے موازنہ کرنے کی صورت بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں کورونا سے کل مصدقہ متاثرین کا شمار 2 لاکھ 70ہزار 400 اُور اموات 5 ہزار 763 یعنی ایران سے کم ہیں۔

 اعدادوشمار سے دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستان اُور ایران میں کورونا متاثرین کی تعداد قریب ایک جیسی ہی ہے لیکن اموات میں 10 ہزار سے زائد کا فرق ہے ‘ ایران نے اکتیس جنوری کے روز یعنی پاکستان سے قبل اپنے ہاں چین سے آنے والی تمام پروازیں بند کر دی تھیں اور اِس کے بعد متعدد ممالک نے فروری اور مارچ میں ایران سے آنے والی پروازوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ ایک ایسا ملک جو اپنے ہاں کورونا وباءکو پھیلنے سے نہیں روک سکا‘ کس طرح ممکن ہے کہ وہ دوسروں کو اِس سے متاثر کر سکے اور کیا ایران اپنے اتحادی اور دوست ممالک کے لئے ایسا چاہے گا جو عالمی پابندیوں کے باوجود اُس کے ساتھ تجارتی و کاروباری مراسم کسی نہ کسی صورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔اب جبکہ چین نے پچیس سال کے لئے ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا معاہدہ کیا ہے تو امریکہ مختلف حیلوں بہانوں سے ایران کی ائرلائن کو ’گراو¿نڈ‘ کرنا چاہتا ہے۔ کورونا وبا ءسے زیادہ بڑا اور مستقل عالمی خطرہ دہشت گردی ہے‘ جسے پھیلانے میں امریکہ کی حصہ داری کسی اضافی تعارف کی محتاج نہیں۔