مچھلی کھائیے اور آلودگی سے ہونے والے دماغی نقصان سے بچیے

 اگر آپ فضائی آلودگی سے بچنے کے لیے مہنگے ترین فلٹر خرید رہے ہیں تو اچھی بات ہے لیکن قدرت نے جسم کو آلودگی کے نقصان سے بچانے کے لیے بھی ایک انتظام کررکھا ہے جو تیل دار مچھلیوں کی صورت میں موجود ہے۔

اب ایک تفصیلی سروے سے معلوم ہوا ہے کہ اگر باقاعدگی سے سامن، سرمئی اور دیگر چکنے گوشت والی مچھلیاں کھائی جائیں تو بالخصوص بزرگوں کے دماغ کو فضائی آلودگی سے ہونے والے نقصان سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ اس کی تفصیلات جنرل آف نیورولوجی کی تازہ اشاعت میں شامل کی گئی ہیں۔


 
اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام تیل والی مچھلیوں میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی بہتات ہوتی ہے اور جو ایک جانب تو دل کو توانا رکھتے ہیں، دوسری جانب جسم کی اندرونی سوزش کو کم کرتے ہیں اور دماغ میں جمع ہونے والے فاسد مواد کو نکال باہر کرتےہیں۔ اگر فضا میں پارے اور سیسے کی مقدار سے دماغ کو نقصان ہورہا ہے تو اومیگا تھری فیٹی ایسڈ اس کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ تحقیق کولمبیا یونیورسٹی میں زچگی کی ماہر ڈاکٹر کا کاہے اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے۔ ان کے مطابق دماغ میں جمع ہونے والے زہریلے مواد کو اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے اچھی طرح ختم کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح غذا اور دماغی صحت کے درمیان ایک گہرا تعلق دریافت ہوا ہے۔


 
فضائی آلودگی میں بھاری دھاتوں سمیت لاتعداد زہریلے مرکبات پائے جاتے ہیں۔ اس مطالعے میں 70 سال سے زائد عمر کی خواتین کے علاقوں میں فضائی آلودگی اور غذا کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ماہرین یہ جان کر حیران رہ گئے کہ جن خواتین کے جسم میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی مقدار کم تھی ان کا دماغ دیگر خواتین کے مقابلے میں زیادہ سکڑا ہوا تھا۔

مزید تحقیق کے دوران ماہرین نے ہر خاتون کی جانب سے ہفتہ وار مچھلی کھانے کی مقدار، خون میں فیٹی ایسڈ کی مقدار اور ان کے گھروں کی اطراف فضائی آلودگی کا جائزہ بھی لیا۔ یہ عمل مسلسل تین سال تک جاری رکھا گیا۔ اس کے بعد درمیان میں تمام شرکا کے دماغ کے اسکین لیے جاتے رہے جس میں بالخصوص ہیپوکیمپس کو نوٹ کیا گیا۔ یہ علاقہ ہماری یادداشت کا گڑھ ہوتا ہے اور اس میں موجود سفید مادہ دماغی سگنل بھیجنے اور وصول کرنے کا کام کرتا ہے۔

معلوم ہوا کہ مچھلی کھانے سے دماغ میں سفید مادے (وائٹ میٹر) کی مقدار برقرار رہی جو فضائی آلودگی کے تباہ کن اثرات کو روکنے میں مددگار تھی۔

اس لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ دماغی صحت اور غذا کے درمیان گہرا تعلق ہے اور یوں تیل دار مچھلیاں دماغی کو ہوائی آلودگی کے زہریلے اثرات سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