سمارٹ لاک ڈاﺅن

 کورونا ہمارے ملک کا مسئلہ نہیں تھا‘چین میں ہلاکتیں ہو رہی تھیں‘ انہوںنے اپنے ان صوبوں کو بند کردیا کہ جہاں یہ آفت آئی ہوئی تھی‘جو بھی اموات ہوئیں وہ ان ہی جگہوں پر ہوئیں اور یہ آفت باقی ملک تک نہ جاسکی‘ جب یہاں سے یہ بیماری ختم کر دی گئی تو ان صوبوں کو بھی کھول دیا گیا ‘ان صوبوں سے اس بیماری کو ختم کرنے میں جس عمل نے کام کیا وہ لاک ڈاو¿ن تھا اس لئے کہ جس مرض کا کوئی علاج نہیںاس کےلئے یہی بہتر خیال کیا گیا کہ اسے محدود کرکے ختم کردیا جائے‘ پاکستان میں جب پہلا کیس آیا توسندھ حکومت ‘ڈاکٹر اور دوسرے لوگ جو اس بلا سے واقف تھے چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ اس بلا کو روکنے کا ایک ہی علاج ہے کہ اسے ایک جگہ بندکیا جائے مگر ہم نہ مانے ‘حکومت کا خیال تھا کہ اگر ایسا کیا گیا تو غریب بھوک سے مر جائیں گے ۔

غریب تو بھوک سے مرنے سے بچ گئے مگر عوام کا یہ حال ہے کہ اےک دن مےںاب ڈےڑھ سو تک لوگ مررہے ہیں‘ اب پورا ملک اس بلا کی زد میں ہے‘کورونا پر جو پہلا تبصرہ وزیراعظم کا تھا کہ یہ کوئی مرض ہی نہیں ہے سادہ سا فلو اور زکام ہے‘ یہ بات عوام نے پلے سے باندھ لی ہے اور ابھی تک کوئی شخص بھی ایس او پیز پر عمل درآمد کو تیار نہیں ہے‘کسی سے بات کرو تو وہ یہی کہتا ہے کہ یہ کورونا وغیرہ کوئی بیماری ہی نہیں ہے‘اس لئے کوئی اس سے بچنے کی تدبیر ہی نہیںکر رہا ہے جس کا نتیجہ دکھائی دے رہاہے‘ ادھر اس بیماری کے پھیلاو¿ نے سنگدل تاجروں کی چاندی کردی ہے‘ ہرکوئی دیکھ رہا ہے کہ یہ آفت کسی کو بھی نہیں بخش رہی‘مگر ہم نے اس سے بچاو¿کی ہر چیزکو چاہے وہ ماسک ہی کیوں نہ ہو کو اپنی آمدن کا ذریعہ بنا لیا ہے ‘اگر کسی سے پلازمہ مل سکتا ہے تو وہ بھی لاکھوں کی بات کر رہا ہے جبکہ اللہ نے اسے موت کے منہ سے جانے سے بچا لیا ہے‘ بجائے اللہ کا شکر ادا کرنے کے اس نے اسے کاروبار بنا لیا ہے‘ دکانداروں کی توچاندی ہی ہو رہی ہے مگر اس بیماری سے متاثر ہونے والوں کا اللہ ہی مالک ہے‘ بے چارے بیمار مارے مارے پھر رہے ہیں‘نہ ہسپتالوں میں جگہ ہے اور نہ ان کو جان بچانے والی دوائیاںدستیاب ہیں‘ اب بعد ازخرابی بسیار وزیراعظم اس بات پر تیار ہوئے ہیں کہ مختلف علاقوں کو مکمل لاک ڈاو¿ن کردیا جائے۔

 جس میں ایسے علاقوں کا چناو¿کیا گیا ہے جہاںمرےض زےادہ ہیں‘ اب دیکھیں کہ یہ کہاں تک فائدہ مند ہوتا ہے کیونکہ یہ تو سانپ کے چلے جانے کے بعد لکیر پیٹنے والی بات ہے‘ اللہ کرے کہ اس طرح ہی اچھا فرق پڑ جائے مگر جس طرح یہ قوم اس آفت کے بعد بھی رویہ رکھے ہوئے ہے اس سے لگتا نہیں کہ کوئی معافی مل سکے‘جن لوگوں کو اللہ نے شفا دی ہے ان کے متعلق ماہرین خون کا خیال ہے کہ اگر یہ اپنا پلازما دیں تو ایک شخص کے پلازما سے دو مریض صحت یاب ہو سکتے ہیں‘ تو جو لوگ صحت یاب ہوئے ہیں انہوں نے کاروبار کھول لیا ہے‘ ادھر ایسا بھی ہے کہ ایک لڑکی نے لاہور سے التجا کی کہ کوئی اسے پلازما دے تو اس کی زندگی بچ سکتی ہے‘مبینہ طور پر پشاور سے ایک نوجوان جسے اللہ نے صحت عطا کی تھی اپنی گاڑی لے کر لاہور گیا ‘ پلازما دیا اور بغیر اپنی پہچان دیئے واپس پشاور آ گیا ‘اللہ اس کو جزا دے مگر جب سے سنا ہے کہ پشاور ہی میں صحت ملنے والے لوگوں نے پلازما کو کاروبار بنا لیا ہے تو ہمیں تو سخت صدمہ پہنچا ہے ‘ اللہ سب کوہداےت دے‘ اگر اللہ نے صحت دی ہے تو پلازما دینا تو اس صحت کی زکواة ہے اس سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے‘اگر اللہ آپ کی وجہ سے دو مریضوں کو شفا بخشتا ہے تو اس سے بڑی بات کیا ہو سکتی ہے۔