توانائی:متبادل ذریعہ

 موسم گرما میں بجلی کے زیادہ بلوں کی شکایت اور ہر ماہ بھاری ادائیگیاں کرنے والوں کو توانائی کے متبادل ذرائع بالخصوص شمسی توانائی کے حصول بارے سوچنا چاہئے جس کے وسائل ترقی یافتہ شکل میں عام دستیاب ہیں اور اِن کی قیمت بھی ماضی کی طرح زیادہ نہیں رہی۔ پشاور کی الیکٹرانک مارکیٹس میں چین سے درآمدشدہ ’سولر پینلز‘ کی اقسام موجود ہیں‘ جن کی کم سے کم پندرہ سال تک کام کرنے کی ضمانت دی جاتی ہے لیکن اگر اِن پینلز کی دیکھ بھال کی جائے تو یہ پچیس سال سے بھی زیادہ عرصے تک کے لئے کارآمد رہ سکتے ہیں۔ وقت کے ساتھ جیسے جیسے عمومی سمجھ بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے‘ سولر پینلز کی مانگ اور استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ ماضی کے مقابلے اب سولر پینلز کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھ گئی اور اِن کی قیمت بھی ماضی کے مقابلے کم ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے سولر ٹیکنالوجی درآمد کرنے پر ٹیکسوں میں چھوٹ حاصل ہے۔ ذہن نشین رہے کہ سولر پینل کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ڈھائی سو واٹ سے بڑھ کر چارسو چالیس واٹس تک ہوگئی ہے یعنی ماضی کے مقابلے میں ایک پینل میں 190 واٹ بجلی کا اضافہ ہوا ہے پہلے جو سسٹم لگانے کے لئے 200گز جگہ کی ضرورت ہوتی تھی اب ساٹھ گز پر نصب کیا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سولر پینلوں سے کس قدر بجلی کس تناسب سے حاصل ہوتی ہے؟ یہ ایک تکنیکی سوال ہے‘ جسے سمجھنے کے لئے بجلی کے پیداواری نظام کو سمجھنا ہوگا۔ ایک کلو واٹ بجلی اگر ایک گھنٹے میں پیدا ہو تو اسے ’ایک یونٹ‘ کہا جاتا ہے مگر شمسی توانائی کے سسٹم کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی بیشی ہوتا رہتی ہے یعنی سورج کے نکلتے یا غروب ہوتے وقت شمسی توانائی کے سسٹم کی پیداواری صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔

 جبکہ دن گیارہ بجے سے سہ پہر چار بجے تک یہ پیداواری صلاحیت اپنی انتہا تک ہوتی ہے۔ شمسی توانائی کا نظام تیزی سے بہتری کی جانب گامزن ہے اور اگر ”آن گرڈ“ یا ”آف گرڈ“ یعنی بغیر بیٹری کے سولر سسٹم لگوایا جائے تو فی کلو واٹ سسٹم کی لاگت 80 ہزار روپے بنتی ہے جبکہ اگر اس میں بیٹری بھی شامل کرلیں تو قیمت سوا لاکھ روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ بغیر بیٹری والے شمسی توانائی کے سسٹم کی قیمت چار سال اور بیٹری والے سسٹم کی قیمت پانچ سال میں وصول ہوجاتی ہے جبکہ اس سسٹم کو لگوانے والے کو بجلی کے تعطل سے بھی نجات مل جاتی ہے۔شمسی توانائی کے سسٹم کو آن گرڈ اور آف گرڈ دونوں طریقوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ بڑی فیکٹریوں میں آف گرڈ سسٹم لگایا جاتا ہے جہاں پر اکثر گودام اور فیکٹری ایریا کی روشنی کے لئے شمسی توانائی پر انحصار کیا جاتا ہے۔ یہ سسٹم بیٹری کے ساتھ یا بغیر بیٹری کے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ ماہرین شہروں میں گھروں کے لئے آن گرڈ سسٹم تجویز کرتے ہیں کہ آن گرڈ سسٹم پاور چارج بیٹریوں کے ساتھ لگایا جائے تو بہتر ہے کیونکہ اگر گرڈ سے بجلی بند ہوجائے گی تو سولر سسٹم سے بجلی کی فراہمی بھی رک جائے گی۔

 ماہانہ شمسی توانائی کے حوالے سے دو طرح کے نظام پر کام ہورہا ہے۔ پہلا آن گرڈ اور دوسرا آف گرڈ ہے۔ آن گرڈ نظام میں سولر پینل کے ساتھ سمارٹ انورٹر بھی لگائے جاتے ہیں۔ آن گرڈ میں دو آپشنز ہوتے ہیں۔ چاہے بیٹریوں کے ساتھ یا بغیر بیٹریوں کے نظام لیا جائے یعنی بغیر بیٹریوں کے نظام میں اگر لوڈشیڈنگ ہوجائے تو بجلی بند ہوجائے گی۔ یہ طریقہ سیفٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے۔ اب اگر اس کے ساتھ بیٹریاں بھی لگا دی جائیں تو بجلی تعطل پر بیٹری کی طاقت کے مطابق توانائی ملتی رہتی ہے اور بجلی کا اِستعمال بلاتعطل جاری رہتا ہے۔ آف گرڈ (off-grid) نظام میں انورٹرز سولر پینل سے پیدا ہونے والی ’ڈائریکٹ کرنٹ (ڈِی سی)‘ کو ’اَلٹرنیٹ کرنٹ (اَے سی)‘ میں تبدیل کر دیا جاتا ہے اور عام استعمال کے لئے عوام کو بجلی دستیاب ہوتی ہے۔