خلاقیات کا فقدان

ا
آج کل کے دور میں راتوں رات کروڑوں اور اربوں روپے پیدا کرنے کی دوڑ میں ہم سب ایسی اخلاق سوز حرکات کے مرتکب ہو رہے ہیں کہ جو ہمیں تباہی کی طرف دھکیل رہی ہیں اور ہماری جوان سال نسل پر نہایت ہی منفی اثرات بھی چھوڑ رہی ہیں۔ 8 فروری کے عام انتخابات کے بعد مرکز اور صوبوں میں حکومت سازی کے تمام مراحل تقریباً مکمل ہو چکے ہیں تاہم دھاندلی اور مینڈیٹ چوری کے الزامات کی بازگشت ابھی ختم نہیں ہوئی‘یہ کوئی نئی بات نہیں کیوںکہ ہماری پارلیمانی تاریخ میں ایک آدھ الیکشن کے ایسے کوئی عام انتخابات نہیں آئے کہ جس میں ہارنے والوں نے اخلاقی طور پر خندہ پیشانی سے اپنی شکست تسلیم کی ہو‘ایسی الزام تراشیاں اسی صورت ختم ہو سکتی ہیں کہ نئے حکمران اپوزیشن کی مشاورت سے ایسی قانون سازی کریں کہ مستقبل میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ہر قسم کا الیکشن کروایا جائے ‘ الیکٹرانک ووٹنگ مشین بھی اسی طرح جھوٹ نہیں بولتی کہ جس طرح کیمرے کی آ نکھ نہیں بولتی‘ اگر دنیا کے کئی ممالک اس مشین سے استفادہ کر رہے ہیں تو ہم آخر کیوں ایسا نہیں کر سکتے ؟گو کہ ہر چیز میں کیڑے نکالنے والے اس مشین میں بھی ضرور کیڑے نکالیں گے‘ پر اگر اس مشین کو پہلے تجرباتی طور پر آج کے بعد ملک میں ہونے والے ہر الیکشن میں خصوصاً ضمنی الیکشن میں استعمال کرنا شروع کر دیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہوگا کیونکہ اگر اس میں بھی کوئی گڑ بڑدکھائی دیتی ہے تو ماہرین اس کا حل بروقت نکال سکیں گے ‘کم از کم آئندہ جو بھی الیکشن ہوں وہ تو اس مشین کے ذریعے ہو سکیں۔ تو بات ہم نے شروع کی تھی اخلاقیات کے فقدان کی کہ جو ہمارے ماہرین تعلیم کی خصوصی توجہ کی محتاج ہے ‘تعلیم ضروری چیز ہے پر اخلاقی تربیت کے بغیر یہ بھی بے سود ہے۔ یہ بات واقعی قابل ستائش ہے کہ جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان میں پہلی بار ایک مرکزی سڑک پر تہنیتی چراغاں کیا جائے گا‘ جرمن میں مسلم کمیونٹی نے اس پرخوشی کا اظہار کیا ہے ‘اس اقدام کا مقصد امن و محبت کا پیغام دینا ہے۔ اس سڑک پر ہلال، ستارے اور دیگر ڈیکوریشن سے جڑی چیزیں آویزاں کیجا رہی ہیں‘ میڈیا کے
 مطابق اس شہر کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے‘ دس مارچ سے نو اپریل تک یہ چراغاں فرینکفرٹ کی جس سڑک پر کیا جائے گا‘یہ علاقہ پیدل چلنے کے لئے مخصوص ہے اور وہاں مختلف کیفے اور ریستوران ہیں‘ وہاں رمضان مبارک کے پیغام کے ساتھ یہ چراغاں کیا جائے گا۔سٹی کونسل کی چیئرپرسن حلیمہ ارسلانر کا کہنا ہے کہ مجھے خوشی ہے کہ ہمارے شہر فرینکفرٹ میں رمضان کے دوران امن کے یہ پیغامات عام کئے جائیں گے‘واضح رہے کہ آٹھ لاکھ آبادی کا شہر فرینکفرٹ، برلن، ہیمبرگ، میونخ اور کولون کے بعد جرمنی کا پانچواں سب سے بڑا شہر اور ملک کا مالیاتی مرکز ہے۔ اسے جرمنی کے سب سے زیادہ کثیرالثقافتی مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جہاں کل آبادی کا قریب پندرہ فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے‘فرینکفرٹ کی مسلم کمیٹی کے چیئرمین محمد سیدادی کا کہنا ہے ہم اس چراغاں کا خیرمقدم کرتے ہیں کیوں کہ ہم سب ایک ہیں۔