لوکل گورنمنٹ کے اختیارات

چھوٹے شہر تو درکنار‘آج کل تو اسلام آباد جیسے بڑے بڑے ماڈرن شہروں میں بھی آپ کو سڑکوں اور گلیوں میں آوارہ کتے ٹولیوں کی صورت میں غول در غول پھرتے نظر آئیں گے یہی وجہ ہے کہ سگ گزیدگی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے افسوس ناک بات یہ ہے کہ جو بچے اور بوڑھے مرد اور خواتین سگ گزیدگی کا شکار ہوتے ہیں ان کو rabies کی بیماری سے بچنے کیلئے فوری طور پر ایک ویکسین لگانا ضروری ہوتا ہے ورنہ ان کو اپنا ذہنی توازن کھو دینے کا خطرہ ہوتا ہے اور متعلقہ ویکسین چونکہ سرکاری ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں دستیاب نہیں اس لئے سگ گزیدگی کے شکار افراد کو خود خجل خوار ہو کر اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے ویکسین خریدنا پڑتی ہے‘ آوارہ کتوں کو ٹھکانے لگانا میونسپل کمیٹی یا کابوریشن کی ذمہ داری ہوتی ہے جو وہ نہیں نبھا رہے اسی طرح ابھی چند سال پہلے تک میونسپل کمیٹیاں اور کارپوریشنز شہروں میں نلکوں کے ذریعے صاف اور شفاف پینے کا پانی گھروں اور محلوں میں سپلائی کیا کرتی تھیں جو وہاں رہنے والے بغیر کسی خوف و خطر کے پیا کرتے تھے وہ حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تھا اور اس کے پینے سے شاذ ہی کسی فرد کو پیٹ یا معدے کی بیماری ہوتی ‘ پر جب متعلقہ محکموں نے زیر زمین گٹر کے پائپ بچھانے میں احتیاط نہ برتی تو وہ زیر زمین پینے کے پانی کے پائپ کے ساتھ جب وہ گڈ مڈ ہوتے گئے تو میونسپل اداروں کی طرف سے سپلئہی کئے جانے والے پانی کی شفافیت پر انگلیاں اٹھنے لگیں اور اسی دور میں پھر منرل واٹر کا چلن عام ہوا اور ملک میں لاتعداد شفاف پینے کا پانی سپلائی کرنے والی کمپنیوں کی چاندی ہو گئی ‘ ملک کے میونسپل اداروں کے پاس آ گ بجھانے کا خاطر خواہ سسٹم بھی موجود نہیں ہے فائر بریگیڈ کے منظم سسٹم کا فقدان اور آگ بجھانے والے عملے کی آگ بجھانے کی اہلیت پر بھی کئی سوالیہ نشان اٹھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب بھی شہروں میں آتشزدگی کے واقعات ہوتے ہیں تو میونسپل کمیٹی یا کارپوریشن کو دیگر اداروں مثلاً فوج ‘ائر فورس یا کنٹونمنٹ بورڈ کے فائر بریگیڈز پر آگ بجھانے کے واسطے تکیہ کرنا پڑتا ہے ان حقائق کے پیش نظر ضروری ہو گیا ہے کہ ہر میونسپل کمیٹی اور کارپوریشن اپنے اپنے فائر بریگیڈ سسٹم کو جدید بنیادوں پر استوار کریں اور آگ بجھانے کیلئے ٹرینڈ عملہ چوبیس گھنٹے چوکس اور مستعد رہے جو فوری طور اگ لگنے والی جگہ پر پہنچ سکے پر یہ سب کچھ تب ہی ممکن ہے کہ جب لوکل گورنمنٹ کو صحیح معنوں میں خود مختار کر دیا جائے ۔