میری عینک کہاں ہے ؟

وہ اپنے آفس کے شٹر ڈا¶ن کر کے میرے ساتھ ہی نکلا ۔تالے والے لگا دیئے۔مگر مجھے خلافِ معمول ادھورے پن کا احساس ہو رہا تھا۔ہر ہفتہ ہماری یہ ملاقات بہت خوب رہتی ہے ۔شاید ان کو کسی بارات پر جانے کی جلدی تھی۔ا س لئے انھوں نے اس بار اٹھتے ہی لائٹیں آف کردی تھیں۔شاید یہ وجہ ہو بہر حال ہم بھی تو بھلکڑ قسم کے آدمی ٹھہرے۔وہ ہفتہ کے دن چھٹی کے بعد بھی آفس میں بیٹھ جاتے ہیں اور اپنا پینڈنگ پڑاہواکام نپٹا لیتے ہیں ۔ ساتھ اس خاکسار کو بھی کال کردیتے ہیں ۔ اس طرح گپ شپ کے دوران میں وہ اپنا کام نپٹا لیتے ہیں ۔آفس بوائے چائے اور دہی بھلوں سے ہماری خاطر تواضع کرتا ہے۔تین گھنٹے اضافی گزارنے کے بعد جب ہم باہر نکلے تو وہ خدا حافظ کہہ کر اپنی گاڑی میں بیٹھنے لگے اور میں نے اپنی چاند گاڑی کو کک لگائی ۔ مگر سٹارٹ کرتے وقت اچانک احساس ہوا کہ میری تو عینک اندر ان کی میز پر رہ گئی ۔میں نے مناسب نہ سمجھا مگر انھوں نے کار سے باہر نکل کر خود ہی کہا آپ کی تو عینک اندر رہ گئی ہے۔میںنے کہا ارے نہیں جانے دیں۔ اگلی بار آیا تو لے لوں گا ۔ فرمانے لگے یار ایسے کیسے ہو سکتا ہے ۔ہفتہ کے سات دن ہیں آپ کیسے گزارا کریں گے ۔شام ہو چکی تھی اورلیلائے شب کی زلفیں سرِ آسماں بکھر چکی تھیں۔مگر مجھے پھربھی دھوپ والی ڈاکٹری عینک پہننا ہوتی ہے ۔کیونکہ یہاں تو ٹریفک کے سیلاب میں فلش لائٹیں ایسی جلوہ گر ہوتی ہیںکہ جیسے رات کے عالم میں ان سڑکوں پر کرکٹ کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا فائنل کھیلا جانے والا ہو۔یہ روشنیاں تو اندھیرا دور کرنے کے لئے ہیں ۔مگر یہ کیسی ہنگامہ خیز روشنیاں ہیںجو کاروں کی ہیڈ لائٹس کی شکل میں چاروں اور بکھر کر بجائے روشنی کے اندھیرے بکھیرنے لگتی
 ہیں۔مجھے تو ان روشنیوں سے بہت الرجی ہے ۔بلکہ میں تو رات کو گھپ اندھیرا کر کے تنہائی میں بیٹھوں تو ایک گونہ سکون ملتا ہے کہ جب ہاتھ کو ہاتھ کیا سجھائی نہ دے اپنا آپ دکھائی نہ دے ۔ان کو میری اس کمزوری کا پتاتھا۔ انھوں نے پھر سے تالے وغیرہ کھلوائے اور بندہ اندر گیا اور میری عینک لے آیا۔بلکہ انھوں نے خود اپنے بارے میں بتلایا کہ نظر کی چار عینکیں ہیں۔ ایک گاڑی میں رکھی ہے دوسری ڈرائنگ روم میں اور ایک کو اندر اپنے کمرے اور ایک عدد اوپر والی منزل میں موجود ہے۔کافی لوگوں عینک کے معاملے میں بھول جانے کے مرض میں مبتلا ہیں۔