دنیا کا اوسطاً درجہ حرارت 5۔1 ڈگری سے تجاوز کرگیا

گوٹنگن: یورپی یونین میں موسمیاتی تبدیلی کے اعلیٰ ریسرچ گروپ کا کہنا ہے کہ زمین کا اوسطاً درجہ حرارت 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپ کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس نے زمین کی آب و ہوا کی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے 7 سیٹلائٹس سے حاصل شدہ ڈیٹا استعمال کیا۔

سروس نے پایا کہ گزشتہ مہینے ریکارڈ شدہ ڈیٹا کے مطابق اب تک تک گرم ترین مہینہ تھا۔ مزید برآں جون کے بعد سے ہر مہینہ اپنے گزشتہ تمام مہینوں سے زیادہ درجہ حرارت کا حامل رہا ہے۔

Untitled

اسی طرح تجزیے میں یہ بھی پایا گیا کہ زمین کی موجودہ آب و ہوا کو سمجھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے رواں سال بھی ایک اور ریکارڈ توڑ سال ثابت ہوگا۔ ادارے کی طرف سے جاری کردہ سمندری سطح کے درجہ حرارت کے چارٹس میں پچھلے سال کے مقابلے میں کافی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ 2023 ریکارڈ پر گرم ترین سال تھا، ممکنہ طور پر پچھلے 100,000 سالوں سے بھی زیادہ۔ جنوری میں کیے گئے دیگر مشاہدات میں سروس نے بھی پتہ لگایا کہ آرکٹک خطے میں سمندری برف اوسط درجے کے قریب ہے تاہم سیارے کے دوسرے سرے پر نمایاں طور پر کمی واقع ہوئی ہے۔