خطرناک کھیل

کھیل کوئی بھی ہو وہ کھیل ہی ہوتا ہے سچ نہیں ہوتا‘ وہ تومحض وقت گزاری کے لئے کھیلا جاتا ہے ‘دل خوش کرنے کو جی بہلانے کو یہ دل بستگی کی جاتی ہے‘یہ کسی حقیقت کو تفریح کی شکل میں ڈھال کر کھیلتے ہیں تاکہ جس حقیقت کو ہم عملی جامہ نہیں پہنا سکتے اس کو مذاق و مستی کے روپ میں دیکھ کردل خوش کریں‘پھر آج کل کے حساب سے اگر موبائل کو بھی بیچ میں لے آئیں تو گیم گیم ہوتی ہے‘ خواہ کوئی بھی ہو ۔کرکٹ تو موبائل پر بھی کھیلی جاتی ہے اور لڈو وغیرہ بھی اور اس قماش کے دوسرے کھیل بھی یوں کھیلے جاتے ہیں۔جن کا مقصد تفریح حاصل کرنا ہوتا ہے اور کچھ نہیں ہوتا ۔ تفریح کا مقصد اپنے غموں کو کچھ دیر تک بھلانے کی ایک کوشش کا نام ہے۔اب لڈو کو لیں سامنے بساط بچھا کر بھی کھیلی جاتی ہے اور شطرنج کی طرح آن لائن دنیا والوں کےساتھ بھی کھیلتے ہیں‘ ہاکی فٹ بال ٹینس کرکٹ ان گنت کھیل ہیں۔مگرکچھ کھیل ایسے بھی ہیں جن میںمد مقابل کو جانی نقصان پہنچانے کا خطرہ ہمہ وقت رہتا ہے ‘ وہ کھیل جیسے باکسنگ ہے اورکک باکسنگ ہے بہت خطرناک کھیل ہیں‘کنگ فو جوڈو کراٹے یہ سب اپنا دفاع کرنا سکھلاتے ہیں ‘مگر اس بہانے جب ان کھیلوں کے مقابلے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کو خاص ناک اور منہ پر پنچ مارکے زخمی کرنے کی جان بوجھ کر کوشش ہوتی ہے ‘کیونکہ اس سے ایک تو سکورنگ پوائنٹ ملتے ہیں پھر سامنے والے کو ادھ موا کر کے مقابلہ جیتنے کی کوشش ہوتی ہے۔یہ خیالات اس وقت میرے ذہن میں اس لئے آئے کہ میں ٹی وی پر ایک فلم میں مشہور ہیرو کی نئی فلم کے مناظر دیکھ رہا تھا۔ہمارا تو فلم دیکھنا بہت مشکل ٹھہرا ہے کیونکہ ہمارے پاس تو خبریں دیکھنا بھی مجبوری کے عالم کی مصروفیت ہے۔مگر کھانا ڈالا ہوا تھا شیٹ بچھی ہوئی تھی تیار کا معاملہ تھا او رتیار کا نوالہ تو بڑے بڑے جیدار اور ہوش مند بھی 
نہیں چھوڑتے۔سو جتنی دیر میں کھانا معدہ تک پہنچایا اتنی دیر نہ چاہتے ہوئے بھی ٹی وی کی سکرین کی طر ف دھیان رہا ۔ہیرو کک باکسر ہوتا ہے۔اس کو اس کی کمزور جگہ جہاں پہلے سے زخم ہوتا ہے پسلی پر خوب مکے مارے جاتے ہیں ۔عنقریب کہ وہ ہار جائے وہ خوب زخمی ہوتا ہے چہرے پر زخموں کے نشانات اُبھرآتے ہیں۔یہ بات یقینی ہوتی ہے کہ وہ شکست کھا جائے گا ۔مگر آخر میں پانسا پلٹتا ہے اور ہارتے ہارتے مقابلہ میں فتح یاب ہو جاتا ہے۔میری عادت ہے کہ منظر کو نہیں دیکھتا میرا دھیان پس منظر کی طرف رہتا ہے سرِ آئینہ نہیں دیکھتا یہ دیکھتا ہوں کہ پسِِ آئینہ کون ہے۔