گمنام ہیرو

پنجاب پولیس کی اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ سیدہ شہربانو نقوی نے ایک ایسا قابل تعریف کام کیا ہے جس پر انہیں اندرون و بیرون ملک سے سراہا جا رہا ہے۔ گزشتہ ماہ اچھرہ بازار میں پیش آنے والا ڈرامائی واقعہ ختم ہو چکا ہے لیکن جو سبق سیکھا گیا ہے وہ طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ یہ فخر محسوس کرنے کا ایک خاص لمحہ ہے کیونکہ بروقت کاروائی نے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا۔ یہ واقعہ اسلئے اہم ہے کیونکہ ایک عورت کی جان بچائی گئی تھی۔ جائے وقوعہ کے کلپس میں خاتون اے ایس پی شہربانو نقوی کی بہادری کو اجاگر کیا گیا ہے جنہوں نے برق رفتاری سے مشتعل ہجوم میں سے اپنا راستہ نکالنے میں کامیابی حاصل کی‘ ٹھوس منطق کے ساتھ بات چیت کی اور متاثرہ خاتون کو ہجوم کے نرغے سے بحفاظت باہر نکالا۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ان کی بہادری کا فوری اعتراف ہوا اور قومی و صوبائی قیادت نے بھی اعزازات کے ذریعے سراہا۔ یہ واقعہ اس لئے بھی توجہ کا مرکز بنا کیونکہ مردوں کے غلبے والے معاشرے میں خواتین کے کارناموں کو عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور خواتین کی کم سے کم تعریف کی جاتی ہے‘ تاہم اس واقعہ میں دیگر گمنام ہیرو بھی ہیں جو اعتراف کے مستحق ہیں اور جن کے بارے میں کسی کی توجہ نہیں۔ جانسن طارق‘ وہ 
دکاندار ہے جس نے اپنی چھوٹی سی دکان میں متاثرہ خاتون کی حفاظت کی۔ نعرے لگانے والے ہجوم کو خاتون سے دور رکھنے کیلئے دکان کا دروازہ بند کر دیا۔ ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے پولیس کو فون کیا اور پولیس کے آنے تک حالات کو قابو میں رکھا۔ خطرہ یہ تھا کہ دکاندار کو بھی ہجوم مار مار کر قتل کر دے لیکن اس نے اپنی جان کی پرواہ نہیں کی‘ اسے بھی اعزاز‘ عزت اور کریڈٹ ملنا چاہئے۔ وہ نہ تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کا رکن تھا‘ نہ اس قسم کی صورتحال کو معمول پر لانے کیلئے تربیت یافتہ تھا لیکن اس کی بہادری غیر متزلزل رہی۔ ان کی کال اور پولیس کی آمد کے درمیان کا وقفہ درحقیقت اس کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط تھے۔ عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے دکاندار کی یہ بہادری متاثر کن ہے‘ اس نے اپنے ضمیر کی پکار پر لبیک کہا اور اپنے کاروبار اور زندگی کی پرواہ نہیں کی۔ ہم میں سے کتنے ایسے لوگ ہوں گے جو دوسروں کی زندگیاں بچانے کی کوشش کرنے کیلئے اتنا بڑا خطرہ مول لینے کی ہمت کر سکتے ہیں؟ جب پولیس کی اعلیٰ اہلکار (اے ایس پی) اخبارات اور ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز تھی تو جانسن نامعلوم کردار تھا۔ اس کی کہانی سوشل میڈیا پر ایک بلاگر کے ذریعے سامنے آئی تھی۔ اگر کوئی غلط رپورٹنگ ہے تو ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے میں تعصب کے بجائے جہالت کی وجہ سے ہے۔ ایک عیسائی نے ایک مسلمان خاتون کو بچانے کیلئے اپنی جان خطرے میں ڈال دی‘ یہ ایک ایسی بہادری ہے جسے قومی سطح پر اعلیٰ سطح پر سراہا جانا چاہئے۔اگر قائد اعظم پولیس میڈل اس اے ایس پی کیلئے تجویز کیا جاتا ہے جو جانسن کی بہادری کیلئے سویلین میڈل سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ مکمل بہادری‘ انسانی ہمدردی اور بین المذاہب ہم آہنگی کی عکاسی کی کہانی ہے جسے اجاگر کیا جانا چاہئے۔ اے ایس پی کو اس منظر نامے کے مرکز تک پہنچنے اور صورتحال پر قابو پانے کا سہرا جاتا ہے‘ اس واقعے میں دراصل ایک سے زیادہ نجات دہندہ موجود تھے اور سبھی اپنے اعتراف اور انعام کے مستحق تھے‘ یہ ایک واقعہ مجموعی طور پر معاشرے کیلئے کچھ سبق رکھتا ہے۔ سب سے پہلے‘ مقام‘ طاقت اور سماجی حیثیت سے 
قطع نظر‘ کریڈٹ وہیں دیا جانا چاہئے جہاں اس کا حق ہے‘ مثال کے طور پر ایک کسٹم افسر اپنے انسپکٹروں کی ٹیم کے بغیر ممنوعہ اشیاءضبط نہیں کر سکتا اور ڈیوٹی چوری کا پتہ نہیں لگا سکتا۔ ایک پولیس افسر اپنے ڈی ایس پی / اے ایس آئی کی مدد کے بغیر جرم کا سراغ نہیں لگا سکتا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں تنظیمی اہداف کے حصول کیلئے ٹیم کریڈٹ کی اجازت دینے اور شفافیت ‘ درستگی اور شمولیت کے اصولوں کو برقرار رکھنے کیلئے اصلاحی کاروائی کی ضرورت ہوتی ہے‘ اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ سب کو منصفانہ شناخت ملے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جس طرح اے ایس پی کو پیش کیا گیا ہے وہ معمول بن جانا چاہئے اور ہر ادارے اور ادارے کو اعلیٰ کامیابیاں حاصل کرنے والوں اور ان کے غیر معمولی کارناموں کی تعریف کرنی چاہئے۔ خواتین کو مرکزی دھارے میں لانے کیلئے اعلیٰ درجے کی تعریف اور کوشش کی ضرورت ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ خواتین کی کمزوری کو موثر قانون سازی کے ذریعے دور کرنے کی ضرورت ہے۔ خواتین کو عوامی مقامات پر اور اپنے کام کی جگہوں پر واضح ہراسانی اور امتیازی سلوک کے واقعات سے محفوظ محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ (بشکریہ دی نیوز۔ تحریر بلیم رمضان۔ ترجمہ ابوالحسن امام)