اس بے وفا کا شہر ہے 

اچھی شاعری کتابوں میں تو موجود ہے ۔مگر وہ شاعری اب فلموں میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی ۔حالانکہ دس ایک سال پہلے پرانی معیاری شاعری او رساتھ ہی جدید شاعروں کے معیاری کلام پر مشتمل گانے ترتیب دیئے گئے مگر وہ تجربہ ناکام رہا ۔ کیونکہ نہ اب وہ زمانہ ہے اور نہ وہ لوگ موجود رہے ہیں جو کلاسیکی انداز کی شاعری پسند کرتے تھے ۔ایک وقت تھا کہ فلم اور موسیقی کا چولی دا من کا ساتھ تھا اور شاید اس لئے بھی فلم کی موسیقی پر بہت توجہ دی جاتی تھی۔احمد فرازکی غزل ” سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں “ ایک گیت کی شکل میں گائی گئی ۔ پھر اس سے قبل منیر نیازی کی شاعری میں ایک غزل بھی موسیقی میں لپیٹ کر پیش کی گئی۔ ”اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو“۔مگر اس کے بعد ٹرینڈ بدل گیا۔ اس دور کے گانے آج بھی لوگوں کے دل و دماغ پر چھائے ہوئے ہیں اور اس کی وجہ نہ صرف ان گانوں کی شاعری تھی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ موسیقی بھی دل موہ لینے والی ہوتی تھی۔یہاں تو بس فیشن کے بدل جانے سے لوگ بدل جاتے ہیں یا ٹرینڈ بدل جانے سے عوامی مزاج میں بدلا¶ آتا ہے اور ایسا بھی آتا ہے کہ اپنے اس سیلاب میں سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے۔پرانے فلمی گانوں میں جہاںفلمیں معیاری بنتی تھیں وہاں ان فلموں کے گانوں میں غضب کی شاعری ہوتی تھی پھر موسیقار بھی عمدہ اور شاندار شہرت کے حامل فنکار تھے ۔اداکار بھی وہ نہیں رہے ۔بس چونکہ ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کی بات ہے اس لئے عوامی ڈیمانڈ کے مطابق فلمیں بنائی جاتی ہیں۔حالانکہ فلم ایک بہت طاقتور ذریعہ ہے جسے شعور اجاگر کرنے اور کوئی بھی مثبت پیغام پہنچانے کیلئے اگر استعمال میں لایا جائے تو اس کے دور رس اثرات کے حامل نتائج سامنے آتے ہیں۔مگر اب کسی کو شاعری سے کیا لینا دینا ۔بس یہی طریقہ ابنائے روزگار کا ہے ۔وہ لوگ نہیںرہے ،قتیل شفائی کی شاعری بُھلا دینے والی چیز ہے کیااور مہدی حسن نور جہاں کی گائیگی کانوں کے میموری کارڈمیںسے ڈیلیٹ ہو سکتی ہے۔ اب بھلا اس زمانے کا گانا کون بھلا سکتا ہے جو بلیک اینڈ وائٹ میں شمیم آرا پرفلمایا گیا” کہیںدو دل جو مل جاتے بگڑتا کیا زمانے کا “ ہمیں کیا معلوم تھاکہ اس فسانے کا یہ انجام ہوگا کہ ان کی جوڑی جب سنتوش کے ساتھ سکرین پر اُبھرے گی اور جب بعد میںشمیم آرا رنگین فلموں کی زینت بڑھائیں گی تو وہ معیارات غارت ہو جائیںگے۔ ٹی وی پر اتنے اچھے معیار کے ڈرامے پیش کئے جاتے ہیں کہ اب ناظرین کی نگاہیںبڑی سکرین سے ہٹ کر چھوٹی سکرین پرمرکوز ہو چکی ہیں۔ اب تو ایک زمانہ ہو چکاہے کہ مشہور فلم سٹار ٹی وی ڈراموں میں آتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں ۔ندیم قوی جاوید شیخ او رکتنی اور ہیروئنیں بھی اب ٹی وی کی چھوٹی سکرین پر آتے ہوئے ناز کرتی ہیں۔ اب وہ فلمیںنہیں رہیںاور نہ ان پرملنے والے نگار ایوارڈ وغیرہ موجود ہیں۔ جب وہ معیارات نہیں رہے تو وہ شاعری کہاں سے باقی رہے گی جو ان فلموںکی آبرو ہواکرتی تھی ۔ اب تو شہرت فلم نگر کی رونق نہیں رہی اب تو شہرت ٹی وی انڈسٹری کی جان بن چکی ہے۔