یوم آزادی مبارک

 14اگست یوم آزادی، تجدید عہد کا دن ہوتا ہے۔ آج جس پاکستان میں ہم آزادی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ آزادی لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ہمارے بزرگ بتاتے تھے وہ جب جشن آزادی کے روز ہمیں پاکستان کے آزاد ہونے کی کہانی سناتے تھے توکچھ اس طرح گویا ہوتے تھے کہ آزاد سرزمین پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والوں کے طویل قافلوں کا سلسلہ جاری تھا اور حالات یہ تھے کہ دس بوگیوں کی ٹرین میں دس افراد کا سانس چلتا تھا۔ سات افراد کی فیملی پاکستانی سرحد عبور کرتے کرتے دو افراد تک محدود ہوگئی تھی اور کئی تو اپنی پوری فیملی میں سے اکیلے رہ گئے تھے۔ قیام و طعام کے مسائل تھے اور دفاعی خطرات  الگ سے تھے۔کھلے آسمان تلے مہاجر خدا کے بھروسے پرپڑے تھے۔ جیب میں پھوٹی کوڑی نہ تھی اور مال اسباب سب دیار غیر میں رہ گیا تھا۔ یہ سب کس لئے تھا؟ اک زمین کے ٹکڑے کیلئے جہاں آزادی کے ساتھ بحیثیت قوم اپنی امنگوں کے مطابق زندگی بسر کرسکیں۔ آج بھارت میں مسلمانوں کی جو حالت ہے اس کو دیکھتے ہوئے اب یہ یقین زیادہ راسخ ہوگیا ہے کہ ہمارے اجداد نے آزادی کے حصول کا جو فیصلہ کیا تھا وہ درست تھا،آج کشمیر میں 75 سے زائد سال ہوئے صف ماتم کیوں بچھا ہے؟ چلتی گولیاں، آنسو گیس کی شیلنگ، دستی بم بارود، مارکٹائی، لاپتہ افراد کشمیر کو ایک جیل میں بدل دیا گیا ہے۔تاہم آزادی کے جذبے کو بھارت بزور شمشیر دبا نہیں سکتا۔وہ دن دور نہیں جب کشمیر بھی بھارت کے تسلط سے آزاد ہوگا۔جہاں تک وطن عزیز کی سالمیت کا سوال ہے تو اس دھرتی کا ہر باسی جان پر کھیل کر اس کی حفاظت کیلئے تیار ہے۔ہمارا دشمن یہ بھول چکا ہے کہ اگر پاکستان کے قیام کیلئے لاکھوں لوگ قربانی دے سکتے ہیں‘تو اس ملک کی بقاء کیلئے آج بھی ہم مرمٹنے کو تیار ہیں۔تحریک پاکستان اور آزادی میں خیبر پختونخوا کے عوام نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔ قائداعظم کے مطالبے پر 1927ء میں دستوری اصلاحات کا آغاز ہوا۔ 1940ء میں سردار اورنگزیب نے قرار داد پاکستان کی تائید و توثیق کی۔ سردار اورنگزیب خان، جسٹس سجاد احمد خان اور خان بہادر اللہ خان کی کوششوں سے 1939ء میں ایبٹ آباد میں مسلم لیگ کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس خیبر پختونخوا کے مسلمانوں میں تحریک آزادی کی روح پھونکنے کا ذریعہ بنی۔ کئی اضلاع میں مسلم لیگ کے دفاتر کھولے گئے۔ مسلم لیگ نے 1947ء میں صوبے میں سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی۔ کارکنان کی ایک بڑی تعداد کو بے بنیاد اور جھوٹے مقدمات میں ملوث کر دیا گیا۔ تقریباً آٹھ ہزار کارکنان کو گھرو ں میں نظر بند کر دیا گیا۔ لیکن مسلم لیگ کی تحریک بڑی تیزی سے پھلتی پھولتی چلی گئی۔ اسلامیہ کالج پشاور اور ایڈورڈز کالج کے طلبہ تصور پاکستان کو نمایاں کرنے میں سرفہرست تھے۔ پاکستان کا قیام 14ویں صدی ہجری کا سب سے اہم واقعہ ہے جو علامہ محمد اقبال کے خوابوں کی تعبیر، قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت کا ثمر اور لاکھوں مسلمانوں شہادت  کا صلہ ہے۔اگر پاکستان معرض وجود میں نہ آتا تو آج ہماری کوئی پہچان نہ ہوتی ہم آج جو کچھ بھی ہیں صرف اور صرف پاکستان کی بدولت ہیں۔ 14اگست ہم سب کے لئے تجدید عہد کا دن ہوتا ہے اسلئے تو آج کے دن قیام پاکستان کے لئے دی گئی قربانیوں کے تذکرے ہوتے ہیں۔برصغیر کے نقشے میں مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ ملک کی ضرورت اور اہمیت پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔آج بھارت میں مسلمانوں کی جو حالت ہے اس کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں بسنے والے یقینا اس جدوجہد کا احساس کرینگے اور ان مشکلات اور قربانیوں کو یاد رکھیں گے جو ان کے آباؤ اجداد نے وطن کی آزادی کے لئے دی ہیں آج بھارت میں مسلمانوں کی زندگی غیرمحفوظ ہے اور انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے اتنا تنگ کیا جاتا ہے کہ ان کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے جہاں تک کشمیر کی بات ہے اور وہاں کے باسیوں کو جن مشکلات کا سامنا ہے وہ ایک کھلی حقیقت ہے کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت نے بدلنے کے لئے بھارت نے اسرائیل والی پالیسی اختیار کی اور ہندوؤں کو لا کر مقبوضہ کشمیر میں آباد کیا جا رہاہے تاکہ خطے کی مسلمان شناخت ختم کی جاسکے۔