مجھے وہ کھیل او رگیم سخت نا پسند ہیں جو انسانی جان کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔دنیا میں اور غم تھوڑے ہیں ” اور بھی غم ہیں زمانے محبت کے سوا‘ راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا“۔بلکہ عشق میں بھی جان کا زیاں ہونے کا اندیشہ ہے ہوتا ہے ۔اسی لئے تو شاعر نے نصیحت کی ہے ” عشق کے کھیل میںہوتا ہے بہت جی کا زیاں۔عشق کو عشق سمجھ مشغلہ ¿ دل نہ بنا“ ۔عشق کو اگر بالفرض عشق نہیں سمجھتے تو نہ سمجھیں مگر خدارا کھیل کو کھیل ضرور سمجھیں‘اب فٹ بال لیں انتہائی حساس کیمروں کی مدد سے کھیل کے دوران میں ورلڈ مقابلہ کے فائنل میں بلکہ عام گلی محلے کے فٹ بال کے میچوں میں بھی ایک کھلاڑی 
سامنے آ جانے والے فٹ بالر کی پنڈلی کی ہڈی پر پا¶ں میں پہنے بوٹ کی چوٹ دیتا ہے تاکہ اس کو دکھن ہو اور مجھے گول پوسٹ تک پہنچنے کا راستہ ملے ۔اگر ریفری نے دیکھ لیا تو خیر وگرنہ گلی محلوں کے میچوں کے اوپر کیمرے تو نہیں نصب ہوتے‘ورلڈ لیول کے مقابلوں میں بھی ایک دوسرے کو لاتیں مارتے ہیں۔بلکہ عام مقابلوں میں جو کسی گرا¶نڈ پر کھیلے جاتے ہوں اور وہ عام سا ٹورنامنٹ ہوتا ہے جہاں نہ کیمرہ اور گنے چنے تماشائی ہوتے ہیں۔وہاں کھلاڑیوں نے بوٹ کی نوک پر میخیں بھی لگا رکھی ہوتی ہیں۔کھیلوں میں یہ رویے نہ ہوں تو کتنا اچھا ہو بلکہ فٹ بال میں تو صاف صاف دوسرے کھلاڑی کو دھکا بھی دیتے ہیں او راس پر فخر کرتے ہیں۔ایک خاص قسم کی کبڈی ہے جس میں کھلاڑی ایک دوسرے پر ہاتھ نہیں ڈالتے بلکہ ایک دوسرے کو تھپڑیں مارتے ہیں ‘گویا یہ مقابلہ منہ پر چانٹے رسید کرنے کا مقابلہ ہوتا ہے ‘یہ انتہائی خطرناک کھیل ہے جو ہمارے ہاں بھی موجود ہے ۔اس قسم کے وہ کھیل جو انسانی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں ان پر پابندی لگانا چاہئے یا ان کیلئے خاص قسم کے قواعد و ضوابط کو متعارف کرانا چاہئے تاکہ ان کھیلوں میں انسانی جان کو لاحق خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔یہ سچ ہے کہ کسی بھی کھیل کا اصل مقصد ذہنی اور جسمانی طور پر انسان کو مضبوط کرنا اور اسے ہر طرح کے ذہنی اور جسمانی چیلنجز کیلئے تیار کرنا ہے تاہم یہ عمل اس طرح انجام پائے کہ انسانی ذہن اور جسم کی حفاظت ہو نہ کہ ان کو خطرات لاحق ہوں۔ کیونکہ بڑوں کو دیکھتے ہوئے بچے بھی اس طرح کے کھیل کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں جو کسی بھی طرح ان کیلئے درست نہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ ایسے کھیل جو خاص قسم کے حفاظتی اقدامات کے متقاضی ہیں اس حوالے سے خصوصی احتیاطوں اور قواعد کو ضرور مد نظر رکھا جائے ۔