پشاور: کروڑوں کی غیر ملکی کرنسی برآمد، چوک یادگارمارکیٹ سیل

خیبر پختونخوا میں فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی(FIA) نے لاء انفورسمنٹ ایجنسز کے ہمراہ پشاور سمیت دیگر شہروں میں ڈالرز اور دیگر غیر ملکی کرنسی کے غیر قانونی کاروبار اور سمگلنگ میں ملوث مافیا کے خلاف کریک ڈاٶن شروع کردیا ہے۔

جمعرات کے روز ایک کاررواٸی میں ایف اٸی اے نے مقامی پولیس کے ہمراہ پشاور کے غیرملکی کرنسی کے مشہور مارکیٹ چوک یادگار میں 200 دکانوں کو سیل کردیا ہے۔

ذراٸع کے مطابق ایف اٸی اے نے گزشتہ چند دنوں میں پشاور اور صوبے کے دیگر شہروں میں مختلف کاررواٸیوں میں درجنوں افراد کو ڈالرز اور غیر ملکی کرنسی کے کاروبار میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر گرفتار کرکے ان سے ریکوری کی ہے۔

ایف اٸی اے کمرشل بینکنگ سرکل پشاور کے حکام کے مطابق ایف اٸی اے نے پولیس کے تعاون سے 15اگست سے 2ستمبر تک مختلف کاررواٸیوں میں ڈالرز اور حوالہ ہنڈی کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے ان سے 100 ملین روپے مالیت کی غیر ملکی کرنسی اور ڈالرز برامد کٸے ہیں۔

ایف اٸی اے کمرشل بینکنگ سرکل پشاور کے ڈیٹا کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں کے پی میں ڈالرز مافیا سے 1ارب 71کروڑ روپے مالیت کے ڈالرز اوردیگر غیر ملکی کرنسی برامد کرکے 547افراد گرفتار کٸے ہیں۔

ایف اٸی اے کمرشل بینکنگ سرکل پشاور کے ڈپٹی ڈاٸریکٹر افضل خان نیازی نے ہم نیوز انگلش کو بتایا کہ کےپی میں غیر ملکی کرنسی کے غیرقانونی کاروبار کے زیادہ تر کیسز کا تعلق مڈل ایسٹ افغانستان اور دبٸی سے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ڈالرز کی زیادہ تر سمگلنگ افغانستان کو ہوتی ہے طورخم بارڈر پر FIA کا کردار صرف امیگریشن تک ہے جب کہ بارڈر پر ڈالرز کی سمگلنگ روکنے کا کام کسٹم ڈیپارٹمنٹ کا ہے۔