چین امریکہ کشیدگیااور مکالمت



چین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کئی محاذوں پر پروان چڑھی ہے اور اس میں بدستور اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک طرف اگر تائیوان جیسے مسئلے پر امریکہ چین کو زچ کرنے میں مصروف ہے تو دوسری طرف ٹیکنالوجی کے اہم ترین شعبوں میں چینی کمپنیوں کو پابندی کا نشانہ بنا کر حساب برابر کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا راستہ بھی کھلاہے اوراس کے کئی سیشن ہوئے ہیں۔واشنگٹن اور بیجنگ دونوں کا کہنا ہے کہ بات چیت سود مند رہی اور فریقین نے رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ یہ ملاقات امریکی نائب وزیر خارجہ ڈینیل کرائٹن برِنک اور ان کے ہم منصب ما ژاشو کے مابین ہوئی۔ایسے حالات میں کہ جب چین اور امریکہ دونوں دنیا کے مختلف خطوں میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہیں ، بات چیت سے یہ اشارہ بین الاقوامی برادری کیلئے اطمینان کا باعث ہے کہ دو عالمی طاقتوں کے درمیان جنگ کے خطرات کم ہوئے ہیں۔چینی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی نائب وزیر خارجہ ڈینیل کرائٹن برِنک نے چینی نائب وزیر خارجہ ما ژاشو اور اعلی سفارت کار یانگ تا کے ساتھ گزشتہ روز بیجنگ میں بات چیت کی۔ یہ بات چیت امید افزا رہی اور فریقین نے باہمی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان چینی امریکی تعلقات کو بہتر بنانے کے حوالے سے دو ٹوک، صاف صاف، تعمیری اور موثر انداز 
میں مکالمت ہوئی۔اس سے قبل چین نے اعلیٰ امریکی عہدیداروں کے تائیوان کے دورے پر آنے کے نتیجے میں انتہائی اقدام کی دھمکی دی تھی اور جواب میں امریکہ نے بھی چین کے خلاف سفارتی جنگ تیز کی تھی تاہم اب معاملات کو مذاکرات کی میز پر حل کرنے کاعمل شروع کر دیا گیا ہے۔چین حکام کے مطابق فریقین نے گزشتہ سال نومبر میں بالی میٹنگ میں دونوں ملکوں کے سربراہان مملکت کے مابین ہونے والے اتفاق رائے کے مطابق باہمی اختلافات کو مناسب طریقے سے دور کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔کشیدگی کے عروج کے دور میںکسی سینئر امریکی سفارت کار کا چین کا یہ دورہ غیر معمولی تھا اور یہ بات چیت ایسے وقت پر ہوئی جب امریکہ اپنی حریف طاقتوں کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔حالیہ ملاقات بحیرہ جنوبی چین نیز تائیوان اور دیگر معاملات پر دونوں طاقتوں کے درمیان جاری تنا ﺅکے پس منظر میں ہوئی ۔یہاں یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ چین اس وقت پوری طاقت کے ساتھ عالمی منظر نامے پر اپنی موجودگی اوراثر رسوخ کا مظاہرہ کررہا ہے اور جہاں ایک طرف اس نے مشرق وسطیٰ میں ممالک کے درمیان تنازعات کو ختم کرنے میں اہم کامیابی حاصل کی ہے وہاں گزشتہ دنوں وسطی ایشیائی ممالک کے ایک سربراہی اجلا س کا انعقاد بھی چین میں ہوا ۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بالاخر امریکہ کو بھی چین کی طاقت اور اہمیت کو تسلیم کرنے کے سوا دوسرا راستہ نہیں رہے گا۔ اور امریکہ کے اعلیٰ ترین عہدیدار کا دورہ چین اس کا اظہار ہے کہ اب امریکہ نے چین کے ساتھ طاقت کی بجائے مذاکرات کی زبان میں بات کرنے کاتہیہ کیا ہوا ہے اور یہ عالمی برادری کے لئے باعث اطمینان ہے کیونکہ دونوں ممالک کی چپقلش سے ترقی پذیر ممالک کو معاشی نقصانات کا سامنا تھا۔