یہ سڑکیں

حالانکہ وہ سو گز کے فاصلہ پر سڑک کا ٹکرا چھوڑ کر گاڑیوں والے دوسرے راستے بھی اپنا سکتے تھے۔ مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہاں تھوڑا لمباہو کر تین اور راستے موجود تھے ۔مگر جیسے راہگیروں نے قسم کھا رکھی تھی کہ کچی سیمنٹ لگے اسی راستے کو استعمال کریںگے ۔اصل میں عرصہ دراز سے مین روڈ کے ساتھ ملاتی ہوئی یہ سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔ چھوٹی بڑی گاڑیاں یہاں چڑھائی چڑھ کر اور واپسی پر اترائی اتر کر نیچے اور اوپر آتی جاتی تھیں۔ یہاں تیزرفتاری کی وجہ بہت سے ایکسیڈینٹ ہو چکے ہیں۔نیچے سے آنے والا تیزی کے ساتھ آتا ہے کہ میں اوپر سڑک پر جلدی سے پہنچ جا¶ں اور نیچے جانے والا اپنی سائیڈکو چھوڑکر دائیں طرف سے یہ موڑ کاٹتا ہے۔ یہاں ایک مکان بن رہاتھا ۔ اس مکان کے مالک نے اتنی مہربانی کی کہ اسی سیمنٹ اور بجری سے یہ ٹوٹی ہوئی سڑک کا ٹکرا بنا دیا۔پھر دو اطراف سے یہاں بانس رکھ کر راستہ بند کر دیا۔ راہ ہمیشہ کے لئے تو بندنہیں کی۔بس سہہ پہر کو سڑک کایہ ٹوٹابنایا اور پھر رات کے بعد صبح دن چڑھے سیمنٹ سوکھ جاتا تو گاڑیاں احتیاط سے یہاں پر سے گزر سکتی تھیں۔ مگر ہمارے پیارے صبر کہاں کرتے ہیں۔دوسرے دن تو بائیک سوار گزر تے گئے ۔کیونکہ سیمنٹ کافی حد تک خشک ہو چکا تھا ۔ دو اطراف پتھر رکھ کر بھی راہ کو بند کیا گیا تھا ۔بائیک والوں کا کیا ہے ان کا ایک ہی پہیہ وہاں سے گزرنا تھا۔مگر آفرین ہے ان بھاری گاڑی والوں پر جن کو متبادل راستہ بہت آسانی سے دستیاب تھا مگرایک گاڑی وہاں رکی ایک بندہ اترا ۔اس نے راہ میں ایک قطار میں رکھے پتھر گاڑی کے ٹائروں کی ترتیب سے ہٹائے اور گاڑی وہاں سے گزر چلی ۔مگر آگے تین رکاوٹیں اور تھیں بانس پڑے تھے اور دوسرے رخ پربھی پتھروں کی قطار تھی۔ہم تو نکل آئے مگر اس گاڑی والے کو بہت دشواری پیش آئی ہوگی ۔میرا پورا یقین ہے کہ وہ آدھی راہ سے مڑ کر واپس گیا ہوگا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر راستے میںپتھر رکھ کر رکاوٹ بنائی گئی تھی تو آخر اس کا کوئی مقصد تھا کہ اس طرف کوئی نہ آئے ۔مگر گاڑی والے کو دوسراراستہ آسانی سے دستیاب ہونے کے باجود وہ دوسری طرف سے نہ گیا۔اس طرح گند بھرے ہوئے شاپر بیچ سڑک میں پھینک دینا بھی روز کا نظارہ ہے ۔ ا س لئے کہ صبح صفائی کا عملہ تو ویسے بھی آئے گا وہی ہمارا گند اٹھالے گا۔ صفائی کے عملے والے بیچارے روز انہ جھاڑو لے کر سڑک پر سے جھاڑو لگا کر اس کی دھول مٹی وغیرہ سڑک کے ایک کنارے پر لگا دیتے ہیں۔مگرجب تک ہمارے شہریوں کا ضمیر نہ جاگے اور وہ خود اس شہر کی صفائی پر متوجہ نہ ہوں یہ نیا پار اترنے والی نہیں ہے ۔کیونکہ سب اگر مل جل کر کام کریں گے اور اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھیں گے تو تبھی جا کر حالات سازگا رہو سکتے ہیں۔یہ نہیں کہ ہمارا ہر ڈالا ہوا گند صاف کرنا حکومت کے کارندوں کے سر ہے ۔ایسا اگر ہے تو شہر کی ترقی کی سبیل نظر آتی تو ہوگی مگر اس شہر کو بستے بستے بہت دیر ہوجائے گی۔ ہم شہری ہی تو اس کے ذمہ دار ہیں۔جیسے عوام ہوں گے اسی طرح عوام کے ادارے ہوں گے ۔عوامی اداروں کے کارندے آخر کہاں سے آئیں گے ۔ یہ ہمارے ہی معاشرے کا حصہ ہیں او رہمیں میں سے ان کی اٹھان ہوگی ۔سڑکیں کس کو کہاں کسی کو کہاں پہنچاتی ہیں ۔یہ نہ ہوتیں توہم جنگل میں ایک محدود جگہ ڈھیر ہوچکے ہوتے ۔مگر ہم اس سڑکوں کی پروا تک نہیں کرتے ۔کیونکہ ہمارے لاشعور میں ہے کہ یہ سڑک کسی کی اپنی ملکیت نہیں ۔حکومت کی ہے سو حکومت اپنے اور کاموں میں مصروف ہوگی ۔اس کا سڑکوں سے کیا واسطہ۔ مگر ہمیں معلوم نہیں کہ یہ سڑکیں اگر کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں تو یہ ہم عوام کی ہیںہمارا ہی فرض ہے کہ اپنی ملکیت کو خراب ہونے سے بچائیں۔ سڑک کو اپنے گھر کی طرف جاتا محسوس کریں۔ عطاءالحق قاسمی کاشعر ہے کہ ” گھر کو جانے والے رستے اچھے لگتے ہیں۔ جیسے دل کو درد پرانے اچھے لگتے ہیں“۔جب سڑکیں اپنے گھرکو جاتی ہوں تو پھر تو ان کا خیال کرنا چاہئے کہ ان کا ہمارے اوپر احسان ہے اور احسان کابدلہ ہم اس طرح چکائیں کہ سڑکوں کو برباد کریں تو ہم پر سوائے افسوس کے اور کچھ نہیں کیا جا سکتا ۔