اگر یہ بھول جانا نہیں ہوتا تو عینک کے ساتھ رسیاں باندھ کر گلے میں کیوں لٹکایا ہوتا۔ویسے عینک کی سب سے بڑی حفاظت کی جگہ کہ یہ بھول نہ جائے خود عینک استعمال کرنے والی کی ناک ہے ۔جب تک ناک پر دھری رہے گی کہیں بھولے گی نہیں اور نہ ہی گم ہوگی ۔عینک ہم نے بہت سنبھال کر رکھی ہے۔ وہ گم تو نہیں ہونے پائی ہاں ٹوٹ ضرور گئی ہے ۔کیونکہ عینک کو دوسروں سے کیا بچانا خود اپنے آپ سے بھی بچانا بہت ضروری ہے ۔اپنا ہی پا¶ں عینک پر آگیاتو عینک کی دکان والے دوست کا یہ کہنا کوئی مشکل تو نہیں کہ نہیں صاحب یہ عینک نئی بنے گی۔
 اس کا فریم دوبارہ جوڑانہیں جا سکتا۔عینک نظر کی ہو یادور و نزدیک کی ہو وہ کہیں نہ کہیں بھول ہی جاتی ہے ۔ویسے ہم اگر نزدیک والی عینک کہیں بھول جائیں تو کمال یہ ہے کہ ہمیں پھر یاد بھی تونہیں آتی ۔ تین تین دن گزر جاتے ہیں۔ویسے موبائل کے کیمرے کو زوم کر کے ہم نے اس طرح کے کسی تحریر کو پڑھنے کے کئی مسائل حل کئے ہیں۔اسی لئے اول تو عینک کی ضرورت نہیں پڑتی ۔پھر اگر احتیاج ہو تو عزیزوں رشتہ داروں کے گھروںمیں فون کرنا پڑتے ہیں کہ میری عینک یہاں تو نہیں رہ گئی مگر وہی ٹکا سا جواب ملتا ہے نہیں اگر ہوتی تو ہم خود ہی آپ کو فون کردیتے بلکہ میرا بیٹا آپ کے آکر عینک دے جاتا۔ویسے وہ اس موقع پر خود بھی فرما سکتے ہیں کہ میں خود ہی عینک لے آتا ۔ مگر وہ یہ بات نہیں کہتے کیونکہ عینک نے ان کے گھر میں موجود نہیں ہونا اور انھوں نے عینک لے کر ہمارے ہاں آنا نہیں ہوگا۔اب چونکہ ہمارا واسطہ ہمارے اڑن کھٹولے سے ہے ۔ہم خلائی شٹل چلانے سے پہلے ہیلمٹ ساتھ رکھتے ہیں ۔اگر نہ بھی پہنیں مگر پولیس سارجنٹ کو جُل دینے کی غرض سے بائیک کی ہیڈ لائٹ پر رکھ دیتے ہیں تاکہ کسی کو اعتراض نہ ہو کہ ہمارے پاس ہیلمٹ نہیں ۔مگر افسوس ہے کہ وہ بھی کسی کے گھر بھول آتے ہیں۔فونیں کرو تو جواب نہیں ملتا ۔مگر سوچتے ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ہیلمٹ انھی کے پاس ہے مالِ مفت دلِ بے رحم ہے اس لئے انھوںنے اُچک لیا ہے ۔مگر یہ ہیلمٹ ملتا کسی اور کے گھر سے ہے ۔پھر یاد آتا ہے کہ او ہو ہم تو اس موسم کی زمبوری کی طرح ہر جگہ گھومتے رہتے ہیں۔مگر اب کے تو ہیلمٹ ایسا گم ہوا ہے کہ نہیں مل رہا۔ دو ماہ ہوئے ہیں ہم اس سوچ میں ہیں کہ اس پہلی تاریخ کو ہیلمٹ لے ہی لیں کیونکہ یہ بڑے کام کی چیز ہے ۔