انقلاب فرانس کے چند پہلو


انقلاب فرانس کے ضمن میں آپ نے وہ قصہ تو ضرور پڑھا ہوگا کہ اس کے حکمران اپنے ملک کے عام آدمی کی مالی طور پر حالت زار سے اتنے لاتعلق اور بے حس ہو گئے تھے کہ جب انہوں نے ایک دن اپنے محل کی بالکونی سے ایک ہجوم کو محل کی طرف شور مچاتے آتے دیکھ کر اپنے ملازمین سے پوچھا کہ وہ شور کیوں مچا رہے ہیں اور جب انہیں یہ بتایا گیا کہ ان کے پاس کھانے کو روٹی نہیں ہے اور وہ روٹی مانگ رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اگر ان کو روٹی نہیں مل رہی تو انہیں کہہ دو کہ وہ کیک کھا لیں‘ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اپنے آپ سے ہم سب کو یہ سوال کرنا ہوگا کہ کیا وطن عزیز کے عام آدمی کے مالی حالات بھی آج کل انقلاب فرانس سے پہلے والے فرانس کے حالات کی طرح نہیں جا رہے؟ انقلاب فرانس کیوں برپا ہوا؟ تیسری دنیا کے عوامی حلقوں اور پولٹیکل سائنس کے طلباء میں انقلاب فرانس پر اکثر بحث و مباحث ہوتی رہتی ہے‘آئیے ہم آج اپنے کالم میں اس کے محرکات پر ایک تفصیلی نگاہ ڈالیں اور اس کی اصلی وجوہات پر سے پردہ اٹھائیں اس کالم میں ہم ان سرکردہ فلسفیوں کا بھی تذکرہ کریں گے جو اپنی تحریروں سے ان انقلابیوں کو تیار کرتے رہے جنہوں نے پھر اس انقلاب کو بپا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا قارئین کو البتہ یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جب بھی کسی معاشرے میں بھوک اور ننگ حد سے زیادہ بڑھ جائے تو پھر اس معاشرے میں کسی نہ کسی دن وہ حالات پیدا ہو جاتے ہیں جو انقلاب کا موجب بن جاتے ہیں  آج وطن عزیز کے محب وطن لوگوں کو خدشہ ہے کہ کہیں لاوا پھٹ کر ملک کے امن عامہ کو تاراج نہ کردے‘ روسو نامی دانشور کو انقلاب فرانس کا نقیب کہا جاتاہے وہ ذاتی ملکیت کا سخت دشمن تھااسی طرح وہ جاگیرداری کا بھی دشمن تھا اس کے نزدیک تمام برائیوں کی جڑ ذاتی ملکیت بالخصوص زمین کی ذاتی ملکیت ہے وہ زمین اور دوسری تمام چیزوں کو پورے معاشرے کی مشترکہ ملکیت پسند کرتا تھا جیسا کہ انسان کے ابتدائی دور میں تھا اس کے خیال میں قانون دراصل صاحب املاک کے ھاتھوں میں ایک حربہ ہے جس کی مدد سے یہ لوگ اپنے آپ کو بن پونجی والوں سے بچاتے ہیں روسو کی کتاب معاہدہ عمرانی جو 1762 ء میں چھپی پر یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ روسو سے پہلے بھی برطانیہ کے سیاسی مفکرین ہابس اور لاک اس قسم کا نظریہ پیش کر چکے تھے اسی ضمن میں ایک اور سیاسی مفکر جس کا نام مابلی تھاکا ذکر بھی ضروری ہے کہ جسکی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ 18ویں صدی میں اس کی تحریریں چار ایڈیشنوں میں شائع ہوئیں اور ہاتھوں ہاتھ بک گئیں ان سیاسی مفکرین کی رائے میں ابتدائی انسان نہایت معصوم تھا،غرور نفرت عداوت فساد سے پاک وہ بڑی سادہ زندگی گزار رہا تھا نہ غم امروز نہ فکر فردا‘ نہ کوئی کسی کاآقااور نہ کوئی کسی کا محکوم تھا پر مساوات کایہ دور ذاتی ملکیت کے ہاتھوں برباد ہو گیا‘قناعت اور توکل کی جگہ نفع خوری اور مفاد پرستی نے غلبہ پایا ایک طرف مسابقت اور رقابت اور دوسری طرف مفاد کی ٹکر اور پھر چھپی ہوئی خواہش کہ دوسروں کی محنت سے فائدہ اٹھا یا جائے یہ تمام برائیاں ملکیت کا پہلا پھل ہیں‘ رفیق مابلی اور روسو نے انقلاب فرانس کے لئے ذہنی فضا تیار کی لیکن یہ دونوں انقلاب کے وقت زندہ نہ تھے اس مرحلے پر اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ انقلاب فرانس سے پہلے نا انصافی کا سبب بادشاہوں جاگیرداروں اور نوابوں کی لوٹ کھسوٹ تھی انقلاب کے بعد یہ منصب سرمایہ داروں نے سنبھال لیا‘اس صورت حال کے خلاف بعض فلسفیوں نے زبردست مہم شروع کی اور اعلان کیا کہ انقلاب نامکمل رہا ہے ان کو اس وقت کے حکمرانوں نے گرفتار کر کے ان میں سے کئی افراد کے سر قلم کر دئیے‘اس مرحلے پر اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ مابلی اور روسو کے روحانی شاگرد بائیو نے انقلاب فرانس کی حمایت بڑی شدو مد سے کی تھی لیکن انقلاب کی جیت ہوئی تو ریاست پر سرمایہ دار طبقہ قابض ہو گیا۔