ہم ایسا کیوں کرتے ہیں؟

یہ شہرِ خموشاں چونکہ کسی کی ملکیت نہیں ہیں اس لئے یہاں جس کا جو جی چاہے وہ اس ویرانے میں کرتا پھرتا ہے۔جن کا بس چلتا ہے وہ تو اپنے خاندانی قبرستانوں کے گرد چار دیواری چڑھا کر ان کو محفوظ کر لیتے ہیں۔ خاندان والوں کے گھروں اور دکانوں پر جا کر وہاں ان سے چندہ جمع کر تے ہیں اور اپنے قبرستانوں کی حفاظت کی خاطر اس کے گرد ایک احاطہ سا تعمیرکر کے اس خاموش نگر کو محفوظ کر لیتے ہیں مگر جو نشہ کرنے والے ہیں وہ تو دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہوجاتے ہیں اور باہر کی دنیا سے زیادہ محفوظ ہوجاتے ہیں۔اندر وہ ہیروئن اور آئس وغیرہ کے نشوں تماشوں میں غرق ہو تے ہیں لیکن جب تک چار دیواری کے تعمیر ہونے کے بعد اس کے اندر کسی محافظ کو کوارٹر بنا کر نہ دیں تو قبرستانوں کی حفاظت کرنابہت مشکل ہے۔ پھر آج کل تو اپنے قبرستانوں کی حفاظت کرنا او رگراں تر ہوا جاتا ہے۔کیونکہ نئے نئے نشے نکل رہے ہیں اور نئے نئے نوجوان بیروزگاری کے باعث اس بیماری میں مبتلاہوکر اپنے آپ کو وہاں زندہ در گور کرنے کے درپے ہیں۔جو چھوٹے قبرستان ہیں وہاں تو چلو حفاظت کا کوئی نہ کوئی بہانہ مل ہی جاتا ہے مگر یہ جو دور دور تک چلے گئے قبرستان ہیں سو ان جگہوں پر قبرستانوں کی حفاظت کرنابہت مشکل ہوتا ہے۔جو چھوٹے قبرستان ہوتے ہیں وہاں تو کوئی اس مقام کی بے حرمتی کرے تو نظر آ جاتا ہے او راس کے قبرستان کے دعویدار محدود معاشرت میں گھر گھر جا کر اپنے تعلقات کی بنا پر چندہ اکٹھا کر کے قبرستانوں کے گرد لوہے کے جنگلے والی دیواریں کھڑی کر دیتے ہیں تاکہ اندر کوئی جرم بھی اگر ہو رہاہو وہ باہر سڑک سے گزرنے والے اجنبی کو بھی نظر آ جائے کیونکہ قبرستانوں میں نشوں کے علاوہ بھی اور غیر اخلاقی سرگرمیاں ہوتی ہیں جن کے بارے میں کسی کو معلوم اس لئے نہیں ہو پاتا کہ کوئی راہگیر  یہاں آتا ہی نہیں اور نہ ہی ان قبر کے مکینوں کے رشتہ دار روزانہ یہاں آتے ہیں۔اس لئے چونکہ ان مقامات  کی طرف کسی کی نظر نہیں جاتی اس لئے یہاں جرائم اور نشے وغیرہ ہوتے رہتے ہیں اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوپاتی‘اگر چار دیواری والے قبرستانوں کا یہ حال ہو تو وہ قبرستان جو حد ِ نگاہ تک پھیلے ہوئے ہیں او رجن میں چلنے کا راستہ تک نہیں ہے۔جن کی چار دیواری بھی نہیں ہے وہاں کا کیا حال ہوگا۔وہ جو مرجاتا ہے ان کی ذمہ داری سے نکل جاتاہے اس لئے ایک مدت تک اس کی قبرکی حفاظت ہوتی ہے مگر کچھ عرصہ کے بعد اس کی قبر تک کو بھلا دیا جاتا ہے۔پھر وہاں صاحبِ قبر کو بھول کر قبرستان کے پاس کے مکینوں اور دور دراز کے رہائشیوں کا راج ہو جاتا ہے‘ایک سابقہ سیاسی لیڈر نے حال ہی میں بعض قبرستانوں کی حفاظت کے لئے ان کے گرد لوہے کی سلاخیں لگوا کر ان کو باہر کے کسی آنے جانے والے کے لئے محدود کر دیا ہے‘انہوں نے بہت بڑا اور بڑھیا کام کیا ہے۔نیک لوگوں کے نیک کام ہوتے ہیں او راچھے کاموں کو پبلک تا دیر یاد رکھتی ہے۔اچھے کام کا انجام بھی اچھا او ربرے کا برا اختتام ہوتاہے۔ہمارے ہاں کے مکینوں نے ایک اور کام سیکھ لیا ہے۔ چونکہ پہلے آبادی کم ہوا کرتی تھی اس لئے اس آبادی کے گھروں کا گند گریل بھی کم ہوتا تھا۔مگر اب چونکہ پشاورمختلف تہذیبوں کا سنگم بن چکا ہے اس لئے گندگی بھی بڑھ چکی ہے‘ سو ہمارے قبرستان جن کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے وہ کوڑے کے ڈھیر بنتے جا رہے ہیں۔ جس کے ہاتھ میں گند کا شاپر ہو او روہ جگہ تلاش کر رہا ہو کہ کہیں گرادے اور اس کو صحیح مقام نہ ملے تو قبرستان سے زیادہ اچھی جگہ کون سی ہو سکتی ہے۔کیونکہ قبرستان سے ہٹ کر کہیں بھی گند گرائیں گے تو آپ کو کوئی نہ کوئی روک لے گا اور آواز دے گا کہ یہاں گند مت گراؤ یہ گند گرانے کی جگہ نہیں ہے‘سو اس لئے قبرستان میں گند پھینکنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس جگہ کی ملکیت کسی کے پاس نہیں ہوتی۔کوئی آپ کو آ کر روک نہیں سکتا کہ اوئے یہاں گند کیوں گرا رہا ہے گند میں اضافہ ہو جائے گا تو کیا ہوگا۔ہاں اگر کسی کے گھر کے آگے گند گرانا ہو تو جا کر رات کے پچھلے پہر گرا دو کوئی آپ کو کچھ کہہ ہی نہیں سکتا۔کیونکہ ہر گھر کے مین دروازے پر تو سی سی فوٹیج کیمرے نہیں لگے ہوئے جو آپ کو شناخت کر  لیں گے؟۔