خاموشی کے مقام پر 

مکالمہ کا تعلق تو ڈرامہ کے ساتھ ہے۔ وہ ڈرامہ اگر لکھا ہوا ہو یا ریڈیو پر ہو سٹیج پر یا ٹی وی یا فلم میں ہو۔مگر ڈرامہ کے اندر ایک ٹیکنالوجی ہوتی ہے۔ جس کو خود کلامی کہتے ہیں۔کردار اپنے ناظرین کو اگر کوئی بات سمجھانا چاہتا ہے تو منہ ایک طرف کر کے یا خود دوسری طرف جا کر اپنے آپ سے ایک آدھ منٹ باتیں کرتا ہے۔ان باتوں میں وہ ڈرامہ کی کہانی کو کھولتا ہے۔جہا ں گرہ لگ جائے جہاں پھنساؤ کی کیفیت ہو اور رائٹر کے پاس کوئی اور چارہ نہ ہوتو وہ کسی کردار کی زبان میں خود کلامی کی تکنیک سے وہ گتھی سلجھا لیتا ہے۔یہ جو میں نے خود کلامی کی بات کی۔یہ ڈرامہ کی ایک تکنیک ہے۔مگر یہی تکنیک ہماری اصل زندگی میں بھی موجود ہے۔وہ مکالمہ ہے جو ہم اپنے آپ سے صبح شام کرتے رہتے ہیں۔ہم اکیلے بھی ہو تو دن بھر اس اکلاپے میں اپنے آپ سے ہونٹوں کو جنبش نہ دے کر بھی بات کرتے رہتے ہیں۔ دل
 ہی دل میں کچھ اپنی کہتے ہیں اور کچھ دوسرے کی سنتے ہیں۔جو دوسرا ہمارے اندر ہے وہ ہم خود ہیں۔ہمارا ضمیر ہے جس سے ہماری گفت و شنید جاری رہتی ہے۔ہم کسی مسئلے پر سوچ بچار کرتے رہتے ہیں۔ دوسروں کی کہی ہوئی باتیں ہماری سوچ میں آتی رہتی ہیں۔ بلکہ وہ باتیں جو دوسروں نے کہی بھی نہیں ہوتیں مگر ہم فرض کر لیتے ہیں کہ وہ ہم سے یہ کہہ رہا ہے۔تو ہم اس کو اب یہ جواب دے رہے ہیں۔یہ معاملہ تا عمر جاری رہتا ہے اور صبح و شام یہ گیم آن رہتی ہے۔ہم اپنے آپ سے مکالمہ کرتے ہیں۔کیا اچھا ہے کیا برا ہے اس پر سوچتے ہیں۔پھر گھنٹے بعد یا ایک دن کے بعد ہم کسی نہ کسی نتیجے پرپہنچ جاتے ہیں۔ہر چند کہ وہ نتیجہ جو برآمدہوا وہ ہمارے حق میں بعد میں جا کر صحیح ثابت نہ ہو مگر ہم اس وقت کوئی نہ کوئی نتیجہ نکال ہی لیتے ہیں۔اصل مکالمہ وہ ہے جو اپنے آپ سے تو ہو مگر کسی مسئلے کے تحت نہ ہو۔مکالمہ بہت خاص چیز ہے۔جب ہم اپنے آپ کو دوسرا سمجھ کر غور کرتے ہیں اور اپنے آپ سے بات کرتے ہیں کہ یہ تو نے کیا کر دیا اب کیا کرنا چاہئے۔کیا مجھے ایسا کرنا چاہئے تھا۔اس موقع پر لازمی ہے کہ بندہ کی جو غلطی ہوتی ہے وہ خود بخود سامنے
 آجاتی ہے۔کوئی ان دیکھی قوت انسان کے اندر موجود ہوتی ہے جو اس کو صحیح راستے پر ڈالتی ہے۔مگر ہم غور و فکر سے کام نہیں لیتے۔ہمیں اس کام کے لئے روزانہ کے حساب سے ایک آدھ گھنٹہ خاموشی کے مقام پر مختص کرنا چاہئے۔ یہ بہت زبردست علاج بھی ہے اور ایک بہت اچھی عادت بھی ہے۔اس میں ہمارے مسائل کا حل ہمیں ملتا ہے۔مگر ہم کہا ں یہ کام کریں او روہ بھی غور کریں ایسا تو ہو نہیں سکتا۔ہم تو کھاتے پیتے ہیں موج اُڑاتے ہیں۔اپنے آپ سے ہماری بات ہو ہی نہیں پاتی۔بقول فراز ”مجھ سے ملنے نہیں دیتے مجھے ملنے والے۔صبح آ جائے کوئی شام میں آجائے کوئی“۔ہم تو روزانہ کے حساب سے دوسروں کے ساتھ ڈھیروں باتیں کرتے ہیں۔مگر کبھی ہم نے اس بات کی ٹینشن لی کہ آج مجھے اتنا وقت بھی نہیں ملا کہ اپنے آپ ہی کودے سکتا۔کچھ غور فکر کر لیتا۔