مداخلت تو ہورہی ہے لیکن حکومت کچھ نہیں کررہی: جسٹس جمال مندوخیل

اسلام آباد: عدلیہ میں مبینہ مداخلت کے کیس کی سماعت کے دوران جمال مندوخیل نے ریمارکس دیےکہ مداخلت تو ہورہی ہے لیکن حکومت کچھ نہیں کررہی۔

سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے خط پر ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان  قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ کررہا ہے جس سلسلے میں اٹارنی جنرل اور مختلف بارز کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل نے کہا کہ گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ ابھی نہیں ملا، حکومت کا جواب داخل کرنے کے لیےحکمنامہ وزیراعظم کو دکھانا ضروری ہے، اس پر چیف جسٹس نے عملے سے سوال کیا کہ کیا حکم نامے پر دستخط ہو گئے اگر نہیں تو کیوں نہیں ہوئے؟ عدالت نے کھلی عدالت میں حکم نامہ لکھوایا تھا، اٹارنی جنرل نے کہا  آج حکم نامہ مل جائے تو حکومت کل تک اپنا جواب داخل کردے گی۔

دوران سماعت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی عدالت میں اپنی تجاویز جمع کرائیں جس میں سپریم کورٹ بار کا کہنا تھا کہ بارعدلیہ کی آزادی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور عدلیہ میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔

سپریم کورٹ بار  کی تجاویز  میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو کسی بھی قسم کی مداخلت پر توہین عدالت کی کارروائی کرنی چاہیے تھی، ہائیکورٹ کی جانب سے توہین عدالت کی کارروائی نہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے عدلیہ میں انٹیلی جنس اداروں کی مداخلت پر وفاقی حکومت کے جواب دینے کا آرڈر کا حصہ پڑھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تعجب ہورہا ہے کہ اتنے وکیل ہیں لیکن ایک پیج پر نہیں آسکتے، تعجب ہے کہ وکیل عدلیہ کی آزادی کے لیے بھی ایک پیج پر نہیں آسکتے، میں جمہوریت پر یقین رکھتا ہوں، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار بڑی تنظیمیں ہیں جب ہدف ایک ہے تو کہیں ایک ہیں۔


جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے 6 ججز نے خط میں لکھا کہ مداخلت کا عمل جاری ہے اور سب مان رہے ہیں کہ مداخلت ہورہی ہے، ساری ہائیکورٹس نے اپنی رپورٹس میں سیاسی مقدمات پر سنگین باتوں کو اجاگر کیا ہے اور ایک ہائیکورٹ نے تو یہ کہا کہ یہ آئین کو سبوتاژ کیا گیا ہے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا مداخلت تو ہورہی ہے لیکن حکومت کچھ نہیں کررہی۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ تحقیقات ہو یا نہ ہو؟ مجھے بار بار کہنا پڑ رہا ہے کہ آگے بڑھتے ہیں کیونکہ دیگر افراد بھی ہیں، میں سپریم جوڈیشل کونسل کا چیئرمین ہوں لیکن میں بطور خود سپریم جوڈیشل کونسل نہیں بلکہ سپریم جوڈیشل کونسل میں دیگر ممبران بھی ہیں۔

 جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ امید کرتے ہیں کہ ایک جج وہ کام کرے جو سپریم کورٹ نہیں کرسکتی، حقیقت بہت مختلف ہے اور ہم سب جانتے ہیں حقیقت کیاہے، ہائیکورٹ کے ججز ہیں، غلط نہیں کہہ سکتے، سب مان رہے کہ مداخلت ہوتی ہے، اس کا علاج بتا دیں جو ہائیکورٹ کے ججوں نے کہا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم سب کو ماننا چاہیے انڈر ٹیکنگ دیں کہ وکلا کی مداخلت بھی روکی جائے گی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ ہم خوفزدہ کیوں ہیں، سچ کیوں نہیں بولتے،  ہمیں عدلیہ میں مداخلت کو تسلیم کرنا چاہیے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں اس دلیل سے اتفاق نہیں کرتا، میں بالکل واضح کہنا چاہتا ہوں، اگر ایسا ہے تو پھر آپ کو یہاں نہیں بیٹھنا چاہیے، کوئی ایسا کہے تو اسے یہاں بیٹھنے کے بجائے گھر چلے جانا چاہیے۔

چیف جسٹس کے ریمارکس پر جسٹس اطہر نے کہا کہ میں نہیں کہہ رہا یہ بات اٹارنی جنرل صاحب نے بھی کہی ہے، میں صرف توہین عدالت پر فوکس کررہاہوں۔